Updated: August 04, 2026, 7:08 PM IST
| Karachi
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی کہ جنوبی افریقہ کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور کوچ مائیکل اسمتھ کو پاکستان مردوں کی ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا معاہدہ (کانٹریکٹ) دو سال کا ہوگا۔ ۴۶؍ سالہ اسمتھ ریڈ بال اور وائٹ بال، دونوں ٹیموں کے ساتھ کام کریں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے منگل کو تصدیق کی کہ جنوبی افریقہ کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور کوچ مائیکل اسمتھ کو پاکستان مردوں کی ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا معاہدہ (کانٹریکٹ) دو سال کا ہوگا۔ ۴۶؍ سالہ اسمتھ ریڈ بال اور وائٹ بال، دونوں ٹیموں کے ساتھ کام کریں گے۔ وہ ایک ایسی اسپیشلسٹ ذمہ داری نبھائیں گے جو حال کے مہینوں میں خالی پڑی تھی۔ گزشتہ ہفتے ویسٹ انڈیز کے خلاف تاروبا ٹیسٹ میں پاکستان کی بلے بازی بری طرح لڑکھڑانے اور میچ ہارنے کے بعد ایک اسپیشلسٹ بیٹنگ کوچ کا مطالبہ زور پکڑنے لگا تھا۔ اسمتھ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے پہلے پاکستان ٹیم سے جڑیں گے؛ یہ سیریز ۱۹؍ اگست سے شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:ٹام ہالینڈ اور زینڈیا تشہیری مصروفیات کے بعد وقفہ لیں گے
پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے عمر گل کے روپ میں ایک طے شدہ بولنگ کوچ تو رہا ہے، لیکن کسی بھی فارمیٹ میں کوئی فل ٹائم بیٹنگ کوچ نہیں تھا۔ نیشنل سلیکٹر اسد شفیق کبھی کبھی اس کردار میں مدد کرتے رہے ہیں، لیکن اب اسمتھ مستقل طور پر یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
بھلے ہی اسمتھ نے بین الاقوامی سطح پر جنوبی افریقہ کی نمائندگی نہ کی ہو، لیکن ان کے پاس کوچنگ کا کافی تجربہ ہے۔ لیول ۴؍ کوالیفائیڈ کوچ کے طور پر انہوں نے فرنچائز سرکٹ میں اپنی مضبوط پہچان بنائی ہے۔ انہیں پاکستان کرکٹ کی بھی معلومات ہے کیونکہ وہ پہلے پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن کا فیفا پر اسرائیل کے خلاف قوانین نافذ نہ کرنے کا الزام
ایک کھلاڑی کے طور پر اسمتھ نے ۲۰۰۳ء سے۲۰۱۳ء کے درمیان ۸۹؍ فرسٹ کلاس میچ، ۷۲؍ لسٹ-اے گیمز اور ۱۶؍ ٹی ۲۰؍ میچ کھیلے۔ دائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے تمام فارمیٹس میں کل ۷۰۲۹؍ رنز بنائے، جن میں نو سنچریاں اور ۴۰؍ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کے سامنے پہلا چیلنج پاکستان کی بیٹنگ یونٹ کو بہتر بنانے میں مدد کرنا ہوگا، جو حالیہ برسوں میں مسلسل اچھا مظاہرہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انگلینڈ کا دورہ، جس میں تین ٹیسٹ میچ کھیلے جائیں گے، ان تشویشوں کو دور کرنے کا ایک فوری موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اس طویل ترین فارمیٹ میں اپنی قسمت بدلنا چاہتا ہے کیونکہ ۲۴۔۲۰۲۳ءکے آسٹریلیا دورے کے بعد سے وہ مسلسل آٹھ بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکے ہیں۔