آئی او ایس اور اینڈرائیڈ کے لیے میسنجر موبائل ایپ مکمل طور پر فعال رہے گا اور اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جس سے صارفین اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس پر حسبِ معمول گفتگو جاری رکھ سکیں گے۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 3:57 PM IST | New York
آئی او ایس اور اینڈرائیڈ کے لیے میسنجر موبائل ایپ مکمل طور پر فعال رہے گا اور اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جس سے صارفین اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس پر حسبِ معمول گفتگو جاری رکھ سکیں گے۔
کرتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے افسوسناک ہے۔ میٹا پلیٹ فارمز، جو فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپریل ۲۰۲۶ء سے میسنجر کی علیحدہ ویب سائٹ (messenger.com) بند کر دے گی۔ اس کے بعد جو صارفین اس سائٹ تک رسائی کی کوشش کریں گے، انہیں خودکار طور پر فیس بک کے میسجنگ انٹرفیس (facebook.com/messages) پر منتقل کر دیا جائے گا تاکہ وہ ویب کے ذریعے چیٹنگ جاری رکھ سکیں۔ یہ تبدیلی کمپنی کی جانب سے اپنی میسجنگ سروسز کو سادہ بنانے اور پلیٹ فارمز کو یکجا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
میسنجر ایپ برقرار رہے گی، تبدیلی صرف ویب سائٹ کے لیے
جو صارفین موبائل پر فیس بک میسنجر استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے اچھی خبر ہے۔ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ کی میسنجر موبائل ایپ مکمل طور پر کام کرتی رہے گی اور اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ صارفین اپنی گفتگو اسمارٹ فون اور ٹیبلٹس پر معمول کے مطابق جاری رکھ سکیں گے۔ میٹا نے واضح کیا ہے کہ چیٹ ہسٹری محفوظ رہے گی اور صارفین محفوظ بیک اپ پِن کے ذریعے اپنی گفتگو بحال کر سکیں گے۔ اگر کوئی صارف اپنا پِن بھول جائے تو وہ ایپ کے ریکوری پراسس کے ذریعے اسے دوبارہ سیٹ کر سکتا ہے۔
میٹا کی سوشل پلیٹ فارمز کو یکجا کرنے کی حکمت عملی
میسنجر کے ویب ورژن کو یکجا کرنے کا فیصلہ اس سے پہلے کیے گئے اقدام کے بعد آیا ہے، جب میٹا نے ۲۰۲۵ء کے آخر میں ونڈوز اور میک کے لیے میسنجر کی علیحدہ ڈیسک ٹاپ ایپس بھی بند کر دی تھیں اور صارفین کو فیس بک کے ویب انٹرفیس کی طرف منتقل کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ ۲۰۱۰ء کی دہائی کی اس حکمت عملی کے برعکس ہے، جب ۲۰۱۴ء میں میسنجر کو مرکزی فیس بک ایپ سے الگ کر کے اسے ایک آزاد میسجنگ پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ میسنجر کو اصل میں ۲۰۰۸ء میں فیس بک چیٹ کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا اور ۲۰۱۱ء میں اسے ایک علیحدہ ایپ بنا دیا گیا تھا، جو مختلف پلیٹ فارمز پر رابطے کے لیے میٹا کی بڑی کوشش سمجھی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:وزیراعظم مودی کی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے ساتھ اے آئی میٹنگ
۲۰۲۳ء سے میٹا نے میسنجر کی متعدد خصوصیات کو دوبارہ مرکزی فیس بک تجربے میں شامل کرنا شروع کر دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے پورے ایکو سسٹم کو یکجا کرنے کی وسیع حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ انسٹاگرام ڈی ایم کے ذریعے بھی میسجنگ سروسز کو زیادہ مربوط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، اس لیے فیس بک میسجنگ سروس کو مزید مربوط بنانا منطقی قدم سمجھا جا رہا ہے۔مزید برآں، میٹا واٹس ایپ کو بھی ایک علیحدہ میسجنگ سروس کے طور پر مختلف پلیٹ فارمز پر فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سپراسٹار یش کی فلم ’’ٹاکسک‘‘ کا ٹیزر ریلیز
میٹا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بنیادی میسجنگ سہولیات—جیسے پیغامات بھیجنا، میڈیا شیئر کرنا اور گروپ چیٹس—نئے ویب پلیٹ فارم اور موبائل ایپ پر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔ یہ بندش اپریل ۲۰۲۶ء میں نافذ العمل ہوگی، جس سے صارفین کو نئے نظام کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ایک سال سے زائد کا وقت مل جائے گا۔