Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے خاتمہ سے برآمدات اور مینوفیکچرنگ میں تیزی متوقع

Updated: June 16, 2026, 11:49 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستان نے راحت کا سانس لیا،غیر یقینی صورتحال، معاشی سست روی ،غیر ضروری مشکلات ، روپے پر دباؤ اور افراط زر کے خطرات کے کم ہونے کی امید۔

Industrialists Hope For A Pick-Up In Manufacturing After The War Ends.Photo:INN
صنعتکاروں کو جنگ بند ہونے کے بعد مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں تیزی آنے کی امید ہے۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان۱۰۷؍ روزہ تنازع کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے اعلان سے ہندوستان  نے راحت کا سانس لیا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ جنگ بندی سے ہندوستان کی مغربی ایشیا کیلئے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور  مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں تیزی آئےگی۔اس کے ساتھ ہی  روپے کو استحکام ملنے کی کی بھی امید ہے۔ برآمد کنندگان اور ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں تجارت کیلئےزیادہ سازگار ماحول پیدا ہوگا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر۱۹؍جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔ اس جنگ کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی، خام تیل کی قیمتیں۱۰۰؍ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئیں اور مشرق وسطیٰ وسیع تر علاقائی تنازع کے دہانے پر آ گیا ہے۔ ہندوستان، جو خام تیل، ایل پی جی اور ایل این جی کی ضروریات کیلئے بڑی حد تک مغربی ایشیا پر انحصار کرتا ہے، اس معاہدے کے ذریعے توانائی کی بلند قیمتوں، روپے پر دباؤ اور افراط زر کے خطرات سے راحت حاصل کر سکتا ہے۔ گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کے مطابق جنگ کے دوران یہ مسائل مزید شدت اختیار کر گئے تھے۔
جی ٹی آر آئی کے بانی اجے سریواستو نے نشاندہی کی کہ اس تنازع نے  مغربی ایشیا پر ہندوستان کے  انحصار کو بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ  ہم اپنی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً۵۰؍فیصد، ایل  پی جی کی  ۷۰؍ فیصد اور ایل این جی کی تقریباً۹۰؍ فیصد ضروریات اسی خطے سے پوری کرتے ہیں۔ ایران جنگ چھڑنے کے بعد آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی وجہ سے بحری نقل و حمل میں رکاوٹ  نے ہندوستان کا ایندھن کا درآمدی بل بڑھا دیا ہے، افراط زر کے خطرات میں اضافہ ہوا، روپیہ کمزور پڑا اور ریفائنریوں کو دور دراز منڈیوں سے متبادل سپلائی حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اجے سریواستو کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے توانائی کی عالمی منڈیاں مستحکم ہوں گی، تیل اور گیس کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا، روپیہ مضبوط ہوگا نیز ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے امکانات بہتر ہوں گے۔
ممبئی میں قائم ٹیکنوکرافٹ انڈسٹریز انڈیا کے بانی چیئرمین شرد کمارصراف نے کہا کہ اس اعلان سے غیر یقینی صورتحال، معاشی سست روی اور غیر ضروری مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔ان کے مطابق جنگ اور کشیدگی کے خاتمے سے نہ صرف ہندوستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ نئے کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے، جبکہ ’’وکست بھارت‘‘ کے ہدف کی سمت  آئندہ دو سے تین سال میںپیش رفت مزید تیز ہوگی۔
 
 
 
فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (فیو) کے صدر ایس سی رالہن نے  بھی امید ظاہر کی  ہے کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی سے توانائی کی عالمی سپلائی معمول پر آئے گی اور قیمتوں میں اعتدال پیدا ہوگا۔ انہوں نے  اس بات کی تائید کی کہ  اس سے درآمدی بل پر دباؤ کم ہوگا، برآمدات معمول پر آئیں گی، روپے کو استحکام ملے گا، مہنگائی کے خدشات میں کمی آئے گی اور تجارت و اقتصادی ترقی کیلئے بہتر ماحول پیدا ہوگا۔
  ایران جنگ  کے  نتیجے میں مارچ میں  ہندوستان کی مجموعی برآمدات میں گزشتہ ۵؍ماہ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ۷ء۴۴؍ فیصد کم ہو کر۳۸ء۹۲؍ ارب ڈالر رہ گئیں۔مغربی ایشیا کو ہندوستان کی برآمدات مارچ میں ۵۷ء۹۵؍فیصد کم ہو کر۳ء۵؍ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ خلیجی ممالک سے درآمدات میں۵۱ء۶۴؍فیصد کی کمی آئی۔ عام حالات میں   ہندوستان  اس خطے کو تقریباً۶؍ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔
 
 
 
۲۵-۲۰۲۴ء میں خلیجی ممالک کو ہندوستان کی برآمدات تقریباً  ایک فیصد بڑھ کر۵۷؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جبکہ اس   سے ایک سال قبل یہ۵۶ء۳۲؍ارب ڈالر تھیں۔ اسی عرصے میں درآمدات۱۵ء۳۳؍ فیصد اضافے کے ساتھ۲۱۲ء۷؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔مالی سال۲۶-۲۰۲۵ء میں متحدہ عرب امارات  ہندوستان  کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا۔ اس ملک کو ہندوستان کی کی برآمدات تقریباً۲؍ فیصد بڑھ کر۳۷ء۴؍ ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ درآمدات۰ء۷۸؍فیصد اضافے کے ساتھ۶۳ء۹؍ارب ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں۲۶ء۵۳؍ ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK