کرسن گھاوری ٹیسٹ میچوں میں ۱۰۰؍ وکٹ لینے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند بازہیں۔ ان سے پہلے کوئی بھی تیز گیند باز یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا۔
EPAPER
Updated: February 28, 2026, 9:30 AM IST | New Delhi
کرسن گھاوری ٹیسٹ میچوں میں ۱۰۰؍ وکٹ لینے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند بازہیں۔ ان سے پہلے کوئی بھی تیز گیند باز یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا۔
ہندستان کرکٹ ٹیم میں یوں تو ہمیشہ سےہی بہترین گیند بازوں نے اپنی شاندار کارکردگی پیش کی ہے۔ ہاں یہ حقیقت ہےکہ اسپن گیند بازوں نےاپنی سرزمین کے علاوہ غیر ملکی میدانوں پر بھی بلے بازوں کی ناک میں دم کررکھا تھا۔ ایک وقت ایسا تھاجب ہندستانی ٹیم میں ایک یا دو میڈیم گیندباز ہوا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہندستانی ٹیم میں بھی بدلاؤ آیا اور تیز گیند بازوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ ۲۸؍فروری ۱۹۵۲ءکو گجرات کے راجکوٹ میں پیدا ہوئے کرسن گھاوری نےہندستانی ٹیم کی اس کمی کو ایساپورا کیا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ گھاوری، ہندستانی ٹیم میں ایک ایسے تیزگیند باز کے طور پر ابھرےجنہیں ہندستانی ٹیسٹ کرکٹ میں ۱۰۰؍ وکٹ لینے والےکا بولر ہونےکا شرف حاصل ہوا۔
کرسن گھاوری نے اپنے بین الاقوامی کریئرکا آغاز ۱۹۷۴ء میں ویسٹ انڈیز کیخلاف کیا۔ انہوں نےایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں ۲؍وکٹ لئے۔ انہوں نے پہلی اور دوسری اننگز میں ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔ گھاوری نے دوسری اننگز میں بھی بلے بازی میں اہم کردار ادا کیا۔ آٹھویں نمبر پر کھیلتے ہوئےانہوں نے ۲۷؍رنز بنائے۔ ہندستان نےاس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم ۸۵؍رنزسےبڑی جیت درج کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس میچ میں ٹیم انڈیا کی قیادت نواب پٹودی کر رہے تھے۔
ایک میچ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے بہت یادگارہوتا ہے لیکن صرف منتخب کھلاڑی ہیں جن کی پوری سیریزیادگار بن جاتی ہے۔ گھاوری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم ۷۹- ۱۹۷۸ءمیں ہندوستان کے دورےپر آئی تھی۔ گھاوری نےکیریبین ٹیم کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہامنوایا۔ انہوں نے ۶؍ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ۲۷؍وکٹ حاصل کئےجو کہ اس وقت ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کیخلاف ایک بڑی بات تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی بلے باز گھاوری کے باؤنسر سے بہت ڈرتے تھے۔
گھاوری نےہندوستان کے لیے ۳۹؍ ٹیسٹ میچوں میں ۹۱۳؍رنزبنائے، جس میں ان کا بہترین اسکور۸۶؍رہا۔ ان رنوں میں ان کی دو بہترین نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ۱۹؍ون ڈے میچوں میں انہوں نے۱۱۴؍رن بنائے۔ ۳۹؍ٹیسٹ میں انہوں نے ۱۰۹؍وکٹ حاصل کئے۔ جبکہ یک روزہ ۱۹؍ میچوں میں انہوں نے ۱۵؍وکٹ لئے۔ ٹیم انڈیا میں ان کاکردار یوٹیلیٹی پلیئر کا تھا۔ یوٹیلیٹی پلیئرکامطلب ہےوہ کھلاڑی جو ضرورت کے مطابق کہیں بھی کھیل سکتاہو۔ کبھی انہیں تیز باؤنسرز گیند کرنے کے لیے بلایاجاتا تھا تو کبھی اسپن بولنگ کرنےکیلئےآزمایاجاتاتھا۔ گھاوری نے اپنا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کیخلاف ۲۷؍دسمبر۱۹۷۴ءمیں اور آخری ٹیسٹ میچ ۶؍ ما رچ۱۹۸۱ءکو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
کرسن گھاوری ٹیسٹ میچوں میں ۱۰۰؍ وکٹ لینے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند بازہیں۔ ان سے پہلے کوئی بھی تیز گیند باز یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا۔ تاہم اس بڑے کارنامے کو حاصل کرنے کے بعد ان کا کریئرجلدہی پٹری سے اتر گیا۔ کرکٹ سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے کوچنگ کا رخ کیا۔ وہ سوراشٹر کے بھی کوچ بنے۔