Updated: February 23, 2026, 6:03 PM IST
| Colombo
ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سپر ایٹ مرحلے میں ایک دلچسپ مقابلہ متوقع ہے، جہاں دفاعی چیمپئن انگلینڈ کا جارحانہ بیٹنگ اسٹائل پاکستان کے اسپن اٹیک کے سامنے ہوگا۔ پالی کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ میں دونوں ٹیمیں سیمی فائنل کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم۔ تصویر:آئی این این
ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سپر ایٹ مرحلے میں منگل کے روز ایک دلچسپ مقابلہ متوقع ہے، جہاں دفاعی چیمپئن انگلینڈ کا جارحانہ بیٹنگ اسٹائل پاکستان کے اسپن اٹیک کے سامنے ہوگا۔ پالی کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ میں دونوں ٹیمیں سیمی فائنل کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
انگلینڈ کی ٹیم گزشتہ میچ میں شاندار کارکردگی کے بعد بلند حوصلوں کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انگلش بیٹنگ کا سارا دارومدار فلپ سالٹ اور جوس بٹلر پر ہے جو پاور پلے کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نوجوان جیکب بیتھل ۱۳۳؍ کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ٹیم کے سب سے مستقل مزاج بلے باز ثابت ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کی النصر کے کھلاڑیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، رمضان کے روزے رکھے
بولنگ میں جوفرا آرچر کی رفتار اور عادل رشید کا اسپن کنٹرول پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ گزشتہ میچ میں انگلش اسپنرز نے اسی میدان پر۷؍ وکٹ حاصل کئے تھے، جو پاکستان کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اب تک بہترین فارم میں رہی ہے اور اپنے چار گروپ میچوں میں سے تین جیت چکی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ان کا اسپن اٹیک ہے، جس میں عثمان طارق۸۲ء۵؍ کے اکانومی ریٹ کے ساتھ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستان میچ کے دوران ۱۶؍ سے ۱۸؍ اوورز اسپنرز سے کروائے گا۔
بیٹنگ میں پاکستان کا انحصار صاحبزادہ فرحان پر ہے، جنہوں نے ۴؍ میچوں میں ۱۶۴؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے ۲۲۰؍ رنز بنائے ہیں۔ مڈل آرڈر میں بابر اعظم اور فخر زمان کے تجربے سے ٹیم کو استحکام ملنے کی امید ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ تنازع: پرکاش راج نے فش، بیف، پورک اور ویج پکوان شیئر کئے
پالی کیلے کی پچ متوازن رہنے کی توقع ہے، تاہم میچ کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی اسپنرز کو مدد ملنا شروع ہو جائے گی۔ یہاں پہلی اننگز کا اوسط اسکور ۱۵۰؍ سے ۱۷۰؍ کے درمیان رہتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ٹورنامنٹ میں برقرار رہنے کے لیے پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو ۱۷۵؍ سے ۱۸۵؍ رنز کا ہدف دینا ہوگا۔ شام کے وقت بادلوں اور حبس کی وجہ سے ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم کو مضبوط شراکت داریوں کی ضرورت ہوگی۔