میرے بیان سے اگر اشون کو تکلیف پہنچی تو میں خوش ہوں

Updated: December 25, 2021, 1:14 PM IST | Agency

ٹیم انڈیا کے سابق کوچ روی شاستری نے کہا کہ اسپن گیندباز کلدیپ یادو کو بہتر گیندباز قرار دینے کے ان کے بیان نے اشون کو کچھ الگ کرنے کی ترغیب دی

Team India spin bowler Arashon (right) with former team coach Ravi Shastri.Picture:INN
ٹیم انڈیا کے اسپن گیندباز آر اشون(دائیں) ٹیم کے سابق کوچ روی شاستری کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

:ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ روی شاستری اس بات پر خوش ہیں کہ کلدیپ یادو کے بیرون ملک ہندوستان کے اہم اسپنر بننے کے ان کے بیان نے روی چندرن اشون کو ’کچھ الگ کرنے کی ترغیب دی‘۔واضح رہے کہ ۲۰۱۸ءکے دورۂ آسٹریلیا کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران اشون زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ان کی غیر موجودگی میں رویندر جڈیجہ اور کلدیپ یادو نے اسپن بولنگ کی ذمہ داری سنبھالی۔ سڈنی میں کھیلے گئے آخری ٹیسٹ میچ میں کلدیپ نے ۹۹؍رن پر ۵؍ وکٹ لے کر سب کو متاثر کیا تھا۔حال ہی میں کرکٹ منتھلی کے ساتھ بات چیت کے دوران  روی چندر اشون نے کہا تھا کہ شاستری کے بیان کے بعد وہ ’ٹوٹ چکے تھے۔‘‘ 
 جمعرات کو انڈین ایکسپریس ای اڈا پر بات کرتے ہوئے شاستری نے اشون کی بات کا جواب دیا۔ شاستری نے کہا’’بطور کوچ میرا کام ہر کسی کو مکھن لگانے کا نہیں ہے۔ میرا کام لوگوں  کے بارے میں سچ کہنا ہے۔ اشون سڈنی میں وہ میچ نہیں کھیلے تھے، جہاں کلدیپ نے  شاندار گیندبازی کی اوراننگز میں ۵؍وکٹیں حاصل کیں ۔ اس لئے یہ مناسب تھا کہ میں اس نوجوان کھلاڑی کو، جو بیرون ممالک میں شاید اپنا پہلا یا دوسرا ٹیسٹ  میچ کھیل رہاتھا، کی حوصلہ افزائی کروں۔ اس لئے میں نے کہا کہ یہاں اس نے جس طرح سے گیندبازی کی ہے، پورا امکان ہےکہ وہ بیرون ممالک میں ہندوستان کا نمبرایک اسپن گیندباز بن سکتا ہے۔‘‘
 شاستری نے مزید کہا’’اب اگرمیری اس بات سے کسی کھلاڑی کو برالگا، تو یہ اچھی بات ہے۔ آج مجھے خوشی ہے کہ میں نے اُس وقت وہ بیان دیا تھا۔ اب اشون نے اپنی بات کہی کیونکہ انہیں برالگا تھا اورجس انداز سے انہوں نے خود کو سنبھالا اورکام کیا اس سے میں بہت خوش ہوں۔ میں اس طرح کا کوچ ہوں جوچاہتا ہے کہ کھلاڑی اس سوچ کے ساتھ میدان پر اترے کہ میں اس کوچ کو سبق سکھاوں گا اوردکھاوں گا کہ میں کیاچیزہوں۔
 وہ آگے کہتے ہیں ’’اگرانہیں برالگا تومیں بہت خوش ہوں۔ اس نے انہیں کچھ اورکرنے پر مجبورکیا۔ مجھے خوشی ہے کیونکہ جس انداز سے وہ ۲۰۱۹ءمیں گیندبازی کررہے تھے اورجس طرح انہوں نے ۲۰۲۱ءکے دورہ آسٹریلیا پر گیندبازی کی، اس میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
 تاہم، اشون کو اس سیریز کے بعد کلدیپ کو ملنے والی تعریفوں سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ انہیں تکلیف اس بات سے تھی کہ ان کی کارکردگی کا استعمال کرکے یہ کہاجارہا تھا کہ اشون کا وقت اب ختم ہوچکا ہے۔ ساتھ ہی جب انٹرویو میں اشون سے پوچھا گیا کہ شاید یہ سب انہیں ترغیب دلانے کاایک طریقہ یوسکتا ہے تو انہوں نے کہا، ترغیب انہیں دی جانی چاہیے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ 
 آسٹریلیا کا وہ لگاتار دوسرا دورہ تھا جب اشون چوٹ کی وجہ سے باہر ہو گئے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ۲۰۱۸ء اور ۲۰۲۰ء کے درمیان متعدد زخموں سے لڑنے کے بعد انہوں نے کئی بار ریٹائرمنٹ پر بھی غور کیا۔ تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب اشون اپنے کریئر کے عروج پر ہیں اور انہوں نے اندرون اور بیرون ملک اچھی گیند بازی کی ہے۔ ان کے نام کُل۴۲۷؍ ٹیسٹ وکٹ ہیں اور وہ کپل دیو کو پیچھے چھوڑنے سے صرف ۸؍ وکٹیں دور ہیں۔
 دریں اثناء شاستری کا خیال ہے کہ اشون کی واپسی میں ان کی اچھی فٹنس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔شاستری کے مطابق ’’یہ اشون کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ آپ کو فٹ رہنا ہوگا۔ ہمیں ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو پوری سیریز کھیل سکیں۔ ۲۰۱۸ءکے بعد وہ ۲۰۱۹ء میں بھی زخمی تھے۔ تواگلے ۲؍ برسوں میں انہوں نے کیا کیا؟ میرے خیال میں انہوں نے اپنے کھیل پر سب سے زیادہ محنت کی ہے اور وہ عالمی معیار  کے گیندباز  ہیں۔
 شاستری نے مزید کہا’’میں آپ کو بتاوں کہ وہ اس وقت دنیا کے بہترین اسپنر ہیں۔ انہوں نے جس طرح سے اپنی فٹنس پر کام کیا ہے اور جس طرح سے وہ اس وقت بولنگ کر رہے ہیں، ان کے پاس  جنوبی افریقہ میں ہندوستان کااہم اسپنر بننے اورٹیم کو سیریز جتانے کاسنہراموقع ہے۔ 
کپتانی تنازہ بہتر طریقے سے سنبھالا جاسکتا تھا
  اس موق پر انہوںنے کپتانی کے تعلق سے ہونے والے تنازعہ کے بارے میں کہا کہ’’  کپتانی میں تبدیلی کو اچھی بات چیت سے اوربہتر طور پر سنبھالا جا سکتا تھا۔‘‘ واضح رہے کہ وراٹ کوہلی نے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ سیریز کے لئے ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کرنے سے ڈیڑھ گھنٹے قبل انہیں بتایاگیا کہ تھا کہ اب وہ ایک روزہ ٹیم کے کپتان نہیں ہیں۔ شاستری نے کہا’’میں کئی برسوں سے اس سسٹم کا حصہ ہوں، خاص طور پر پچھلے ۷؍ برسوں  سے میں ٹیم کا حصہ رہا ہوں۔ میرے خیال میں اچھی بات چیت کرکے اسے بہترطریقے سے سنبھالاجاسکتا تھا۔ اسے عام کرنے کے بجائے تنہائی میں ہی اس کا حل تلاش کیا جا سکتا تھا۔ اس چیز کو تھوڑا بہتر کمیونکیشن کی ضرورت ہے۔"
انہوں نے مزید کہا’’وراٹ نے اپنا موقف رکھا ہے۔ اب بورڈ کے چیئرمین کی باری ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنا موقف پیش کریں۔ سوال یہ نہیں کہ جھوٹ کون بول رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے؟ ہم سب کو سچ جاننا ہے اور وہ صرف بات چیت اورکمیونکیشن سے ہی سامنے آسکتا ہے۔ آپ کو ایک نہیں بلکہ دونوں سے جواب چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK