Inquilab Logo Happiest Places to Work

SpaceX راکٹ کا چاند سے ۸۷۰۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تصادم

Updated: August 06, 2026, 5:02 PM IST | Washington

امریکی خلائی کمپنی SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کا ایک ناکارہ بالائی مرحلہ (Upper Stage) بدھ کو تقریباً ۸۷۰۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ ماہرین فلکیات نے تصدیق کی ہے کہ یہ تصادم غیر ارادی تھا اور اسے کئی ماہ پہلے ہی پیش گوئی کے ذریعے متوقع قرار دیا گیا تھا۔

The image shows the rocket colliding with the moon. Photo: INN
تصویر میں راکٹ کا چاند سے تصادم دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب SpaceX کے Falcon 9 راکٹ کا ایک ناکارہ Upper Stage چاند کی سطح سے تقریباً ۸۷۰۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا گیا۔ سائنسدانوں نے اس تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ مکمل طور پر غیر ارادی تھا، تاہم اس کی پیش گوئی کئی ماہ قبل کر دی گئی تھی اور مختلف خلائی ادارے اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ یہ راکٹ جنوری ۲۰۲۵ء میں Firefly Aerospace کے Blue Ghost اور جاپانی کمپنی ispace کے Resilience قمری لینڈرز کو لے کر روانہ ہونے والے مشن کا حصہ تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا بالائی حصہ زمین کی فضا میں واپس داخل ہونے کے بجائے خلا میں بھٹکتا رہا۔ سورج، زمین اور چاند کی کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات کے باعث اس کا مدار بتدریج تبدیل ہوا اور بالآخر وہ چاند سے جا ٹکرایا۔ 

تصادم چاند کے Einstein Crater کے قریب اس مقام پر ہوا جہاں سے براہِ راست مشاہدہ آسان نہیں تھا۔ اگرچہ کسی خلائی جہاز نے تصادم کا لمحہ قریب سے ریکارڈ نہیں کیا، لیکن چلی میں واقع European Southern Observatory کے Very Large Telescope (VLT) نے سوڈیم اور لیتھیم پر مشتمل ایک مختصر غبار (Debris Plume) ریکارڈ کیا، جسے سائنسدانوں نے تصادم کا مضبوط ثبوت قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ غبار چاند کی مٹی اور راکٹ کے مادّوں کے باہمی تصادم کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ فلکیات داں بل گرے ان ماہرین میں شامل تھے جنہوں نے کئی ماہ پہلے اس تصادم کی پیش گوئی کی تھی۔ بعد ازاں بوسٹن یونیورسٹی کے سائنس داں کارل شمٹ اور ماہر فلکیات جوناتھن میک ڈویل سمیت دیگر ماہرین نے بھی دستیاب مشاہداتی شواہد کی بنیاد پر تصدیق کی کہ راکٹ واقعی چاند سے ٹکرا چکا ہے۔ 

ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس تصادم سے چاند کی سطح پر تقریباً ۴۰؍ میٹر قطر کا نیا گڑھا بن سکتا ہے، جبکہ بعض تخمینوں کے مطابق اس کے دھماکے کی توانائی تقریباً تین ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ چونکہ چاند پر فضا موجود نہیں، اس لیے راکٹ جلنے کے بجائے براہِ راست سطح سے ٹکرایا اور گرد و غبار کا بڑا بادل فضا میں بلند ہوا۔ سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ یہ حادثہ کسی انسان یا فعال خلائی مشن کے لیے خطرناک ثابت نہیں ہوا، لیکن اس نے چاند کے گرد بڑھتے ہوئے Space Debris کے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ مستقبل میں جب NASA کے Artemis پروگرام، Blue Origin، SpaceX اور دیگر ادارے چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور سائنسی تنصیبات قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو اس نوعیت کا بے قابو خلائی ملبہ بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے خلائی ملبے کی بہتر نگرانی اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی ضرورت ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسلم ممالک کا مسجد اقصیٰ سےمتعلق مشترکہ اقدام پر غور، اسرائیل کے خلاف سخت ردِعمل

اس واقعے کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اس تصادم کی پیش گوئی پہلے سے موجود تھی، اس لیے مختلف زمینی دوربینوں اور قمری مدار میں گردش کرنے والے خلائی جہازوں نے اس کے مشاہدے کی تیاری کر رکھی تھی۔ NASA کا Lunar Reconnaissance Orbiter (LRO) اور جنوبی کوریا کا Danuri قمری مدار گرد مشن تصادم سے پہلے اور بعد کی تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جن کی مدد سے نئے گڑھے، گرد و غبار کے پھیلاؤ اور قمری سطح پر اثرات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔ یہ معلومات مستقبل کے قمری مشنز اور خلائی ملبے کے انتظام سے متعلق پالیسیوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK