ہمارے یہاں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں

Updated: August 26, 2022, 12:47 PM IST | Devendra Nath Singh | New Delhi

ہاکی کھلاڑی للت اپادھیائے کا کہنا ہے کہ صحیح تربیت سے ہندوستان پھر ہاکی کی دنیا میں شاندار مقام حاصل کر سکتا ہے

Lalit Upadhyay Indian olympic athlete .Picture:INN
ہندوستانی ہاکی کھلاڑی للت اپادھیائے۔ تصویر:آئی این این

برمنگھم میں منعقدہ دولت مشترکہ کھیلوں میں سلور میڈل جیتنے والی ہندوستانی ہاکی ٹیم کے رکن للت اپادھیائے نے انقلاب کے ساتھ بات چیت کے دوران ٹیم کے ماحول اور اپنی فٹنس اور ساتھی کھلاڑیوں کے تعلق سے بتایا۔
عام طور پر کلاڑی ایک دوسرے کو پیار کے نام سے پکارتے ہیں۔آپ کا نام کیا رکھا ہے۔؟
 ٹیم کے ساتھی مجھے پنڈٹ کہہ کر پکارتے ہیں۔ میں تو اسی نام کی جرسی پہن کر ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان پر اترنا چاہتا ہوں۔حالانکہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔مجھے یہ نام کافی پسند ہے۔ٹیم کے کپتان من پریت سنگھ کو کورین جبکہ ہر من پریت کو ہینی بلایا جاتا ہے۔یہ چھوٹے اور’ نک نیم‘ میدان پر کافی کارآمد ثابت ہوتے ہیں کیوںکہ کھیل کے دوران ایک دوسرے کو لمبے نام لے کر پکارنے میں دشو اری ہوتی ہے۔
 ہارنے کے بعد ڈریسنگ روم کا ماحول کیسا رہتا ہے؟
 میچ کے بعد ہمارے ڈریسنگ روم کا ماحول کافی دوستانہ ہی رہتا ہے۔ہم میدان پر کی جانے والی غلطیوں  پر بات چیت کرتے ہیں اور شکست کےلئے کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے بلکہ غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس سے بچنے کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ہر کوئی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔میچ میں آپسی تال میل کافی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی شروعات ڈریسنگ روم سے ہی ہوتی ہے۔
میچ کے بعد خود کو آرام دینے کیلئے کیا کرتے ہیں؟
 میں ’آئس باتھ‘ لیتا ہوں۔موسم چاہے جتنا بھی  سردہو میں میچ کے بعد برف کے پانی سے ضرور نہاتا ہوں۔برمنگھم میں بھی نے ہر میچ کے بعد ایسا ہی کیا تھا۔کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ درجہ حرارت ایک یا دو ڈگری ہونے کے باوجود میں نے آئس باتھ لیا تھا۔ مجھے ایسا کرنے سے کافی آرام ملتا ہے۔
کونسا ملک پسند ہے؟
 بچپن میں گھر کی چھت سے ہوائی جہاز کو اڑتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔اب ہوائی جہاز سے بہت زیادہ سفر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے قدرتی مناظر بہت پسند ہیں اور اسی سبب مجھے نیوزی لینڈ کافی اچھا لگتا ہے۔وہاں جب ٹورنامنٹ کھیلنے جاتا ہوںتو میچ کے بعد کسی جھیل کے کنارے بیٹھ جاتا ہوں۔اس سے مجھے بہت سکون ملتا ہے اور اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد بھی ملتی ہے۔
بیرون ملک کھانے پینے کی پریشانی ہوتی ہوگی؟
 کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی ہے لیکن دال چاول اور روٹی جیسا گھر کا کھانا مل جائے تومزہ آجاتا ہے۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ غیر ممالک میں مقیم ہندوستانی ہمیں اپنے گھر کھانے پر بلا لیتے ہیں تو ہم پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں۔
کامن ویلتھ گیمز میں میڈل جیتنا کیسا رہا؟
 بہت ہی خوشی ہوئی۔اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ہم نے طویل عرصہ بعد ہاکی میں میڈل جیتا تھا۔وطن لوٹنے پر ہمارا شاندار استقبال کیا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ ملک میں ہاکی کو فروغ حاصل ہوگا۔ ہمارے پاس صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے بس کھلاڑیوں کو صحیح تربیت اور رہنمائی کی جائے تو وہ شاندار کھیل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK