بلائنڈ (Blind) کی جانب سے۱۲۷۶؍پیشہ ور افراد پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان میں تیزی سے پھیلتا ہوا گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی ) کا نظام ملازمتوں کے حصول کو پہلے سے زیادہ مسابقتی بنا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 5:02 PM IST | Mumbai
بلائنڈ (Blind) کی جانب سے۱۲۷۶؍پیشہ ور افراد پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان میں تیزی سے پھیلتا ہوا گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی ) کا نظام ملازمتوں کے حصول کو پہلے سے زیادہ مسابقتی بنا رہا ہے۔
بلائنڈ (Blind) کی جانب سے۱۲۷۶؍پیشہ ور افراد پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان میں تیزی سے پھیلتا ہوا گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی ) کا نظام ملازمتوں کے حصول کو پہلے سے زیادہ مسابقتی بنا رہا ہے جبکہ بہت سے افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اس صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔
امریکہ میں ویزا سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی ٹیکنالوجی شعبے کی افرادی قوت شدید متاثر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پیشہ ور افراد کے لیے گمنام کمیونٹی ایپ بلائنڈ (Blind) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں کام کرنے والے ہندوستانی پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد واپس ہندوستان آ رہی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق یہ واپسی ہندوستان کی ٹیک انڈسٹری میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔
بہت سے پیشہ ور افراد کا خیال ہے کہ اس ریورس مائیگریشن (واپسی کی ہجرت) سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہیںکیونکہ وہ ہندوستان میں اپنے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی ) کو تیزی سے وسعت دے رہی ہیں اور امریکہ سے واپس آنے والے تجربہ کار ملازمین کو نسبتاً بہت کم تنخواہوں پر دوبارہ ملازمت دے رہی ہیں۔
سروے کے مطابق ہندوستان میں شامل۱۲۷۶؍ تصدیق شدہ پیشہ ور افراد میں سے۵۳؍ فیصد نے کہا کہ انہوں نے ویزا سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکہ سے ہندوستان واپسی کا رجحان دیکھا ہے۔ ان میں سے ۳۶؍ فیصد نے بتایا کہ ان کے ساتھی یا ملازمت کے امیدوار پہلے ہی ہندوستان واپس آ چکے ہیں جبکہ مزید ۱۷؍ فیصد ایسے افراد کو جانتے ہیں جو واپسی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مراکش شریک میزبان کنیڈا کو ۳؍گول سے رو ند کر کوارٹر فائنل میں داخل
یہ رجحان بڑی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین میں زیادہ نمایاں ہے۔ بلائنڈ کے مطابق امیزون کے ۵۷؍فیصد،والمارٹ کے۵۸؍ فیصد اور اوبرکے ۵۵؍ فیصد ملازمین نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو امریکہ سے ہندوستان واپس آتے دیکھا ہے۔ یہی کمپنیاں اس وقت ہندوستان میں اپنے جی سی سی کے ذریعے انجینئرنگ اور پروڈکٹ آپریشنز کو بھی تیزی سے وسعت دے رہی ہیں۔ اگرچہ تجربہ کار پیشہ ور افراد کی یہ آمد اورجی سی سی کی مسلسل ترقی جاری ہے، لیکن سروے میں شامل بہت سے افراد کا ماننا ہے کہ اس سے مقامی ملازمتوں کی مارکیٹ بہتر ہونے کے بجائے مزید مسابقتی ہو گئی ہے۔
اسی دوران۵۱؍ فیصد افراد نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے شعبوں میں ملازمتوں کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ صرف ۲۶؍ فیصد نے بتایا کہ اسامیوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ۲۳؍ فیصد کے مطابق مارکیٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جی سی سی کی تیز رفتار توسیع اور ہندوستان افرادی قوت کے لیے دستیاب ملازمتوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ نئے روزگار پیدا کرنے کے بجائے، سروے میں شامل افراد کے مطابق ان میں سے بہت سی آسامیوں پر وہ پیشہ ور افراد تعینات کیے جا رہے ہیں جو بیرونِ ملک سے واپس آئے ہیں اور پہلے ہی انہی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کر چکے ہیں۔ اس طرح کمپنیاں ایک طرف تجربہ کار ملازمین کو برقرار رکھتی ہیں اور دوسری جانب ہندوستان میں ملازمتیں منتقل کر کے اپنی تنخواہوں کے اخراجات میں نمایاں کمی کر لیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا``ہیٹ ۲" میں لیونارڈو ڈی کیپریو اور کرسچن بیل نظر آئیں گے؟
سروے میں شامل ’’ گوگل‘‘ کے ایک ملازم نے معاوضوں میں آنے والی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ’’گزشتہ چھ ماہ کے دوران اوسط تنخواہوں میں کمی آئی ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ہندوستان میں تنخواہیں امریکہ میں اسی نوعیت کی ملازمتوں کے مقابلے میں تقریباً پانچواں حصہ ہو سکتی ہیں۔ کمپنیوں کے لیے یہ انتظام کئی فوائد رکھتا ہے۔ ملازمین کو ویزا کے حوالے سے زیادہ استحکام حاصل ہوتا ہے اور وہ اسی ادارے کے ساتھ کام جاری رکھ سکتے ہیں جبکہ آجر تجربہ کار افرادی قوت اور ادارہ جاتی مہارت برقرار رکھتے ہوئے تنخواہوں کے اخراجات میں نمایاں کمی کر لیتے ہیں۔سروے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں پر یکساں نہیں پڑ رہے۔ مصنوعی ذہانت (اےآئی ) اور مشین لرننگ (ایم ایل ) کے شعبوں میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد نسبتاً محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔