امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ جامع اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 3:05 PM IST | New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ جامع اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ جامع اور حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے، دونوں ممالک پروجیکٹ روکنے پر متفق ہیں، پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہم نے ایران کے خلاف نمایاں جنگی کامیابیاں حاصل کی ہیں، پروجیکٹ فریڈم روکنے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ حتمی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں یا نہیں، آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے:کانز ۲۰۲۶ء: کرن جوہر، آشوتوش گواریکر، مونی رائے، ایمی ورک کی شرکت
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ پروجیکٹ فریڈم دراصل پروجیکٹ ڈیڈ لاک ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ پاکستان کی ثالثی میں جو مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس منصوبے سے اس میں ایک بار پھر ڈیڈ لاک واقع ہو جائے گا۔ پروجیکٹ فریڈم امریکہ کا ایک نیا منصوبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے یا خطرے میں موجود تجارتی جہازوں کو گائیڈ اور اسکاٹ کرے گی، تاکہ وہ محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزر سکیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے متحدہ عرب امارات پر دوسرے روز بھی میزائلوں اور ڈرون سے حملے
پروجیکٹ فریڈم دراصل پروجیکٹ ڈیڈ لاک ہے، عباس عراقچی آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آئل روٹ ہے اور یہاں کشیدگی کے باعث ہزاروں جہاز متاثر ہوئے، امریکی منصوبے کا مقصد آزادانہ جہاز رانی بحال کرنا ہے، امریکہ کا الزام ہے کہ اس نے جہازوں پر حملے کیے، راستے محدود کیے یا کنٹرول کرنے کی کوشش کی، اور پروجیکٹ فریڈم اس صورت حال کے جواب میں شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت امریکی بحری جہاز (ڈسٹرائرز) تجارتی جہازوں کے ساتھ چلیں گے، فضائی نگرانی، ڈرونز اور میزائل دفاعی نظام استعمال ہوگا، اور ہزاروں امریکی فوجی اور درجنوں جنگی وسائل تعینات کیے جانے تھے۔