اسرائیلی ایئر فورس کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ نے ایپل کے نئے متعارف کرائے گئے آئی فون ڈو کی تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں فولڈ ایبل ڈیوائس کی اسکرین کے اندر غزہ میں مسلح اسرائیلی فوجیوں کی تصویر رکھی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 9:04 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی ایئر فورس کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ نے ایپل کے نئے متعارف کرائے گئے آئی فون ڈو کی تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں فولڈ ایبل ڈیوائس کی اسکرین کے اندر غزہ میں مسلح اسرائیلی فوجیوں کی تصویر رکھی گئی ہے۔
اسرائیلی ایئر فورس کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ نے ایپل کے نئے متعارف کرائے گئے آئی فون ڈو کی تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں فولڈ ایبل ڈیوائس کی اسکرین کے اندر غزہ میں مسلح اسرائیلی فوجیوں کی تصویر رکھی گئی ہے۔پوسٹ میں ہیڈ لائن ’’یہ ڈو ہے‘‘ استعمال کی گئی، جو آئی فون ڈو کے لیے ایپل کی لانچ برانڈنگ کی بازگشت ہے، ساتھ ہی کھلے ہوئے فون کا ایک بصری منظر جس میں اسرائیلی فوج کی تصاویر کا مجموعہ دکھایا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایپل نے۹؍ ستمبر کو آئی فون ڈو کو اپنے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کے طور پر متعارف کرایا۔ پوسٹ کے ساتھ گردش کرنے والے دعووں نے آئی فون ڈو کو اسرائیل میں ایپل کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آپریشنز سے جوڑا ہے۔ ایپل ہرزیلیا، حیفہ اور یروشلم میں آر اینڈ ڈی مراکز چلاتا ہے، اور رپورٹنگ میں کہا گیا ہے کہ ان سہولیات نے سلیکون، کنیکٹیویٹی، کیمرہ اور سینسنگ ٹیکنالوجیز پر ایپل کے کام میں معاون کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی فورسیزکا فلسطینی صحافی کے گھر پر چھاپہ
بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ستمبر۲۰۲۵ء میں کہا تھا کہ موبائل فون رکھنے والا ہر شخص اپنے ہاتھوں میں ’’اسرائیل کا ایک ٹکڑا‘‘رکھے ہوئے ہے، یہ تبصرہ ملک کی ٹیکنالوجی اور برآمدی صنعتوں کو فروغ دیتے ہوئے کیا گیا۔ مہینوں بعد، دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹنگ نے ایپل کے آئی فون۱۷؍ ای کو کمپنی کے اسرائیلی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آپریشنز سے جوڑا، کہا کہ اس کا C1X سیلولر موڈیم اسرائیل میں تیار کیا گیا تھا۔ ایپل کی تفصیلات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ آئی فون۱۷؍ ای C1X موڈیم استعمال کرتا ہے، لیکن ایپل نے عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ یہ پرزہ کہاں تیار کیا گیا تھا یا اس کی انجینئرنگ ٹیموں میں سے کس نے اس پر کام کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: برکس لیڈروں کی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت، یوکرین جنگ کےخاتمے کا مطالبہ
تاہم، اسرائیلی ایئر فورس کی پوسٹ ایپل-آئی اے ایف شراکت داری قائم نہیں کرتی اور نہ ہی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایپل نے اپنے اشتہاری ڈیزائن کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ پھر بھی اس پوسٹ نے ایپل کے انجینئرنگ اور آر اینڈ ڈی نیٹ ورک کے کچھ حصوں میں اسرائیل کے دیرینہ کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یاد رہے کہ ایپل کو غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ سے مبینہ بالواسطہ روابط پر بھی جانچ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔