Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج ونچت بہوجن اگھاڑی کا ’مہاراشٹر بند‘، تمام پارٹیوں سے شرکت کی اپیل

Updated: July 23, 2026, 9:46 AM IST | Nanded

پرکاش امبیڈکر نے کہاکہ حکومت طلبہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کر رہی ہے ، اس لئے طلبہ کی حمایت ضروری ہے

Prakash Ambedkar. Photo: INN
پرکاش امبیڈکر۔ تصویر: آئی این این

جنتر منتر پر طلبہ پر ہونے والے پولیس کے حملوں کے خلاف ونچت بہوجن اگھاڑی نے آج مہاراشٹر بند کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی سربراہ پرکاش امبیڈکر نے عوام کے ساتھ تمام پارٹیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس بند میں شامل ہوں۔ کئی پارٹیوں نے س بند میں شامل ہونے کا اعلان بھی کیا ہے۔ 
 بدھ کو پرکاش امبیڈکر نے ایک ویڈیو جاری کرکے کہا ’’ نریندر مودی اور امیت شاہ نے دہلی پولیس کو حکم دیا تھا کہ طلبہ پر ایسا لاٹھی چارج کیا جائے کہ شام ۵؍ تک پورا جنتر منتر خالی ہو جائے لیکن پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد بھی ایسا ہو نہیں سکا۔ لہٰذا حکومت اب کھسیاہٹ میں مبتلا ہے اور اس نے طلبہ کے خلاف مزید سخت کارروائی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ 
  امبیڈکر نے دعویٰ کیا کہ حکومت جموں کشمیر میں تعینات فوج کو دہلی میں ’ اسٹینڈ بائے‘ کے طور پر تیار رہنے کیلئے کہا ہے۔ طلبہ کے خلاف کبھی بھی کوئی بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ احتجاج چونکہ مہاراشٹر ہی سے شروع ہوا ہے اسلئے ضروری ہے کہ ہم طلبہ کی حمایت میں ۲۳؍ تاریخ کو مہاراشٹر بھر میں اپنا کاروبار بند رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام پارٹیوں سےگزارش کرتا ہوں کہ وہ بھی اس بند میں شامل ہوں اور طلبہ کے احتجاج کو مضبوط کریں۔   
 کئی پارٹیوں کی جانب سے حمایت کا اعلان 
    اسی سلسلے میں بدھ کو ناندیڑ کےسرکاری ریسٹ ہاؤس میں ہم مختلف پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو) ، این سی پی  (شرد )، سی پی آئی اور پی آر پی نے بند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ونچت بہوجن اگھاڑی کے لیڈر انجینئر پرشانت انگولے نے بتایا کہ جمعرات کو  صبح ۱۱؍  بجے آئی ٹی آئی سے مارچ نکالا جائے گا جو ورکشاپ، راج کارنر، شیتکری پتلا سے ہوتا ہوا دوبارہ آئی ٹی آ ئی پہنچے گا۔ انہوں نے ناندیڑ کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بند اور مارچ میں بھرپور شرکت کر یں۔ اجلاس میں این سی پی (شرد ) کے   بھگوان آلےگاؤںکر، شیو سینا ( ادھو) کے  ببن بارسے، کانگریس کے  وٹھل پاوڈے،  عبدالغفار،   ایم این ایس کے شیخ شفیع، ونچت بہوجن  اگھاڑی  کے  راج آٹکورے، شنکر مہاجن، شیام کامبلے سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK