ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ۲۰۲۶ء کا فائنل مقابلہ، جو ۳۱؍ مئی کو ہونا ہے، اب احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 3:04 PM IST | Mumbai
ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ۲۰۲۶ء کا فائنل مقابلہ، جو ۳۱؍ مئی کو ہونا ہے، اب احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ۲۰۲۶ء کا فائنل مقابلہ، جو ۳۱؍ مئی کو ہونا ہے، اب احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ بی سی سی آئی نے اس کے ساتھ ہی پلے آف مقابلوں کے شیڈول کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ پوائنٹس ٹیبل کی سرفہرست دو ٹیمیں ۲۶؍ مئی کو دھرم شالہ کے ایچ پی سی اے اسٹیڈیم میں کوالیفائر ون کھیلیں گی۔ اس مقابلے کی فاتح ٹیم براہِ راست فائنل میں جگہ بنائے گی۔
اس کے بعد پلے آف کا کارواں نیو چنڈی گڑھ پہنچے گا۔ ۲۷؍ مئی کو نیو انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایلیمینیٹر` میچ ہوگا، جس میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہنے والی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ اسی میدان پر ۲۹؍ مئی کو `کوالیفائر ٹو بھی کھیلا جائے گا، جس میں کوالیفائر ون میں ہارنے والی ٹیم اور ایلیمینیٹرکی فاتح ٹیم کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
بی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ آپریشنل اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر اس بار پلے آف تین مختلف مقامات پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے فائنل کی میزبانی بنگلورو کو دی گئی تھی، تاہم مقامی ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے کچھ مطالبات بی سی سی آئی کے طے شدہ رہنما خطوط اور پروٹوکول کے دائرے سے باہر تھے، اسی وجہ سے فائنل کو بنگلورو سے ہٹا کر احمد آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کانز ۲۰۲۶ء: کرن جوہر، آشوتوش گواریکر، مونی رائے، ایمی ورک کی شرکت
بنگلورو میں آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے فائنل کی میزبانی کے امکانات پر سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اراکینِ اسمبلی کو میچ کے ٹکٹ دینے کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے بڑھنے کے بعد بی سی سی آئی اب اس بڑے میچ کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔ یہ تنازع، جو کرناٹک کے اراکینِ اسمبلی کی جانب سے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں ہونے والے آئی پی ایل میچوں کے لیے مفت وی آئی پی ٹکٹوں کی مانگ سے شروع ہوا تھا، اب ایک حساس سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس تنازع کے بڑھنے کی وجہ ’وی آئی پی کلچر‘، خصوصی مراعات اور کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے ایس سی اے) پر مبینہ دباؤ کو لے کر تنقید ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے متحدہ عرب امارات پر دوسرے روز بھی میزائلوں اور ڈرون سے حملے
بی سی سی آئی ذرائع کے مطابق پلے آف میچوں کو پنجاب اور کرناٹک کے درمیان تقسیم کیے جانے کا امکان ہے، جو موجودہ چیمپئن کی جانب سے فائنل کی میزبانی کی روایت کے مطابق ہے۔ تاہم، بنگلورو میں انتظامات سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بورڈ کی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔ بی سی سی آئی کے ایک ذریعے نے کہاکہ’’اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو آئی پی ایل فائنل کو بنگلورو سے باہر منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘یہ تنازع آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے پہلے میچ سے قبل شروع ہوا تھا، جو رائل چیلنجرز بنگلورو اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ اسی دوران کانگریس کے ایم ایل اے وجے آنند کاشپّنور نے ہر ایم ایل اے کے لیے کم از کم پانچ ٹکٹوں کی مانگ کی تھی اور کہا تھا کہ ایم ایل اے ’وی آئی پی‘ ہوتے ہیں اور انہیں عام لوگوں کی طرح قطار میں نہیں لگنا چاہیے۔ بعد میں یہ معاملہ کرناٹک اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا، جہاں مختلف جماعتوں کے اراکین نے شکایت کی کہ کے ایس سی اے، حکومت سے لیز پر ملی زمین پر اسٹیڈیم چلانے کے باوجود منتخب نمائندوں کو مناسب وی آئی پی سہولیات فراہم نہیں کر رہا۔ اطلاعات کے مطابق اسمبلی اسپیکر یو ٹی کھادر نے حکومت سے کہا ہے کہ آئی پی ایل میچوں کے دوران اراکینِ اسمبلی کو وی آئی پی ٹکٹ فراہم کیے جائیں۔ ادھر اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے عوامی نمائندوں کے لیے انتظامات پر کے ایس سی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔