• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگاؤں: میونسپل اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن کی تشکیل کیلئے پیش رفت

Updated: February 13, 2026, 12:44 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

میئرنسرین شیخ نے اپنی مادرِ علمی میں پہنچ کر جس توقع کا اظہار کیا اس پر عملی کارروائی کیلئے کارپورٹر عمران احمد کی تجویز پہلے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل۔

File photo of Malegaon Municipal Corporation building. Photo: INN
مالیگاؤں  میونسپل کارپوریشن کی عمارت کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

شہری بلدیہ کے تعلیمی محکمہ (میونسپل اسکول بورڈ) کی شان دار تاریخ رہی ہے۔ ماضی قریب کی کچھ دہائیوں کی کارکردگی حذف کرکے مستقبل کی صف بندی دیکھیں تو ظلمتِ شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصے کی شمع روشن کرنے والا معاملہ سمجھ میں آتا ہے۔ انڈین سیکولرپارٹی کی میئرنسرین خالد شیخ نے گزشتہ ۱۱/فروری بدھ کو اپنی مادرِ علمی میونسپل اُردو اسکول نمبر۵۵/ کا دورہ کیا تھا۔ اس پس منظر میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی اسکولوں کی حالت سدھارنے کیلئے اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن کی تشکیل کیلئے پیش رفت ہوچکی ہے۔ 
اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن کی تشکیل کیلئے تجویز
۱۸؍فروری کونومنتخب ارکانِ بلدیہ کا پہلا اجلاس ہوگا۔ اس کیلئے شہری ترقیات محکمہ سے جاری ایجنڈے کی فہرست میں ۱۳؍ ویں نمبر پر ایک تجویز میئرنسرین شیخ کی سفارش پر رُکن بلدیہ عمران سلیم احمد کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ 
اس تجویز کا مفہوم ہے کہ مہاراشٹرمیونسپل کارپوریشن ایکٹ ۱۹۴۹ء کے تحت مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے معرفت جاری اسکولوں کے انتظامات کی نگرانی، جائزہ اور بہتری کیلئے اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن تشکیل دینے کیلئے تمام ہی کارپوریٹروں کی رائے طلب کرکے فیصلہ کرنا ہے۔ 
شہری انتظامیہ تعلیمی محکمہ کا سنہرا باب
مسلم اکثریتی شہر میں جہاں پارچہ بافی پیشہ مزدوروں کی کثرت رہی ہے۔ اُردو ذریعہ تعلیم کو فروغ دینے میں میونسپل اُردو اسکولیں ریڑھ کی ہڈی رہی ہیں۔ حضرت مسلمؔ مالیگانوی، ادیبؔ مالیگانوی، وقارؔحیدری، مقیم اثرؔ بیاولی، ارشدؔمینانگری(والد بزرگوارعلیم طاہر) کی طرح درجنوں حضرات جو اَب اس دنیا میں نہیں، یہ سب میونسپل اُردواسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ اس شہر میں اُردو کا بول بالا میونسپل اسکولوں کی بدولت ارتقاء سے عروج کی منزلوں پر آیا۔ ۱۹۸۰ء میں ڈاکٹر پیر محمد رحمانی (ولادت:۲۱؍جولائی ۱۹۲۴ء، وفات : ۴؍جنوری ۲۰۰۸ء) مالیگاؤں میونسپل اسکول بورڈ کے صدر نشیں منتخب ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے فرزند ڈاکٹرعرفان پیرمحمد رحمانی نے بتایا کہ اُس زمانے میں اسکول بورڈ کا بجٹ مختصر لیکن کارآمد ہوتا تھا۔ دیانت دار ذمے داروں نے تعلیمی سرمائے پر شب خون مارنے کی بجائے اسے شفافیت سے خرچ کرنے میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائی۔ اسکول بورڈ کی میٹنگوں کے اخراجات میرے والد اپنی جیب سے ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اسکول بورڈ آفس کے ملازم فقیرا کو متنبہ کیا تھا کہ میٹنگ کے شرکاء کیلئے پیش کی جانے والی چائے کا بھی واؤچر نہیں بنے گا۔ چائے کی پوری رقم مَیں ادا کروں گا۔ ڈاکٹررحمانی کے ساتھ بورڈ میں بطورِ رکن رہے انصاری جمیل احمد محمد یوسف ابھی حیات ہیں۔ 
عیاں رہے کہ میونسپل اسکول بورڈ کے صدر نشینوں میں ڈاکٹرپیر محمد رحمانی کا نام سرفہرست رہا ہے۔ انہوں نے جو احسن روایتیں قائم کیں اُن کے بعد آنےوالے بھی اس پر گامزن رہے۔ کونسل سے کارپوریشن کا درجہ ملنے کے بعد میونسپل اسکول بورڈ اپنا وقاراور اعتبار کھو بیٹھا تھا۔ امید ہے تشکیل کے مراحل میں داخل ہونے والی اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن اپنے اسلاف کے نقش قدم کو منزلِ سفر بنائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK