Updated: September 13, 2026, 2:01 PM IST
|
Anis Amrohvi
| Mumbai
اس کے بعد راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز پرتھوی راج کی تھیٹر کمپنی ’پرتھوی تھیٹر‘ میں بیس روپے ماہوار پر ایک معاون کی حیثیت سے کیا، پھر بمبئی ٹاکیز کی ملازمت اختیار کی، کافی دنوں تک کلیپر بوائے اور پھر کیدار شرما کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔
حادثے، واقعات اور سانحے تو ہر پل اِس دنیا میں ہوتے رہتے ہیں، مگر کچھ پل ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ بن کر زمانہ کی رفتار کو ٹھہرا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہمیں پڑھو کہ ہم میں انسانوں کی زندگی کے نشیب وفراز پنہاں ہیں، جو زمانہ ساز تھے اور تم آنے والی نسل کے نمائندے ہمیں کبھی فراموش نہ کر سکوگے۔ ‘‘ ایک ایسا ہی پل تھا ۲؍جون ۱۹۸۸ء کی رات ۹؍ بج کر ۲۰؍ منٹ کا پل۔ یہ پل بھی وقت کی کتاب میں تاریخ بن کر جم گیا ہے۔ وہ جس نے اپنے آپ کو، اپنی آتما کو، اپنے جسم کو، اپنے تمام جذبوں کو ایک مخصوص فن کیلئے وقف کر دیا تھا، اس پل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اور اپنا سب کچھ یادگار بناکر اس کار جہاں دراز کی تمام مصروفیات کو خیرباد کہہ کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلا گیا۔ بہت سی فلموں کا تخلیق کار اپنی زندگی کے آخری سین کو مکمل کرکے اپنے حقیقی تخلیق کار کے پاس پہنچ گیا۔ اس شخصیت کو دنیا راج کپور کے نام سے جانتی ہے۔
اُ س وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما کے ہاتھوں سے ۱۹۸۷ء کیلئے دادا صاحب پھالکے ایوارڈحاصل کرنے والا یہ فنکار کسی زمانے میں ایک بہت معمولی انسان تھا۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ ہر سال کسی ایسی فلمی شخصیت کو دیا جاتا ہے جس کی زندگی پوری طرح فلموں سے وابستہ رہی ہو۔ ۱۹۸۷ء کا قومی سطح کا یہ ایوارڈ ملک کے عظیم فنکار اور شومین راج کپور کو دیا گیا۔ ر اج کپور ہندوستانی فلمی صنعت کا وہ اہم ستون تھا جس کے بغیر ہماری فلم انڈسٹری کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ خود راج کپور کی زندگی کی تاریخ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔ زندگی کے تمام اُتار چڑھائو جو ہو سکتے ہیں، وہ سب راج کپور کی زندگی کے اہم پہلو بن کر رہ گئے ہیں۔
۱۹۲۴ء میں دسمبر کی ۱۴؍تاریخ کو پشاور میں، جو اَب پاکستان میں ہے، راج کپور نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں، وہ کوئی بہت بڑی حیثیت کا حامل خاندان نہیں تھا۔ مشہور اداکار پرتھوی راج کپور کے بیٹے کی حیثیت سے رنبیر راج کپور کا جنم ہوا، اور دوسرے عام بچوں کی طرح راج کی ابتدائی تعلیم دہرہ دون کے کرنل برانڈس اسکول میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب پرتھوی راج کپور فلموں میں اپنی اداکاری کا سکہ جما چکے تھے۔ اس زمانے میں ملک کے تین سربلند اداکاروں میں ایک نام پرتھوی راج کپور کا بھی تھا جبکہ دیگر دو نام مظہر خان اور چندر موہن کے تھے۔ راج کپور نے بمبئی کے انطونیو ڈسِلوا اسکول سے میٹرک اور سینئر کیمبرج کے امتحانات پاس کئے۔ بعد ازاں عملی زندگی کا آغاز ہوا۔
راج کپور کیلئے یہ کوئی بہت بڑے اعزاز کی بات نہ تھی کہ وہ فلم اداکار کے بیٹے ہیں۔ اُس وقت وہ صرف پرتھوی راج کپور کے لڑکے تھے اور رنبیر راج کپور کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ راج کپور نے جب اپنے والد کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بھی فلموں سے وابستہ ہونا چاہتا ہے، تب پرتھوی راج کپور نے صاف طور پر اس بات سے انہیں آگاہ کر دیا کہ اس سلسلے میں وہ کوئی سفارش یا بے جا مدد نہیں کر سکتے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ راج کو اس میدان میں اپنی حیثیت بنانے کیلئے جو کچھ بھی کرنا ہے، وہ اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی کرنا ہے۔
اس کے بعد راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز پرتھوی راج کی تھیٹر کمپنی ’پرتھوی تھیٹر‘ میں بیس روپے ماہوار پر ایک معاون کی حیثیت سے کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہدایتکار کیدار شرما کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے بغیر کسی معاوضے کے کام شروع کیا اور پروڈکشن کے اسرار ورموز سے واقفیت حاصل کرنا شروع کی۔ اس وقت راج کپور کی عمر لگ بھگ بیس اکیس برس رہی ہوگی۔ انہوں نے نہایت ایمانداری اور محنت کے ساتھ ہدایتکاری کا فن سیکھا۔ راج کپور نے بمبئی ٹاکیز کی ملازمت اختیار کی اور آرٹ ڈائریکشن کا کام سیکھا، کلیپر بوائے کا کام بھی کافی دنوں تک کیا۔ اس طرح فلم کے مختلف شعبوں کا تجربہ حاصل کرتے ہوئےانہوں نے ہدایتکار مہیش کول اور دیوکی بوس کے معاون ہدایتکار کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ یہ نشانیاں تھیں اس بات کی کہ ہماری فلم انڈسٹری میں ایک باصلاحیت اور ہونہار فلمساز پیدا ہو رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ راج کپور کی شخصیت کو سنوارنے اور سجانے میں پرتھوی تھیٹر کا بہت بڑا ہاتھ رہا، مگر اس کے ساتھ ہی راج کپور نے ہدایتکار کیدار شرما اوردیوکی بوس اور مہیش کول کے ساتھ رہ کر جو کچھ سیکھا، وہ آخر تک ان کی شخصیت سے جڑا رہا اور خود راج کپور انہی روایتوں کے علمبردار بنے رہے۔ اس سے قبل انہوں نے اداکاری کے میدان میں ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پربھی کام کیا تھا۔ ان کی پہلی فلم تھی ’’انقلاب‘‘۔ اس فلم سے ان کی اپنی ذاتی زندگی میں بھی انقلاب برپا ہو گیا۔ ۱۹۴۶ء میں کیدار شرما نے فلم ’نیل کمل‘ شروع کی اور بطور ہیرو راج کپور کو لیا۔ اس فلم میں وہ ہیرو کے علاوہ شرما کے معاون ہدایتکار بھی تھے۔ فلم کی ہیروئن تھیں مدھوبالا۔ اس وقت مدھوبالا اپنے اصلی نام ممتاز سے جانی جاتی تھیں۔ یہ فلم۱۹۴۷ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ ہیرو کے طور پر اپنی پہچان بناتے چلے گئے اور ’نیل کمل‘ کے بعد ’چتوڑ وجے، دل کی رانی، امر پریم اورجیل یاترا‘ جیسی فلموں میں انہوں نے کام کیا۔ ان فلموں سے انہوں نےخود کو اداکار کے طور پر منوا لیا۔
اُس وقت راج کپور کی عمر صرف ۲۳؍برس تھی۔ یہ ۱۹۴۷ء کا پُرآشوب دور تھا کہ راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی اور اپنی ہدایتکاری میں فلم ’آگ‘ بنانی شروع کر دی۔ یہ فلم اس وقت کی عام کمرشیل فلموں سے بالکل مختلف تھی۔ یہ ایک ایسے نوجوان کی زندگی کے تین ادوار کی کہانی تھی جس میں اس کا بچپن تھا، جوانی کی کالج لائف تھی اور تیسرا دور اس کے اسٹیج کے کام سے متعلق تھا۔ اس فلم کے ہر حصے کیلئے تین الگ الگ ہیروئنیں تھیں اور آخر میں ہیرو جلے ہوئے چہرے والی اپنی محبوبہ (نمی) کے پاس واپس لوٹ آتا ہے۔ یہ فلم اس دور کی آرٹ فلم کہلائی جا سکتی ہے۔ خالص کمرشیل فلم نہ ہونے کی وجہ سے فلم ’آگ‘ زیادہ بزنس تو نہ کر سکی، مگر اس فلم سے ہندوستانی سنیما کو ایک باصلاحیت ہدایتکار اور اداکار ضرور مل گیا۔
اس کے ساتھ ہی راج کپور کے حوصلے بلند ہوتے گئے۔ انہوں نے فوراً بعد ہی اپنی دوسری فلم ’برسات‘ شروع کر دی۔ یہ ایک خالص رومانی کہانی تھی جس کی موسیقی کو بہت پُراثر طریقے پر سنوارا گیا تھا۔ اس فلم میں پاکیزہ محبت کے جذبات کو احساس کی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جنسی ہوس کے جذبوں کی بھی عکاسی کی گئی تھی۔ یہ راج کپور کا وہی احساس تھا جو اُن کی بعد کی فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ تک میں بدرجہ اتم موجود رہا اور ان کا ایک خاصہ بن کر سامنے آیا۔ اب وہ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ فلم انسٹی ٹیوٹ کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ ’آر کے فلمز‘ کے بینر تلے بہترین فلمی ذہن جمع ہو چکے تھے جن میں خواجہ احمد عباس، اندر راج آنند، شیلندر، مکیش، شنکر جے کشن کے نام قابل ذکر ہیں۔
راج کپور کی فلم کمپنی کا ٹریڈ مارک
فلم ’برسات‘ نے فلم بینوں کے دلوں کے تاروں کو اس خوبصورتی سے جھنجھوڑا کہ دیکھنے والے عش عش کر اُٹھے، خود راج کپور بھی اس فلم سے اور اس فلم کی ہیروئن سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ فلم کے ایک سین کو اپنی فلم کمپنی کے بینر کا ٹریڈ مارک بنا دیا۔ یہ وہ سین تھا جب ہیروئن اپنے محبوب کے وایلن کی دُھن پر بے اختیار کھنچی چلی جاتی ہے اور جذبات محبت سے سرشار اپنے محبوب کی بانہوں میں جھول جاتی ہے۔ اس فلم سے نرگس اور راج کپور کی جوڑی اس قدر مقبول ہوئی کہ بعد میں دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہو گئے۔ فلم ’برسات‘ ملک کی پہلی ہندی فلم تھی جس کی آئوٹ ڈور شوٹنگ کشمیر کی حسین وادیوں میں کی گئی تھی۔
کپور خاندان کی تین نسلیں ایک ساتھ
فلم ’برسات‘ کی شوٹنگ کے آخری دن چل رہے تھے جب اردو کے مشہور کہانی کار خواجہ احمد عباس نے راج کپور کو ’آوارہ‘ کی کہانی سنائی۔ راج کپور اس کہانی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے فوراً ہی اس کہانی پر فلم بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فلم میں پرتھوی راج کپور نے راج کپور کے باپ کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں تین نسلیں ایک ساتھ تھیں۔ فلم میں پرتھوی راج کپور کے والد اور راج کپور کے دادا جان شری دیوان وشیشور ناتھ کپور نے بھی کام کیا تھا۔ ’آوارہ‘ میں راج کپور نے ایک آوارہ نوجوان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم نے صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے یورپ، روس اور چین میں بھی بے پناہ کامیابی حاصل کی۔
راج کپور نے ’آوارہ‘ کے بعد اپنی دو فلموں ’شری چار سو بیس‘ اور ’میرا نام جوکر‘ میں بھی اپنے ’آوارہ‘ والے انداز واطوار کو برقرار رکھا۔ فلم ’اناڑی، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، سپنوں کا سوداگر، دیوانہ اورجاگتے رہو‘ جیسی فلموں میں بھی ان کا انداز وہی تھا، مگر ان فلموں کے کردار مختلف قسم کے تھے۔ ان تمام فلموں میں ’شری چار سو بیس‘ نے فلم ’آوارہ‘ جیسی کامیابی حاصل کی۔ فلم ’آوارہ‘ کا آوارہ نوجوان گٹر میں پرورش پائے ہوئے تھا جبکہ فلم ’شری چار سو بیس‘ کا آوارہ نوجوان ایک پڑھا لکھا بیروزگار نوجوان تھا۔ اس فلم کا ایک گیت ’’میرا جوتا ہے جاپانی‘‘ روس میں بے پناہ مقبول ہوا اور وہاں لوگ سڑکوں پر چلتے ہوئے بھی اس گانے کو گنگنانے لگتے تھے۔ یہی حال ’آوارہ‘ فلم کے گیت ’’آوارہ ہوں ‘‘ کا بھی ہوا تھا۔ فلم ’جاگتے رہو‘ میں راج کپور نے ایک سادہ لوح جاہل انسان کا کردار ادا کیا تھا جو کلکتہ کی ایک کوٹھی میں پانی کی تلاش کرتا ہے۔ اس فلم میں راج کپور کی پختہ اداکاری اور مضبوط ہدایتکاری نے ان کو کئی نیشنل اور انٹر نیشنل ایوارڈ بھی دلوائے۔ ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ میں انہوں نے ایک ایسے سیدھے سادے انسان کا کردار ادا کیا تھا جس کے ہونٹوں پر محبت کے نغمے تھے اور دل میں انسانیت کیلئے پیار بھرا ہوا تھا۔ اپنے ان ہی دو ہتھیاروں کے ذریعہ وہ خطرناک قسم کے ڈاکوئوں سے ہتھیار ڈلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ خواجہ احمد عباس کی کہانی پر بنی یہ پہلی فلم تھی جو ڈاکوئوں کے موضوع پر ہوتے ہوئے بھی تشدد سے پاک تھی اور موسیقی سے لبریز تھی۔
۱۹۶۴ء میں راج کپور نے تکونی محبت کی کہانی پر فلم ’سنگم‘ بنائی۔ اس فلم میں ان کا ارادہ دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے کا تھا مگر چند وجوہات کی بنا پر دلیپ کمار اس فلم میں کام نہ کر سکے اور بعد میں وہ کردار راجندر کمار نے ادا کیا۔ اس فلم میں ان کی ہیروئن وجینتی مالا تھیں۔ فلم ’سنگم‘ راج کپور کی پہلی رنگین فلم تھی اور ملک کی پہلی ایسی فلم تھی جس میں دو انٹرویل (وقفے) تھے، کیونکہ کل ملاکر یہ فلم چار گھنٹے کی تھی اور تین برس میں بن کر مکمل ہوئی تھی۔ دلیپ کمار کے ساتھ راج کپور نے صرف ایک ہی بار محبوب خان کی فلم ’انداز‘ میں کام کیا تھا جس میں دونوں کی ہیروئن نرگس تھیں۔
راج کپور کی زندگی کی سب سے اہم فلم تھی ’میرا نام جوکر‘ جو چند نامعلوم اور غیریقینی وجوہات کی بنا پر ناکام ہو گئی تھی۔ یہ ایک ایسے مسخرے کی کہانی تھی جو دنیا بھر میں قہقہے بکھیرتا ہے مگر اس کی ذاتی زندگی میں کوئی قہقہہ نہیں ہے۔ اس کی مسکراتی ہوئی آنکھوں کے پیچھے کتنے دکھ چھپے ہیں، اس کے ہونٹوں سے نکلتے ہوئے نغموں میں کتنا درد ہے، یہ جاننے کی نہ کسی کو فرصت ہے، نہ ہی ضرورت۔ شاید اس فلم کی باکس آفس پر ناکامی کی وجہ یہی رہی ہو مگر اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ راج کپور کی بہترین اور مضبوط فلم کہی جا سکتی ہے۔ اس فلم کی ناکامی نے راج کپور کو معاشی طور پر بدحالی کے آخری سرے پر لاکر کھڑا کر دیا۔ ایسے وقت میں ہندوستان کے ارب پتی خاندان ’ہندوجا‘ نے راج کپور کی مدد کی تھی اور ان کی اگلی فلم ’بوبی‘ کو فائنانس کیا تھا۔ ’ہندوجا‘خاندان نے ہی راج کپور کی فلم ’سنگم‘ کو غیرممالک میں ریلیز کیا تھا اور وہ اس فلم سے اتنے متاثر ہوئے تھے کہ اپنی ایک فرم کا نام ’سنگم‘ ہی رکھ لیا تھا۔ فلم ’میرا نام جوکر‘ کی کہانی بھی خواجہ احمد عباس نے تحریر کی تھی۔ اس فلم کے بعد خواجہ احمد عباس نے راج کپور کو فلم ’بوبی‘ کی کہانی سنائی جوکہ خالصتاً معصوم ذہنوں کے اُس پیار کی کہانی تھی جو اپنے پیار کی راہ میں کسی بھی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو ٹھوکر پر مار دیتے ہیں۔ راج کپور نے جب اپنی ہدایتکاری کے تمام جوہر نچوڑکر اس فلم میں پرو دئیے تو یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی اور ایک بار پھر راج کپور اپنے اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ’میرا نام جوکر‘ کی ناکامی سے پہلے ان کو حاصل تھا۔ ’بوبی‘ فلم میں انہوں نے ہیرو کے بطور اپنے چھوٹے بیٹے رشی کپور کو پیش کیا جو فلم ’میرا نام جوکر‘ میں خود ان کے بچپن کا رول ادا کر چکا تھا۔ رشی کپور کے مقابلے میں ہیروئن کے طور پر انہوں نے ایک بالکل نئی لڑکی ڈمپل کپاڈیہ کو پیش کیا جس نے فلم کی اِنڈو کرسچن کمسن لڑکی کے کردار میں جان ڈال دی تھی۔
’بوبی‘ کے بعد انہوں نے خالص ہندوستانی موضوع کو چھوتی ہوئی وِدھوا وِواہ (کم عمر بیوہ کی دوسری شادی) پر فلم ’پریم روگ‘ بنائی جو باکس آفس پر بھی ہٹ ثابت ہوئی اور اس فلم نے مردوں کے بنائے ہوئے اس بوسیدہ سماج کی فرسودہ روایات کی بھی دھجیاں بکھیر دیں جو صرف مردوں کو ہی سارے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ’پریم روگ‘ کے بعد راج کپور نے اپنے چھوٹے بیٹے راجیو کپور کے ساتھ ایک نئی قیامت ’منداکنی‘ کو لے کر خالص پیار کے جذبات میں ڈوبی ہوئی فلم ’رام تیری گنگا میلی‘کی تخلیق کی۔ یہ فلم بھی ’بوبی‘ کی طرح سپرہٹ ثابت ہوئی۔ راج کپور کا فلمی سفر ان ہی فلموں میں مکمل نہیں ہوتا۔ اس درمیان اور بھی کئی فلمیں ہیں جو راج کپور کے طویل فلمی سفر میں ان کے دوش بدوش آگے بڑھتی رہی ہیں، مگر ان کی تمام فلموں میں پیار، محبت، امن وآتشی، اور انسانیت کا پیغام نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے کبھی ایسی کوئی فلم نہیں بنائی جس میں تشدد فلم کی کہانی پر حاوی ہو گیا ہو۔ حالانکہ ان کی فلمیں کمرشیل سنیما کی پوری طرح عکاسی کرتی ہیں۔
راج کپور نے کل ملاکر تقریباً ۴۷؍فلموں میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔ خود انہوں نے اپنی فلم کمپنی ’آر کے اسٹوڈیو‘ کے تحت ۱۸؍فلمیں بنائیں۔ جب راج کپور نے اپنی دوسری فلم ’برسات‘ بنائی تھی تبھی انہوں نے اپنے ان ساتھیوں کو اکٹھا کر لیا تھا جو پرتھوی تھیٹرز میں ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اس طرح ان کی یونٹ میں وہ سبھی لوگ شامل ہو گئے تھے اور اپنی تمام کامیابیوں کا سہرا وہ اپنے ساتھیوں کے سر باندھتے تھے۔ راج کپور کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ایک زمانے میں روسی عوام کو ہندوستان کی شخصیات میں صرف دو ہی نام یاد تھے۔ پہلا نام اُس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا اور دوسرا نام فلمساز ہدایتکار اور اداکار راج کپور کا۔ یہ مقبولیت اور یہ کامیابی ان کو یوں ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ اس کے پیچھے انتھک محنت اور اپنے فن سے سچی لگن کار فرما تھی۔ راج کپور کی زندگی کے بارے میں کوئی بات بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں اداکارہ نرگس کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ دراصل راج کپور کی زندگی کا یہ وہ باب ہے جو اُن کی آخری سانس تک ان کی آنکھوں میں زندگی کی شمعیں روشن کرتا رہا۔
کھیل ابھی ختم نہیں ہوا ہے، لیکن سب کو خوشیاں بانٹنے والا جوکر اب کھیل سے غائب ہو گیا ہے۔ رہ گئی ہیں اس کی یادیں اور اس کی وہ تخلیقات جو کبھی اس کو بھولنے نہیں دیں گی۔ ۲؍جون ۱۹۸۸ء کی منحوس رات کے اندھیرے سائے نے اس روشنی کو نگل لیا ہے، مگر روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ کسی نہ کسی طرح ذہنوں کو منور کئے رہتی ہے۔ راج کپور نے اپنی ایک فلم ’آہ‘ میں ایک مکالمے کو بار بار دہرایا تھا کہ میں اسپتال میں مرنا نہیں چاہتا مگر قسمت کے آگے کس کی چلی ہے؟ ۲؍جون ۱۹۸۸ء کو راج کپور کا انتقال دہلی کے ایک اسپتال ہی میں ہوا تھا۔