Inquilab Logo Happiest Places to Work

شفیق کی سنچری اور بابر کے ۸۶؍ رنز سے پاکستان مضبوط پوزیشن میں

Updated: August 04, 2026, 4:04 PM IST | Port Of Spain

پاکستان کے لیے یہ بلے بازی کا ایک بہترین دن تھا، جس میں عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نے تیسری وکٹ کے لیے ۱۶۸؍ رنز کی اٹوٹ شراکت داری کی۔ پورٹ آف اسپین میں دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک پاکستان کا اسکور۲؍ وکٹوں پر ۲۶۶؍ رنز تھا۔

Pakistani Batter.Photo:X
پاکستانی بلے باز۔ تصویر:ایکس

پاکستان کے لیے یہ بلے بازی کا ایک بہترین دن تھا، جس میں عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نے تیسری وکٹ کے لیے ۱۶۸؍ رنز کی اٹوٹ شراکت داری کی۔ پورٹ آف اسپین میں دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک پاکستان کا اسکور۲؍ وکٹوں پر ۲۶۶؍ رنز تھا، جبکہ اس سے پہلے انہوں نے ویسٹ انڈیز کو۳۴۴؍ رنز پر آل آؤٹ کر دیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں شان مسعود کی جگہ کھیلنے آئے شفیق ۱۰۷؍ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ بابر اعظم سنچری کے قریب تھے اور دن کا کھیل ختم ہونے تک ۸۶؍ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ لوٹے۔

یہ بھی پڑھئے:کشور کمار کیلئےفلم کاکوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس میں انہیں دلچسپی نہ رہی ہو

صبح ویسٹ انڈیز کی اننگز ختم کرنے کے بعد اذان اویس اور امام الحق نے پاکستان کی اننگز کا مثبت آغاز کیا، لیکن چائے کے وقفے سے پہلے میزبان ٹیم نے دو وکٹیں لے کر واپسی کی۔ امام، شمر جوزف کی تیز باؤنس ہوتی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ اویس نے شاندار نصف سنچری بنانے کے بعد جومیل واریکن کی گیند پر سویپ شاٹ کھیلنے میں غلطی کی اور آؤٹ ہو گئے۔ ۱۳۹؍ رنز پر۲؍ وکٹ گرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے پاس موقع تھا، لیکن شفیق اور بابر نے سنبھل کر شراکت داری کر کے اس موقع کو ختم کر دیا؛ انہوں نے احتیاط اور مسلسل رنز بنانے کے درمیان اچھا توازن برقرار رکھا۔
جیسے جیسے پچ فلیٹ ہوتی گئی، دونوں بلے بازوں کے لیے بلے بازی کافی آسان ہو گئی اور ویسٹ انڈیز کو ویسی مدد نہیں مل سکی جیسی پاکستان کے اسپنرس کو میچ کی شروعات میں ملی تھی۔ پیر کی چوٹ کی وجہ سے جسٹن گریوز کے گیند بازی نہ کر پانے سے میزبان ٹیم کے متبادل  مزیدکم ہو گئے، جس سے انہیں واریکن، شمر جوزف اور روسٹن چیس و کاوم ہوج کی پارٹ ٹائم اسپن گیند بازی پر کافی حد تک انحصار کرنا پڑا۔ شفیق اور بابر دونوں نے خراب گیندوں پر تیزی سے رنز بنائے اور آسانی سے اسٹرائیک روٹیٹ کی۔
 ٹی بریک کے بعد کا سیشن پوری طرح سے مہمان ٹیم کے نام رہا۔ بابر اپنی جانی پہچانی لے میں آ گئے اور شاندار بیک فٹ پنچ، ڈرائیو اور فلک کھیل کر اپنی۳۳؍ ویں ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کی۔ جبکہ دوسرے سرے پر شفیق نے بھی ان کے ساتھ برابری سے شاٹس کھیلے۔ دونوں نے بغیر کسی پریشانی کے ۱۰۰؍ رنز کی پارٹنرشپ پوری کی۔ انہوں نے آف اسٹمپ کے باہر کی گیندوں کو چھوڑنے میں سمجھداری دکھائی اور جب بھی گیند بازوں نے لینتھ میں غلطی کی، تو اس کا پورا فائدہ اٹھایا، جس سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم بار بار پریشان ہوتی رہی۔ میزبان ٹیم کو کچھ رن آؤٹ کے مواقع اور فیلڈنگ کے دوران آدھے ادھورے مواقع ملے، لیکن وہ فائدہ نہیں اٹھاسکی۔
شفیق نے تقریباً بے داغ سنچری پوری کی۔ انہوں نے واریکن کی گیند پر پل شاٹ کھیل کر اپنی چھٹی ٹیسٹ سنچری جڑی - یہ ان کی گھر سے باہر تیسری، برصغیر کے باہر پہلی اور ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی سنچری تھی۔ دن کا کھیل ختم ہونے تک، بابر کے ساتھ ان کی اٹوٹ  ۱۶۸؍رنز کی شراکت داری پاکستان کی ایشیا کے باہر تیسری وکٹ کے لیے ۱۵۰؍ سے زیادہ رنز کی پہلی شراکت داری بن گئی۔ اس سے پہلے ۲۰۰۶ء میں دی اوول میں محمد حفیظ اور یوسف یوحنا نے۱۷۷؍ رنز جوڑے تھے۔ اب مہمان ٹیم آٹھ وکٹیں ہاتھ میں رہتے ہوئے ویسٹ انڈیز سے صرف ۷۸؍رنز پیچھے ہے۔
اس سے پہلے، ویسٹ انڈیز نے دن کی شروعات ۵؍ وکٹوں پر۲۳۹؍ رنز سے کی تھی۔ پاکستان نے دوسری نئی گیند سے وکٹیں لیں، لیکن اس کے باوجود ویسٹ انڈیز اپنی پہلی اننگ کا اسکور ۳۴۴؍رن تک پہنچانے میں کامیاب رہا۔ علی عثمان نے شروعات میں کامیابی دلائی جب گریوز، جو اپنے کل کے ۶۴؍ رنز کے اسکور میں صرف نو رنز اور جوڑ پائے تھے، ڈرائیو کرنے کی کوشش میں پوائنٹ پر کیچ دے بیٹھے اور ۷۳؍ رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد پاکستان نے مسلسل وکٹیں لیں۔ عبید شاہ نے اچھی طرح سے سیٹ روسٹن چیس کو۷۰؍ رنز پر آؤٹ کیا؛ ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ایک جدوجہد سے بھری ففٹی لگائی تھی اور گریوز کے ساتھ ۹۶؍ رنز کی اہم شراکت داری کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:جاپان: بچوں کی دیکھ بھال کیلئے رخصت لینے والے مردوں کی شرح پہلی بار ۵۰ فیصد سے تجاوز کرگئی


کیمر روچ نے چیس کے ساتھ مل کر ۱۹؍ رنز کی مضبوط شراکت داری کی، جبکہ شمر جوزف اور جیڈن سیلز نے بھی مفید رنز بنائے، جس سے ویسٹ انڈیز صبح کے سیشن میں ۱۰۵؍رنز جوڑنے میں کامیاب رہا۔ تاہم، ساجد خان نے یقینی بنایا کہ نچلا آرڈر زیادہ دیر تک نہ ٹک سکے؛ انہوں نے روچ کو ایل بی ڈبلیو  آؤٹ کیا، پھر شمر جوزف کو پویلین بھیجا اور آخر میں سیلز کو سلپ میں کیچ کرا کے اننگ ختم کی۔ انہوں نے ۸۵؍ رنز دے کر۴؍ وکٹیں لیں۔ علی عثمان نے ۸۰؍ رنز دے کر۲؍ وکٹیں لیں؛ پاکستان کے اسپنرس نے گیند بازی کا زیادہ تر بوجھ سنبھالا اور آپس میں چھ وکٹیں بانٹیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK