کسی نے نہیں بتایا کہ مجھے ہندوستانی کرکٹ ٹیم سے کیوں باہر کیا گیا تھا

Updated: December 26, 2021, 8:32 AM IST | Mumbai

ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کے بعد انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے ہربھجن سنگھ نے اپنے کریئر،تنازعات اور مستقبل کے تعلق سے روشنی ڈالی

harbhajan singh
ہربھجن سنگھ

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی ہربھجن سنگھ نے جمعہ کو ہر طرح کے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔گھریلو کرکٹ میں پنجاب کیلئے کھیلنے والے ہربھجن سنگھ نے ۱۹۹۸ء میں شارجہ میں نیوزی لینڈ کے خلاف یکروزہ میچ سے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ انہوںنے مارچ۲۰۰۱ء میں آسٹریلیا کے خلاف ۳؍ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ۳۲؍ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ا س دوران  انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے پہلے ہندوستانی گیندباز ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔ہربھجن سنگھ نے مارچ ۲۰۱۶ء میں متحدہ عرب امارات(یو اے ای) کے خلاف ٹی۔۲۰؍کی شکل میں اپنا آخری بین الاقوامی میچ کھیلا تھا۔اس کے بعد سے ہی وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم سے باہر رہے۔ انقلاب کے ساتھ بات چیت کے دوران ہربھجن سنگھ نے کہا کہ انہیں کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ ٹیم سے انہیں کیوں باہر کیا گیا تھا۔ہربھجن سنگھ سے کی جانے والی بات چیت اس طرح ہے۔
ریٹائرمنٹ کے اعلان میں تاخیر کی کیا وجہ رہی؟
 کئی برسوں سے سبکدوشی کے تعلق سے سوچ رہا تھا۔پتہ ہی نہیں چلا کہ اتنا وقت کیسے گزر گیا۔لیکن اب ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔
کرکٹ کے بعد کیا،فلم،سیاست یا کوچ بننے کے بارے میں غور کر ہے ہیں؟
 ابھی اس تعلق سے کچھ غور نہیں کیا ہے۔ دیکھتے ہیں مستقبل کے بارے میں اوپر والے نے کیا پروگرام بنا رکھا ہے،جو یہاں تک لایا وہ آگے بھی راہ دکھائےگا۔میں آگے بھی کرکٹ سے جڑا رہنا چاہتا ہوں چاہے جس شکل میں ہو، کوچنگ، مینٹور یا کچھ اور۔میں چاہتا ہوں کہ کرکٹ کو کچھ  دے سکوں۔
اشون نے حال میں کہا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے تعلق سے سوچنے لگے تھے۔آپ نے کبھی کھیلنے کے دوران ایسا سوچا تھا؟
 ٹیم اور سپورٹ اسٹاف سے جب تک تعاون ملتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے۔میں تو یہی کہوں گا کہ اگر مجھے صحیح وقت پر سپورٹ ملتا تو میں ۵۰۰؍سے ۵۵۰؍وکٹ حاصل کرکے بہت پہلے کھیلنا چھوڑ دیتا۔ جب میں ۳۱؍سال کا تھا تب ۴۰۰؍وکٹیں حاصل کر چکا تھا۔اگر مزید دو تین سال کھیلتا تو ۵۵۰؍وکٹیں حاصل کر لیتا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔مجھے سپورٹ کی ضرورت ۴۰۰؍وکٹیں لینے کے بعد پڑی۔ایک وقت آتا ہے جب کھلاڑیوں کو عزت دینی ہی چاہئے جس کے وہ حقدار ہیں۔مجھے سورو گنگولی نے جس طرح کا سپورٹ ۰۲۔۲۰۰۱ء میں دیا تھا اس طرح کا  سپورٹ اگر ۲۰۱۲ء کے بعد مل جاتا تو میں ۵۵۰؍وکٹیں لے کر بہت پہلے کرکٹ کو چھوڑ دیتا۔
 کیا آپ کوکمبلے کے بعد دوسرے نمبر کا گیندباز رہنے کا ملال  ہے؟
 مجھے ایسا کوئی ملال نہیں ہے کہ میں دوسرے نمبر پر ہوں یا ۱۰؍ویں نمبر پر۔نمبر صرف آپ کے ذہن میں رہتے ہیں۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں اتنے سال ہندوستان کےلئے کھیل سکا۔افسوس کرنے کےلئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہوا  وہ غلط ہوا وغیرہ۔مجھے خوشی ہے کہ اتنے عرصہ تک ملک کیلئے کھیل سکا۔۱۰۰؍ ٹیسٹ میچ کھیلنا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔میرا مقصد تھا کہ ۱۰۰؍ٹیسٹ میچ کھیلنے والا ہندوستانی گیندباز بن سکوں اور بن بھی گیا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں آپ نے شری کانت سے کہا تھا کہ جب میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تو آپ نے ٹیم سے نکال دیا تھا؟
 بالکل،۴۰۰؍وکٹیں خراب گیندبازی کرتے ہوئے تو ملتی نہیں۔جب کوئی ۴۰۰؍وکٹیں لیتا تو اس کے بعد اس کو کھیلنے کا موقع ہی نہ ملے یا اسے بتایا ہی نہ جائے کہ اسے ٹیم سے باہر کیوں کیا گیا ہے تو یہ غلط ہے۔کئی سوال میرے ذہن میں تھے میں نے لوگوں سے جاننے کی کوشش کی لیکن کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ مجھے ٹیم سے باہر رکھنے کی وجہ کیا تھی۔ایسا اگر ۴۰۰؍وکٹ لینے والے کے ساتھ ہوسکتا ہے تو ۴۰؍وکٹ لینے والے گیندباز کے تعلق سے کوئی سوال جواب ہی نہیں کرےگا۔
آپ کو بعد میں کسی سے جواب ملا کہ نہیں؟
 جواب جنہیں دینا چاہئے تھا ان سے میں نے دوبارہ پوچھا ہی نہیں کیونکہ گزرا وقت دوبارہ نہیں آتا۔اُس وقت جو لوگ  عہدے پر تھے اب ملتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ ’ساری ہم سے غلطی ہوئی تھی۔‘کسی نے بتایا کہ ان پر پریشر تھا۔جب آپ کچھ کر سکتے تھے تب آپ نے نہیں کیا تو اب ساری بولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔جو کچھ ہوا اچھا ہی ہوا۔میں بی سی سی آئی کا شکرگزار ہوں کہ مجھے اس مقام پر پہنچنے کا موقع دیا۔
آپ کے ساتھ تنازعات بھی جڑے رہے۔ چاہے سری سنت یو یا اینڈریو سائمنڈس یا شعیب اختر۔کبھی آپ کو ان پر افسوس ہوا؟
 افسوس صرف ایک چیز پر ہوا جو سری سنت کیساتھ ہوا۔ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔مجھے لگتا ہے کہ میری جانب سے غلطی ہوئی۔ میری سری سنت سے اب بھی ملاقات ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کسی اور با ت پر افسوس نہیں ہوا پھر چاہے وہ شعیب اختر کا معاملہ ہو یا  اینڈریو سائمنڈس کا۔مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں نے کیا کہا۔
آپ کے پسندیدہ کرکٹر کون ہیں؟
 سچن تینڈولکر،متھئیا مرلی دھرن،شین ورن، انل کمبلے،اسٹیو وا یہ کچھ ایسے کھلاڑی ہیں جو ہر دور میں میرے پسندیدہ کھلاڑی رہے۔
ایسا کچھ  رہ گیا کاش آپ کر پاتے؟
 میں چاہتا تھا کہ ہندوستانی جرسی پہن کر میچ کھیلتے ہوئے ریٹائر ہوں۔میرے بچے مجھے میدان پر کھیلتے ہوئے دیکھ پاتے تو مزہ آتا مگر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔
 کیا سیاسی میدان پر اترنے کی تیاری کر رہیں؟
 ابھی مجھے پتہ نہیں کہ کیا کروںگا۔لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا ہے ۔چاہے وہ میدان پر ہو یا میدان کے باہر۔میںآج جو کچھ بھی ہوں لوگوں کی وجہ سے ،بی سی سی آئی کی وجہ سے اور کرکٹ کی وجہ سے ہوں۔مجھے کچھ ایسا کرنا ہے  جس سے لوگوں کی مدد ہو اور ان کا فائدہ ہوسکے۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ میں جو کچھ کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے آزادی ملے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK