اسرائیل کی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی شہری قید ہیں، جن میں ۳۵۰؍ سے زائد بچے اور ۵۰؍ سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ عالمی میڈیا اور طاقتور ممالک چند یرغمالوں کی رہائی کو نمایاں کرتے ہیں، مگر فلسطینی قیدیوں کا انسانی بحران بڑی حد تک نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: February 02, 2026, 12:13 PM IST | Jerusalem
اسرائیل کی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی شہری قید ہیں، جن میں ۳۵۰؍ سے زائد بچے اور ۵۰؍ سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ عالمی میڈیا اور طاقتور ممالک چند یرغمالوں کی رہائی کو نمایاں کرتے ہیں، مگر فلسطینی قیدیوں کا انسانی بحران بڑی حد تک نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کا مسئلہ ایک سنگین مگر نظرانداز شدہ انسانی بحران بن چکا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حراست میں اس وقت ہزاروں فلسطینی موجود ہیں، جن میں ۳۵۰؍ سے زائد بچے اور کم از کم ۵۳؍ خواتین شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی جیلوں میں ۹؍ ہزار ۴۰۰؍ فلسطینی قیدی ہیں جن میں سے بیشتر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد کو بغیر کسی فردِ جرم یا باقاعدہ مقدمے کے قید رکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق، اسرائیل میں فلسطینیوں کو اکثر انتظامی حراست کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے، جس میں مہینوں یا برسوں تک قید ممکن ہے، بغیر اس کے کہ قیدی کو شواہد دکھائے جائیں یا شفاف عدالتی کارروائی ہو۔ یہ طریقہ کار بین الاقوامی انسانی قانون اور بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدوں سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: اسرائیلی صدر کی ملک میں داخلے کی ممانعت کے مطالبے میں شدت
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قید فلسطینی بچوں کی بڑی تعداد کی عمر ۱۲؍ سے ۱۷؍ سال کے درمیان ہے۔ ان بچوں کو رات کے وقت گھروں سے گرفتار کرنے، تفتیش کے دوران دباؤ اور بعض اوقات جسمانی تشدد کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ اقدامات بچوں کے نفسیاتی اور تعلیمی مستقبل پر گہرے منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ اسی دوران عالمی منظرنامے پر کچھ یرغمالوں کی رہائی کو بڑے انسانی المیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر فلسطینی قیدیوں کی اجتماعی قید کو شاذ و نادر ہی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے، جہاں انسانی حقوق کا اطلاق قومیت اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ فلسطینی انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید افراد میں صحافی، طلبہ، سماجی کارکن اور عام شہری بھی شامل ہیں، جن کا کسی مسلح سرگرمی سے کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود انہیں سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر طویل عرصے تک قید رکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے کیلئے اسرائیل امریکہ کو اکسا رہا ہے، ترک وزیرخارجہ کا دعویٰ
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں فلسطینی نمائندے بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں، خاص طور پر بچوں اور خواتین، کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے مطابق سلوک کرے۔ تاہم عملی سطح پر عالمی ردِعمل محدود اور غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی حکام ان گرفتاریوں کو سیکوریٹی سے جوڑتے ہیں، لیکن انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق اجتماعی گرفتاریوں اور طویل قید نے نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے میں انصاف اور امن کے امکانات کو بھی کمزور کیا ہے۔یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا انسانی حقوق واقعی عالمی ہیں، یا پھر وہ صرف منتخب قوموں اور معاملات تک محدود کر دیے گئے ہیں۔