Updated: October 18, 2026, 4:11 PM IST
| Warsaw
فلسطین کی باصلاحیت کراٹے کھلاڑی مریم بشارات نے عالمی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی کراٹے چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیت لیا۔ مریم نے پولینڈ کے شہر بیلسکو بیاوا میں منعقدہ عالمی کراٹے چیمپئن شپ میں خواتین کے ۶۶؍کلوگرام سے کم وزن کے کومیٹے مقابلے کے فائنل میں اسپین کی نوآ لوپیز گونزالیز کو ۱۔۳؍ سے شکست دے کر عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔
فلسطین کی باصلاحیت کراٹے کھلاڑی مریم بشارات نے عالمی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی کراٹے چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیت لیا۔ مریم نے پولینڈ کے شہر بیلسکو بیاوا میں منعقدہ عالمی کراٹے چیمپئن شپ میں خواتین کے ۶۶؍کلوگرام سے کم وزن کے کومیٹے مقابلے کے فائنل میں اسپین کی نوآ لوپیز گونزالیز کو ۱۔۳؍ سے شکست دے کر عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ فلسطینی کھلاڑی نے سیمی فائنل میں جاپانی حریف کو شکست دینے کے بعد فائنل میں جگہ بنائی اور فیصلہ کن مقابلے میں بھی اپنی برتری ثابت کی۔
یہ بھی پڑھئے:لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز
یہ کامیابی مریم بشارات کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے گزشتہ عالمی کراٹے چیمپئن شپ میں حاصل کیا گیا اپنا خطاب برقرار رکھا ہے۔ وہ عالمی کراٹے فیڈریشن کی جونیئر خواتین کے ۶۶؍ کلوگرام سے کم وزن کے زمرے کی عالمی درجہ بندی میں بھی پہلے مقام پر ہیں۔ مریم اس سے قبل۲۰۲۴ء میں اٹلی کے شہر وینس میں منعقدہ عالمی چیمپئن شپ میں بھی طلائی تمغہ جیت چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایشیائی چیمپئن شپ اور عالمی کراٹے لیگ کے مقابلوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کی تازہ کامیابی فلسطینی کھیلوں کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ ہے اور اس نے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘
مریم بشارات کی اس کامیابی پرفلسطینی کھیلوں کے حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کی مسلسل فتوحات سخت محنت، تربیت اور عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ عالمی کراٹے چیمپئن شپ میں ایک مرتبہ پھر طلائی تمغہ جیت کر مریم نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے زمرے کی نمایاں کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور مستقبل میں بھی فلسطین کے لیے مزید اعزازات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔