• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: اسٹارلنک کی منظوری میں تاخیر پر مسک کا سوال: کیا امبانی اصل سربراہ ہیں؟

Updated: October 09, 2026, 12:03 PM IST | New Delhi

اسٹارلنک کو ہندوستان میں خدمات شروع کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایلون مسک نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امبانی ملک کے اصل سربراہ ہیں؟ مسک نے بعض بااثر سرمایہ داروں پر اسٹارلنک کی لانچ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا، جبکہ مرکزی حکومت نے سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے اپنے ضابطہ جاتی نظام کو منصفانہ اور امتیازی سلوک سے پاک قرار دیا ہے۔

Elon Musk. Photo: INN
ایلون مسک۔ تصویر: آئی این این

کھرب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے جمعرات کو اپنے ایکس ہنڈل پر ایک پوسٹ میں یہ سوال کیا کہ ’’کیا امبانی ہندوستان کے اصل سربراہ ہیں؟‘‘ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث کے دوران سامنے آیا کہ ان کے سیٹیلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک اسٹارلنک کو ہندوستان میں خدمات شروع کرنے کی اجازت کیوں نہیں ملی ہے۔ مسک نے سوال کیا، ’’اسٹارلنک کو ۱۶۵؍ سے زائد ممالک میں لائسنس حاصل ہے اور وہ گزشتہ پانچ برس سے ہندوستانی حکومت کے ہر قانون اور تقاضے پر عمل کر رہی ہے، تو پھر اب تک اسے لائسنس کیوں نہیں ملا؟‘‘ واضح رہے کہ  مسک نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ امبانی خاندان کے کس فرد کا حوالہ دے رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایجنسی نے ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ سے اس معاملے پر تبصرہ طلب کیا ہے۔

مسک کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا، ’’ہندوستان میں خوش آمدید، ایلون۔ ذرا انتظار کیجیے، جب آپ کو دوسرے شخص کے بارے میں معلوم ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک

مسک نے ایک دوسرے سوشل میڈیا صارف کے تبصرے کے جواب میں یہ بات کہی تھی۔ اس صارف نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستانی حکومت شہریوں کے بجائے ’’اپنے قریب سمجھے جانے والے سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ‘‘ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ کاروباری شخصیت کا یہ بیان اس کے ایک دن بعد آیا جب انہوں نے ہندوستان میں اسٹارلنک کی شروعات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ’’بعض بااثر سرمایہ داروں‘‘ پر الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد صنعت پر اپنی ’’اجارہ دارانہ گرفت‘‘ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح ہو کہ اسٹارلنک، مسک کی خلائی جہاز بنانے والی کمپنی اسپیس ایکس کے ذریعے زمین کے نچلے مدار میں بھیجے گئے سیٹیلائٹس کے نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اگر ہندوستان میں اس کی خدمات شروع ہوتی ہیں تو اسٹارلنک کو ملک کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں جیو اسپیس ٹیکنالوجی اور یوٹلسٹ ون ویب سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ جیو اسپیس ٹیکنالوجی مکیش امبانی کی قیادت والی ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ مشترکہ منصوبہ ہے، جبکہ یوٹلسٹ ون ویب کو سنل متل کے بھارتی ایئرٹیل گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ مسک نے اپنے زیرِ ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا، ’’آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔ یہ ہندوستان کے عوام کے خلاف جرم ہے!‘‘ وہ ایک ایسی پوسٹ کا جواب دے رہے تھے جس میں ہندوستان میں اسٹارلنک کی خدمات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے ان افراد یا کمپنیوں کے نام نہیں بتائے جن کی جانب وہ اشارہ کر رہے تھے۔ مسک نے یہ بھی کہا کہ اسٹارلنک ان لوگوں کو ’’تیز رفتار اور سستا‘‘ انٹرنیٹ فراہم کرے گی جو موجودہ خدمات کے متحمل نہیں ہو سکتے یا جن کے پاس انٹرنیٹ کنکشن موجود نہیں ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے نان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آکاش امبانی نے بدھ کو مسک کے ابتدائی الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بزنس ٹوڈے نے دہلی میں ایک تقریب کے موقع پر ان سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: آج کی سبزیوں، ترکاریوں میں گزشتہ ۶۰؍ سال کے مقابلے غذائیت نصف سے بھی کم رہ گئیں، مٹی کا معیار وجہ

حکومت نے ضابطہ جاتی نظام کا دفاع کیا

جمعرات کو مرکزی حکومت نے سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے ہندوستان کے ضابطہ جاتی نظام کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’’منصفانہ اور امتیازی سلوک سے پاک‘‘ قرار دیا۔ وزارتِ مواصلات نے اپنے بیان میں مسک یا اسٹارلنک کا نام تو نہیں لیا، تاہم سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی ایک پوسٹ کا حوالہ دیا۔ وزارت نے کہا کہ حکومت نے سیٹیلائٹ مواصلات سمیت تمام ٹیلی کام خدمات کے لیے منظوری کا یکساں نظام قائم کیا ہے اور لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے سیکوریٹی سے متعلق شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے۔ بیان کے مطابق، تین خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس دیے جا چکے ہیں اور وہ ’’مجموعی طور پر ضابطہ جاتی عمل کے تقریباً یکساں مرحلے‘‘ میں ہیں۔ حکومت نے کہا کہ کمپنیوں کو اسپیکٹرم حاصل کرنے کے اگلے مرحلے میں جانے سے پہلے سیکوریٹی سے متعلق تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

ہندوستان کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں مقابلہ

مسک کے بیانات سے چند گھنٹے قبل اسپیس ایکس کی عہدیدار لارین ڈریئر نے امید ظاہر کی تھی کہ اسٹارلنک ۲۰۲۷ء تک ہندوستان میں کام شروع کر دے گی۔ دی ہندو نے اس حوالے سے رپورٹ شائع کی۔ لارین ڈریئر نے بدھ کو بتایا تھا کہ اسٹارلنک نے ہندوستان میں ۲۰؍ گیٹ وے سائٹس قائم کی ہیں۔ یہ وہ آلات اور تنصیبات ہیں جو سیٹلائٹس کو زمین پر موجود تاروں کے ذریعے چلنے والے نیٹ ورک سے جوڑتی ہیں۔ ان کے مطابق، ملک بھر میں ان سائٹس پر سیکڑوں اینٹینا نصب کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی ہندوستان کے ’’سیکوریٹی تقاضوں اور دیگر ضوابط‘‘ کے مطابق انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب، سنل متل نے جمعرات کو کہا کہ یوٹلسٹ ون ویب بھی خدمات شروع کرنے کے لیے منظوریوں کا انتظار کر رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے یہ اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھئے: خام تیل میں تیزی سے سینسیکس ایک ہزار سے زیادہ پوائنٹس لڑھکا، ۳۲؍ ماہ کی نچلی سطح پرا

اسٹارلنک کو محکمۂ ٹیلی مواصلات سے سیٹیلائٹ کے ذریعے عالمی موبائل ذاتی مواصلاتی خدمات فراہم کرنے کی اجازت مل چکی ہے، لیکن اسے خدمات شروع کرنے کے لیے درکار سیکوریٹی منظوری ابھی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ دی ہندو کے مطابق، سیکوریٹی کے ان ضوابط میں سے بعض میں مئی میں ترمیم کی گئی تھی۔ ان کے تحت اسپیس ایکس کو ہندوستان سے باہر خریدے گئے اسٹارلنک ریسیورز کو غیر فعال کرنا ہوگا۔ اسی طرح، ہندوستان میں فروخت کیے گئے ٹرمینلز کو بھی ملک سے باہر لے جانے کی صورت میں بند کرنا ہوگا۔ اخبار کے مطابق، ان ضوابط میں سیٹیلائٹ انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کام و براڈبینڈ خدمات پر وسیع نگرانی کی شرائط بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو مسک نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ منی پور میں عسکریت پسند اسٹارلنک کی خدمات استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کے اوپر اسٹارلنک کے سگنل بند ہیں، اس لیے یہ دعویٰ کہ کسی نے کسی بھی مقصد کے لیے ان کا استعمال کیا، بالکل غلط ہے۔‘‘ دسمبر ۲۰۲۴ء میں بھی انہوں نے ایسے ہی الزامات کو مسترد کیا تھا۔ اس وقت ہندوستانی فوج اور آسام رائفلز نے منی پور میں کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ اسٹارلنک کا لیبل لگا ایک آلہ ضبط کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK