ٹی وی اداکار ہ پراچی سنگھ کا کہنا ہےکہ میں اپنے سینئرس اداکاروں سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو انہیں سے مشورہ بھی کرتی ہوں۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 1:04 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ٹی وی اداکار ہ پراچی سنگھ کا کہنا ہےکہ میں اپنے سینئرس اداکاروں سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو انہیں سے مشورہ بھی کرتی ہوں۔
معروف ٹی وی شو’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ دوبارہ شروع ہوکر تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔ اس میں منجوری ویرانی کا کردار ادا کرنے والی پراچی سنگھ ہیں جنہوں نے ممبئی آنے سے قبل تھیٹرس گروپس کے ساتھ کام کیاہے۔ پراچی سنگھ کو پہلے ہی سے اداکارہ بننے کا شوق تھا، اسلئے انہوں نے اپنے شوق کو ہی اپناپیشہ بنالیا۔ حالانکہ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ماس کمیونی کیشن میں ڈگری حاصل کی۔ پراچی سنگھ اپنے کام کو سنجیدگی سے کرنے میں یقین رکھتی ہیں، اسلئے اپنے شو کے سینئر اداکاروں سے سیکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ پراچی سنگھ اس وقت ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ سے وابستہ ہیں اور وہ ٹی وی سے آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ نمائندہ انقلاب نےٹی وی اداکارہ پراچی سنگھ سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
سب سے پہلے میں یہی پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے اداکاری کا آغاز کیسے کیا؟ یہاں آنے کا فیصلہ کیسے کیا؟
ج: اداکاری کے تعلق سے میں یہی کہوں گی کہ مجھے ہمیشہ ہی سے اس میں دلچسپی رہی ہے۔ میں بچپن ہی سے اداکارہ بننا چاہتی تھی، لیکن تب میری پڑھائی اور کالج جاری تھا، اسلئے میں نے پہلے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارادہ کرلیا تھاکہ ایک بار تعلیم مکمل ہوجائے تو میں اس شعبے میں کوشش شروع کروں گی۔ اسی منصوبے کے تحت تعلیم ختم ہوتے ہی میں نے آڈیشن دینا شروع کیا اور پھر مجھے بالاجی کے شو ’پیار کی راہیں ‘ میں کام کرنے کا موقع ملا، جو میرا پہلا شو تھا۔ اس کے بعد میں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور اس طرح مجھے’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ جیسے معروف ٹی وی شو میں بھی موقع مل گیا۔ اس شو میں مجھے سینئر فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوا۔ ان تجربہ کارفنکاروں کے ساتھ اسکرین شیئر کرنا اور ایک اہم کردار نبھانا میرے لئے بہت بڑی بات ہے۔ میرے خیال میں اس شو نے میرے کریئر میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی جب لوگ مجھے پہچانتے ہیں تو زیادہ تر میرے کردار منجوری ویرانی یا منی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ہر عمر کے لوگ یہ شو دیکھتے ہیں، اسی لیے اس کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’روایتی شوز کو ختم کرنے کیلئے میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے‘‘
تجربہ کار اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا ہے؟ کیا آپ ان سے کچھ سیکھتی ہیں یا وہ آپ سے؟
ج: یہ بہت اہم بات ہے کہ جب آپ کسی سینئر اداکار کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ کو خود بھی احساس نہیں ہوتا لیکن آپ ان سے بہت کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس برسوں کا تجربہ ہوتا ہے، اسلئے وہ ہر منظر کو بہت آسانی سے انجام دیتے ہیں۔ اگر آپ کوکہیں کوئی مشکل پیش آجائے تو وہ رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر میرے کئی مناظر ایک سینئر اداکارہ کے ساتھ تھے، وہ اکثر مجھے سمجھاتی تھیں کہ اگر میں کسی منظر کو اس انداز سے کروں تو وہ زیادہ مؤثر لگے گا۔ اس طرح سینئر اداکار نئے فنکاروں کی بہت مدد کرتے ہیں۔
کیا آپ نے باقاعدہ اداکاری کی تربیت حاصل کی ہے یا اس تعلق سے کوئی کورس کیا ہے؟
ج:اداکاری کیلئے میں نے الگ سے کوئی کورس نہیں کیا، لیکن کالج کے زمانے میں تھیٹر میں باقاعدگی سے حصہ لیتی تھی۔ وہی میرا عملی تجربہ اور سیکھنے کا ذریعہ بنا۔ میں نے اپنے کالج کے بہت سے تھیٹرس شوز میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر میں نے ممبئی کا رخ کیا تھا اور اسی وجہ سے مجھے ٹی وی انڈسٹری میں اتنا بڑا شو مل گیا۔ رہی بات مزید سیکھنے کی تو اس شو میں سینئر اداکاروں کے ساتھ کام کرکے اداکاری کے گُر سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
کیا آپ صرف ٹی وی میں کام کرنا چاہتی ہیں یا فلموں میں بھی جانا چاہیں گی؟ اداکاری کے علاوہ بھی کوئی شوق ہے؟
ج: مجھے گانا گانا بہت پسند ہے۔ میں نے کچھ حد تک موسیقی بھی سیکھی ہے۔ شوٹنگ کے دوران جب وقت ملتا ہے تو گانے ریکارڈ کرتی ہوں اور اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہوں۔ گانے کا فن بھی میں نے کالج میں رہتے ہوئے ہی سیکھا تھا لیکن اداکاری میری ترجیح ہے۔ میں سیٹ پر خود کو مصروف رکھنے کیلئے گانے گاتی رہتی ہوں۔ اس سے میرے کام کا بوجھ بھی کم ہوجاتاہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں یہ بات جان گئی ہوں کہ انسان کو سیکھنے کا عمل کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے‘‘
آپ سوشل میڈیا کس حد تک استعمال کرتی ہیں ؟
ج:میں زیادہ منصوبہ بندی کے ساتھ مواد نہیں بناتی۔ جو چیز میرے دل کو اچھی لگتی ہے یا جو گانا مجھے پسند آتا ہے، وہی شیئر کرتی ہوں۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا بہت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے آپ اپنے مداحوں سے براہِ راست جڑ سکتے ہیں۔ وہ آپ کو دیکھ سکتے ہیں، تبصرے کر سکتے ہیں اور اگر آپ جواب دیں تو براہِ راست بات بھی ہو جاتی ہے۔ میں سوشل میڈیا پر ہلکا پھلکا مواد ہی شیئر کرتی ہوں تاکہ مداح بھی اسے دیکھ کر اچھا محسوس کریں۔ میں خود ہی انسٹاگرام سنبھالتی ہوں۔ میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنے سیٹ پر جو کچھ ہورہا ہے اس کے بار ےمیں باتیں شیئر کرتی رہوں۔
کیا کوئی ایسی اداکارہ ہے جسے آپ بہت پسند کرتی ہیں ؟
ج: مجھے ایشوریہ رائے بہت پسند ہیں، خاص طور پر ان کے تاثرات اورجذبات کا اظہار کرنے کا طریقہ بہت اچھا لگتاہے۔ ان کے علاوہ سشمتا سین بھی میری پسندیدہ اداکاراؤں میں شامل ہیں۔ مجھے ان کی اداکاری بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ دونوں اداکارہ ماڈل ہونے کے ساتھ ہی بہت اچھی اداکاری بھی کرتی ہیں کہ میں ان سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ مجھے ان کا کام بہت پسند آتاہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کسی بھی اداکار کو اپنے جدوجہد کے دور سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے‘‘
آپ نے ذہنی صحت سے متعلق جو بیان دیا تھا، وہ کیا تھا؟
ج:آج کے دور میں سب سے زیادہ ضروری چیز اچھی ذہنی صحت ہے۔ اگر انسان ذہنی سکون میں نہ ہو تو وہ بہت پریشان رہتا ہے۔ اس لیے میں زیادہ فکر نہیں کرتی۔ میں سیٹ پر بھی زیادہ دباؤ برداشت نہیں کرتی بلکہ اپنے کام کو پُر سکون طریقے سے نمٹاتی ہوں۔ حالات کیسے بھی ہوں، اچھے یا برے، میں پرسکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔ یہی میری اچھی صحت کا بھی راز ہے۔
کیا کوئی خاص کردار ہے جو آپ ضرور ادا کرنا چاہیں گی؟
ج:کوئی ایک مخصوص کردار ایسا نہیں جسے میں لازماً کرنا چاہوں، لیکن میری خواہش ہے کہ ہر نیا کردار پہلے سے بالکل مختلف ہو۔ مختلف کردار ادا کرنے سے ایک فنکار کی صلاحیت اور ورسٹائل ہونے کا پتہ چلتا ہے، اور انسان خود بھی جان پاتا ہے کہ وہ کس حد تک مختلف کردار نبھا سکتا ہے۔ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ میں مختلف انداز کے کرداروں کو بہتر انداز میں نبھاؤں۔
اگر مستقبل میں آپ کو کسی ریئلیٹی شو کی پیشکش ہو تو کیا آپ اس میں حصہ لینا چاہیں گی؟ اگر ہاں، تو کس قسم کے شو میں ؟
ج: میں نے ایسا کچھ طے نہیں کیا ہے۔ میں سبھی طرح کے شوز میں شرکت کرنا چاہتی ہوں اور اپنے فن کو نکھارنا چاہتی ہوں۔ میں ایک اداکارہ ہوں، اسلئے سبھی چیزو ں کیلئے مجھے تیار رہنا پڑتا ہے۔ میں او ٹی ٹی پربھی کام کرنے کی خواہشمند ہوں۔ اگر مجھے کچھ اچھا رول ملتاہے تو میں اس پلیٹ فارم پر بھی قسمت آزماؤں گی۔