• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ون ڈے ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء کے لیے کتنی تیار ہے ٹیم انڈیا؟

Updated: October 08, 2026, 9:05 PM IST | Mumbai

ون ڈے ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اور اگلے سال جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے کی مشترکہ میزبانی میں کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔

Team India.Photo:X
ٹیم انڈیا۔ تصویر:ایکس

ون ڈے ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اور اگلے سال جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے کی مشترکہ میزبانی میں کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔ ہندوستانی ٹیم اپنی مہم کا آغاز ۷؍اکتوبر کو آسٹریلیا کے خلاف کرے گی۔ تاہم عالمی کپ میں ابھی ایک سال باقی ہونے کے باوجود ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے سامنے اسکواڈ سے متعلق کئی اہم سوالات موجود ہیں، جن کے جواب وقت رہتے تلاش کرنا ضروری ہوں گے۔
 ہندوستانی ٹیم میں  شبھ من گل اور روہت شرما  کے اوپننگ کرنے کا امکان مضبوط ہے، لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک کھلاڑی انجری کا شکار ہوتا ہے تو ٹیم کے پاس فی الحال ایسا بیک اپ اوپنر نظر نہیں آتا جس نے ون ڈے کرکٹ میں مسلسل مواقع حاصل کیے ہوں۔  یشسوی جیسوال  کو ون ڈے ٹیم میں منتخب تو کیا جاتا رہا ہے، لیکن انہیں زیادہ تر بینچ پر ہی بیٹھنا پڑا ہے۔ یشسوی نے اب تک اپنے ون ڈے کریئر میں صرف  ۶؍میچ کھیلے ہیں اور رواں سال انہیں صرف ۲؍ ون ڈے میچوں  میں موقع ملا ہے۔اگر ٹیم مینجمنٹ  ایشان کشن کو متبادل اوپنر کے طور پر دیکھ رہی ہے تو ان کے لیے بھی صورت حال زیادہ واضح نہیں۔ ایشان نے ۲۰۲۶ء میں اب تک صرف ۵؍ ون ڈے میچ  کھیلے ہیں۔ حالیہ ویسٹ انڈیز سیریز میں بھی یشسوی جیسوال کو موقع نہیں ملا، جس سے بیک اپ اوپنر کا سوال مزید اہم ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میں بنگلہ دیش مضبوط دعویدار

ہندوستانی ٹیم کے لیے مڈل آرڈر بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں  ایشان کشن  کو ایک میچ میں نمبر چار پر آزمایا گیا، جبکہ دوسرے مقابلے میں  شریاس ایّر کو اس پوزیشن پر اتارا گیا۔ دوسری جانب  کے ایل راہل  کی بیٹنگ پوزیشن بھی مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اب تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کر سکی ہے کہ عالمی کپ میں کون سا بلے باز کس نمبر پر بیٹنگ کرے گا۔ ہندوستان کو ورلڈ کپ سے پہلے اب صرف ۱۱؍ ون ڈے میچ اور ایشیا کپ  کھیلنا ہے، اس لیے مڈل آرڈر کا مستقل امتزاج جلد طے کرنا ضروری ہوگا۔
نچلے آرڈر میں بھی کچھ تشویش موجود ہے۔  واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل  کی حالیہ کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی، جس کے باعث آل راؤنڈرز کے کردار اور نچلے آرڈر کی بیٹنگ کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔  ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء میں ہندوستانی ٹیم کے لیے وکٹ کیپر کون ہوگا، یہ سوال بھی ابھی پوری طرح حل نہیں ہوا ہے۔  کے ایل راہل   عام طور پر ون ڈے کرکٹ میں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری سنبھالتے رہے ہیں، لیکن جنوبی افریقہ کے حالات میں مسلسل وکٹ کیپنگ ان کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب رشبھ پنت  کو ٹیم سے باہر کیے جانے کے بعد یہ اشارہ ضرور ملا ہے کہ شاید وہ موجودہ ٹیم منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔  ایشان کشن  کو بھی ون ڈے کرکٹ میں بطور وکٹ کیپر مسلسل مواقع نہیں مل سکے ہیں۔ ایسے میں سلیکٹرز کو عالمی کپ سے کافی پہلے اس پوزیشن پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ جنوبی افریقہ کی پچز اور موسمی حالات میں تیز گیند بازوں کا کردار انتہائی اہم ہوگا، لیکن ہندوستانی ٹیم کا عالمی کپ کے لیے ممکنہ پیس اٹیک بھی ابھی واضح نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا رینکنگ میں اسپین سرفہرست، پرتگال پانچویں نمبر پر پہنچا

جسپریت بمراہ  نے گزشتہ ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد سے اب تک صرف ۲؍ ون ڈے میچ  کھیلے ہیں۔ حالیہ ویسٹ انڈیز ون ڈے سیریز میں بھی انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایسے میں ان کی فٹنیس، ورک لوڈ اور عالمی کپ سے پہلے ون ڈے کرکٹ میں واپسی پر سلیکٹرز کو خاص توجہ دینا ہوگی۔ پرسیدھ کرشنا  کا بار بار انجری کا شکار ہونا بھی تشویش کا باعث ہے۔  عرشدیپ سنگھ  ٹی۲۰؍ کرکٹ کی طرح ون ڈے فارمیٹ میں اب تک اتنے مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔  گرنور برار  کو تیسرے تیز گیند باز کے طور پر آزمایا جا رہا ہے، لیکن حالیہ ویسٹ انڈیز سیریز میں وہ کافی مہنگے ثابت ہوئے۔ ہرشیت رانا  بھی حالیہ عرصے میں انجریز سے پریشان رہے ہیں، جبکہ بیک اپ آپشنز کے طور پر  محمد سراج اور انشول کمبوج  بھی اب تک کوئی خاص تاثر قائم نہیں کر سکے ہیں۔
 ہندوستانی ٹیم کے پاس ورلڈ کپ ۲۰۲۷ء کی تیاری کے لیے ابھی وقت موجود ہے، لیکن ون ڈے کرکٹ میں محدود میچوں کو دیکھتے ہوئے ہر موقع انتہائی اہم ہوگا۔ اوپننگ میں بیک اپ، مڈل آرڈر کا مستقل امتزاج، وکٹ کیپر کا انتخاب، نچلے آرڈر کی مضبوطی اور تیز گیند بازی کے شعبے میں واضح منصوبہ بندی ایسے اہم معاملات ہیں جن پر ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔ جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں ورلڈ کپ کھیلنا  ہندوستان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ اس لیے صرف بڑے ناموں پر انحصار کرنے کے بجائے مستقل کمبی نیشن، فٹنس، بیک اپ کھلاڑیوں اور حالات کے مطابق متوازن اسکواڈ تیار کرنا ہندوستانی ٹیم کے لیے کامیابی کی کنجی ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK