Updated: September 13, 2026, 11:46 AM IST
|
Z.A Khan
| Jalna
مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے پر منوج جرنگے کی اپنے کارکنوں کو ممبئی مارچ کیلئے تیار رہنے کی ہدایت، مراٹھا خواتین سے امریتا فرنویس اور لتا شندے کے گھروں پر ہلدی مہندی کی رسم منعقد کرنے کی اپیل، کارکنوں کےساتھ میٹنگ میں واضح کیاکہ احتجاج کسی صورت پُرتشدد نہ ہو۔
مراٹھا کارکن منوج جرنگے نے ممبئی آنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ تصویر: آئی این این
مراٹھا برادری کیلئے تعلیم اور ملازمت میں ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والےمنوج جرنگے نےسنیچر کوایک بار پھرممبئی کوچ کرنے کا اعلان کیا اوراس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ۱۹؍ ستمبر سے آزاد میدان پربے مدت بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق منوج جرنگے اورمراٹھا کارکن ۱۵؍ ستمبر سے ممبئی کی طرف مارچ شروع کریں گے۔ انہوں نے انتراولی سراٹی میں اپنی بے مدت بھوک ہڑتال کے ۱۵؍ ویں دن کارکنان کے ساتھ میٹنگ کی اورانہیں ممبئی مارچ کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مراٹھاخاتون کارکنان سے کہا کہ وہ بھی ممبئی پہنچیں اورامریتا فرنویس اورلتا شندے کے گھر پرہلدی کنکوں (ہلدی مہندی)کی رسم منعقد کریں اور ان سے مراٹھا ریزرویشن نافذ کرنےکی اپیل کریں۔
’چلو ممبئی‘ کا پھر نعرہ دیا
مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر منوج جرنگے پاٹل نے ایک بار پھر ممبئی کی جانب کوچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتروالی سراٹی میں جاری احتجاج کے دوران ’چلو ممبئی‘ کا نعرہ دیتے ہوئے جرنگے نے احتجاج کی آئندہ سمت، ممبئی تک پہنچنے کے راستے اور مظاہرین کو اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے تفصیلی موقف پیش کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ممبئی میں احتجاج کے دوران مراٹھاسماج کی خواتین سے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی اہلیہ امریتا فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی اہلیہ لتا شندے کے گھروں پر ہلدی کنکوں کی روایتی تقریب کے ذریعے احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم منوج جرنگے نے واضح کیا کہ احتجاج کے دوران کسی قسم کی بدنظمی، توڑ پھوڑ یا قانون شکنی نہیں ہونی چاہئے اور پُرامن راستہ کسی صورت نہیں چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا ’’میں نے ریاست سے پُرامن احتجاج کا وعدہ کیا ہے، انصاف کی دیوی سے بھی وعدہ کیا ہے۔ میں اپنے مراٹھا سماج کی عزت و وقار کو مجروح نہیں ہونے دوں گا۔ ‘‘ جرنگے کے اس نئے احتجاجی اعلان کے بعد گنیش اتسو کے دوران ممبئی میں ایک بار پھر بڑی تعداد میں مراٹھا سماج سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے پہنچنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: وزیرداخلہ کے طور پر فرنویس بری طرح ناکام، کرسی چھوڑ دیں: سپکال
ہلدی کنکوں یعنی ہلدی مہندی کی رسم
منوج جرنگے نے احتجاج میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے ایک الگ حکمت عملی کا اعلان کیا۔ انہوں نے امریتا فرنویس اور لتا شندے کو ’تائی‘ یعنی بڑی بہن سے مخاطب کرتے ہوئے خواتین سے اپیل کی کہ وہ ان کے گھروں پر ہلدی مہندی کی تقریب کے لیے جائیں۔ جرنگے نے خواتین سے کہا، ’’امریتا تائی اور لتا تائی کے گھر ہلدی مہندی کے لیے جانا ہے۔ ہلدی مہندی لگاتے ہوئے صرف اتنا کہنا ہے کہ مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیا جائے۔ ‘‘
جرنگے کا کہنا ہے کہ خواتین روایتی ہلدی کنکوں کی تقریب کے ذریعے مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ حکومت تک پہنچائیں۔ انہوں نے دونوں خاندانوں کی خواتین کے حوالے سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ٹھوس فیصلہ کرنا چاہیے اور خواتین کو اپنے خاندان کے مرد سیاسی لیڈروں تک یہ مطالبہ پہنچانا چاہیے۔
عدالتی احکامات کے احترام کی اپیل
منوج جرنگے نے کارکنوں سے یہ بھی اپیل کی کہ میڈیا میں احتجاج کے حوالے سے کوئی غلط تاثر نہ جائے، اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ ان کے مطابق احتجاج کا مقصد صرف مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ حکومت تک پہنچانا ہے، نہ کہ کسی قسم کی کشیدگی یا تشدد پیدا کرنا۔ انہوں نے ممبئی کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے، سڑکوں پر کسی قسم کی بدنظمی پیدا نہ کرنے اور عدالت کے احکامات کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ اگرچہ انہوں نے حکومت کے احکامات کو تسلیم نہ کرنے کا جارحانہ موقف اختیار کیا، تاہم ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ عدالت کا احترام ہر حال میں ضروری ہے۔ جرنگے کی جانب سے پُرامن احتجاج اور قانون و نظم برقرار رکھنے کی بار بار اپیل کے باوجود، ’چلو ممبئی‘ کے اعلان نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کی توجہ ایک بار پھر مراٹھااحتجاج کی جانب مرکوز کردی ہے۔ آئندہ دنوں میں ممبئی کی جانب ہونے والے مارچ اور احتجاج کے دوران حکومت اور انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریزرویشن کے مطالبے کے ساتھ ساتھ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہوگا۔