راجر فیڈرر اور سیریناولیمز کی سبکدوشی کے ساتھ ہی ٹینس میں الکاراز اور سواتیک کے دورکاآغاز

Updated: September 18, 2022, 10:02 AM IST | New York

راجر فیڈرر اور سیرینا ولیمز کی رخصتی سے بہت پہلے ٹینس کے مستقبل کی باتیں کی جا رہی تھیں لیکن سواتیک اور الکاراز جیسے نوجوانوں نے حالیہ دنوں میں ثابت کر دیا ہے کہ کھیل صحیح ہاتھوں میں ہے۔

Iga Swastik
آئیگا سواتیک

:راجر فیڈرر اور سیرینا ولیمز کی رخصتی سے بہت پہلے ٹینس کے مستقبل کی باتیں کی جا رہی تھیں لیکن سواتیک اور الکاراز جیسے نوجوانوں نے حالیہ دنوں میں ثابت کر دیا ہے کہ کھیل صحیح ہاتھوں میں ہے۔۲؍ لیجنڈس راجر فیڈرر اور سیرینا ولیمز کے ایک ہفتے کے اندر ریٹائرمنٹ جیسے اعلانات کے ساتھ ٹینس کا ایک دور ختم ہو رہا ہے  جب کہ۲۱؍ سال کی عمر میں تیسرا گرینڈ سلیم جیتنے والی آئیگاسواتیک اور ۱۹؍برس کی  عمر میں پہلا گرینڈ سلیم  جیتنے والے کارلوس الکاراز نے ایک نئے دور کے آغاز کی جھلک پیش کی  ۔ ۴۰؍ سالہ سیرینا نے اشارہ دیا تھا کہ وہ یو ایس اوپن کے بعد اپنا آخری پروفیشنل میچ کھیل چکی ہیں، فیڈرر نے جمعرات کو ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ فیڈرر نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے لیور کپ میں آخری بار کورٹ پر جائیں گے۔
 ان دونوں کھلاڑیوں کے الگ ہونے سے پہلے بھی ٹینس کے مستقبل کے بارے میں کافی چرچا تھی لیکن سواتیک اور الکاراز جیسے نوجوانوں نے حالیہ دنوں میں ثابت کیا ہے کہ کھیل صحیح ہاتھوں میں ہے۔ہال آف فیم کے کوچ نک بولٹیری نے کہا ’’یہ دونوں کھلاڑی ٹینس کو اس شکل میں ڈھالنے کی کوشش کی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہم اسے یاد کریں گے۔‘‘بولٹیری، جنہوں نے ولیمز بہنوں (سیرینا اور وینس)، آندرے اگاسی، جم کوریئر، مونیکا سیلس اور ماریا شاراپووا کے ساتھ کام کیا ہے، نے کہا’’ان نوجوان کھلاڑیوں کی  رینکنگ میں ٹاپ پر آنے سے ٹور میں بڑا فرق پڑے گا۔  انہوں نے کہا کہ فیڈرر کے جانے کے بعد بھی رافیل ندال اور نوواک جوکووچ متحرک ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ندال انجری کا شکار ہیں اور جوکووچ کورونا وائرس کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے محدود مقابلوں میں کھیل رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی دونوں نے سال کے ۴؍ میں ۳؍ گرینڈ سلیم جیتے ہیں۔ سیرینا نے۲۳؍ اور فیڈرر نے۲۰؍ گرینڈ سلیم جیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان دونوں نے اولمپک میڈلز اور کئی ٹورنامنٹ جیتے اور سیکڑوں ہفتوں تک رینکنگ میں ٹاپ پر رہے۔
   یوتھ بریگیڈ ان کھلاڑیوں کی جگہ بھرنے کیلئے تیارہے۔سواتیک اورالکاراز نے مختصر بین الاقوامی کریئر میں اس کی جھلکیاں پیش کردی ہیں۔ سواتیک  ۶؍ ماہ قبل ایشلے بارٹی کے ریٹائرمنٹ کے بعد سے رینکنگ میں نمبر ایک خاتون کھلاڑی ہیں۔ وہ۲۰۱۶ء کے بعد ایک سیزن میں ۲؍ گرینڈ سلیم خطاب جیتنے والی پہلی خاتون ہیں۔
 الکاراز پیر کو۱۹۷۳ء میں کمپیوٹرائزڈ رینکنگ متعارف کرائے جانے کے بعد سے نمبر ون رینکنگ حاصل کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔ وہ ۱۹۹۰ء میں پیٹ سمپراس کے بعد یو ایس اوپن جیتنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں اور ندال (۲۰۰۵ء میں فرنچ اوپن) کے بعد کوئی بھی گرینڈ سلیم مینز سنگلز ٹائٹل جیتنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ جب فیڈرر نے اپنا پہلا گرینڈ سلیم جیتا تھا اس وقت الکاراز صرف ۲؍ ماہ کے تھے جب کہ سواتیک ۲؍ سال کی تھیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں پر فیڈرر اور سیرینا کے کھیل کی گہری چھاپ ہے۔ سواتیک اور الکاراز کے علاوہ، ناؤمی  اوساکا، کوکو گف، فرانسس ٹیافو اور یانک سنر، کیسپر روڈ اور اونس جابر جیسے کھلاڑی ماضی قریب میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر چکے ہیں۔ طویل عرصے سے فیڈرر کے نمائندے ٹونی گوڈسک نے کہا ’’ٹینس بہت اچھی جگہ پر ہے۔ تم اسپین کے اس ` بچے الکاراز کو دیکھو، وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے پیچھے اور بھی کھلاڑی ہیں۔ یہ ٹینس کے لئے اچھا ہے جو مستقبل میں اس کی ترقی میں اہم ہوں گے۔‘‘

tennis Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK