شاندار فارم میں کھیلنے والے سنجو سیمسن کی ناٹ آؤٹ ۸۷؍رنز کی میچ وننگ اننگز کی بدولت چنئی سپر کنگز نے منگل کو آئی پی ایل میچ میں دہلی کیپیٹلز کو۸؍ وکٹ سے شکست دے کر۱۰؍ میچوں میں اپنی پانچویں کامیابی حاصل کی اور پلے آف کی امیدوں کو مضبوط کر لیا۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 4:03 PM IST | Chennai
شاندار فارم میں کھیلنے والے سنجو سیمسن کی ناٹ آؤٹ ۸۷؍رنز کی میچ وننگ اننگز کی بدولت چنئی سپر کنگز نے منگل کو آئی پی ایل میچ میں دہلی کیپیٹلز کو۸؍ وکٹ سے شکست دے کر۱۰؍ میچوں میں اپنی پانچویں کامیابی حاصل کی اور پلے آف کی امیدوں کو مضبوط کر لیا۔
شاندار فارم میں کھیلنے والے سنجو سیمسن کی ناٹ آؤٹ ۸۷؍رنز کی میچ وننگ اننگز کی بدولت چنئی سپر کنگز نے منگل کو آئی پی ایل میچ میں دہلی کیپیٹلز کو۸؍ وکٹ سے شکست دے کر۱۰؍ میچوں میں اپنی پانچویں کامیابی حاصل کی اور پلے آف کی امیدوں کو مضبوط کر لیا۔
چنئی سپر کنگز نے دہلی کیپیٹلز کو۲۰؍ اوور میں سات وکٹ پر ۱۵۵؍ رن پر روکنے کے بعد۳ء۱۷؍ اوور میں دو وکٹ کے نقصان پر ۱۵۹؍ رنز بنا کر آسان کامیابی حاصل کی۔ چنئی کی اس جیت کے ہیرو رہے سنجو سیمسن جنہوں نے ۵۲؍ گیندوں پر سات چوکے اور چھ چھکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ ۸۷؍ رنز بنائے۔
ارون جیٹلی اسٹیڈیم کی جس پچ پر دوسرے بلے بازوں کو کھیلنے میں پریشانی ہورہی تھی، اسی پچ پر سیمسن نے بلے بازی کو بے حد آسان بنا دیا۔ انہیں دوسرے کنارے پر کارتک شرما کا اچھا ساتھ ملا، جنہوں نے ۳۱؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۴۱؍ رن میں چار چوکے اور دو چھکے لگائے۔
چنئی کی ٹیم اب ایسا لگتا ہے کہ پوری لے میں آگئی ہے۔ انہوں نے پہلے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ممبئی انڈینز کو شکست دی اور اب دہلی کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر ہرا دیا۔ بہتر گیند بازی کے ذریعے دہلی کو۱۵۵؍ رن پر روک دیاتھا۔ یہیں سے چنئی کی جیت طے ہوگئی تھی۔ بس دیکھنا یہ تھا کہ وہ کتنے اوورز میں جیتتے ہیں۔ سنجو سیمسن نے ۵۲؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۸۷؍ اور کارتک شرما نے۳۱؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۴۱؍ رن بناکر۳ء۱۷؍ اوور میں ہی ٹیم کو جیت دلادی۔ اس کی وجہ سے ٹیم کے نیٹ رن ریٹ میں بھی کافی بہتری آئی ہے۔ اب ٹیم کے ۱۰؍ پوائنٹس ہوگئے ہیں اور وہ پوائنٹس ٹیبل میں چھٹے مقام پر ہے۔
Action packed! 🔥🥳#WhistlePodu #DCvCSK pic.twitter.com/px91vlHyls
— Chennai Super Kings (@ChennaiIPL) May 5, 2026
اس سے قبل دہلی نے ٹرسٹن اسٹبس کے ۳۱؍ گیندوں پر۳۸؍ اور سمیر رضوی کے۲۴؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۴۰؍رنز کی بدولت ۱۵۵؍ رنز بنائے۔ ٹیم ایک مرحلے پر صرف ۶۹؍ رنز پر پانچ وکٹیں گنوا چکی تھی۔ تاہم اس کے بعد اسٹبس اور رضوی نے۴۷؍ گیندوں پر۶۵؍ رنز کی شراکت داری کرکے ٹیم کو باعزت اسکور تک پہنچایا۔ رضوی نے آخری اوورز میں جارحانہ بلے بازی کی۔ رضوی نے آخری اوور میں تین چھکے لگائے جن میں آخری گیند پر چھکا بھی شامل تھا۔ آخری اوور میں ۲۰؍ رن بنے اور اس کی وجہ سے دہلی نے سی ایس کے کو ۱۵۶؍ رن کا ہدف دیا۔
یہ بھی پڑھئے:سیامی کھیر آئی پی ایل کے لیے کھیل نقاد کا رول بھی ادا کررہی ہیں
جب سمیر رضوی ۶۹؍ رنز پر۵؍ وکٹ گنوانے کے بعد میدان میں آئے تو ان کی ٹیم کافی مشکل میں تھی لیکن اس امپیکٹ متبادل نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ٹیم کے اسکور بورڈ پر ایک ایسا اسکور ہو جس کے دم پر وہ مقابلہ کرسکیں۔ یہ پچ بالکل بھی آسان نہیں ہے - اکشر نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے یہ اندازہ لگایا تھا کہ دوسری اننگ میں پچ دھیمی ہوسکتی ہےلیکن انہیں پہلی اننگز میں ہی ایسی مشکلات کا سامنے کرنا پڑے گا، اس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ سی ایس کے کے گیند بازوں نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پچ کی نوعیت کے مطابق گیند بازی کی: تیز گیند بازوں نے ہارڈ لینتھ گیندیں کیں، جب کہ اسپنرز نے اپنی رفتار کو سست رکھا۔ ابتدائی آرڈر میں کئی بلے بازوں نے اچھی شروعات کی لیکن وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا جس سے ٹیم گہری پریشانی میں پڑ گئی۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا فائنل بنگلورو کے بجائے احمد آباد میں ہوگا
ٹرسٹن اسٹبس نے ایک سرے کو سنبھالے رکھا، جس سے رضوی کو آزادانہ طور پر اپنے شاٹس کھیلنے کا موقع ملا۔ آخری سات اوورز میں ۷۸؍ رنز ملے۔ نور نے دو وکٹ حاصل کیں، باقی گیندبازبھی متاثر کن تھے۔ تاہم، انشول کمبوج قدرے مہنگے ثابت ہوئے۔