انڈین آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سلیوٹس مختلف ہوتے ہیں، کیوں؟

Updated: January 15, 2021, 4:22 AM IST | Mumbai

سلیوٹ یعنی سلامی، فوجیوں کے مابین احترام اور اعتماد کا ایک اہم اشارہ ہے۔ جب ہمارے جوان اپنے چمکتے ہوئے یونیفارم کے ساتھ سلامی پیش کرتے ہیں تو نہ صرف انہیں بلکہ ہم سب کو فخر محسوس ہوتا ہے۔ سلامی پیش کرنا فوجیوں کی ایک پرانی روایت ہے جس کی صدیوں سے پیروی کی جارہی ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سلیوٹ یعنی سلامی، فوجیوں کے مابین احترام اور اعتماد کا ایک اہم اشارہ ہے۔ جب ہمارے جوان اپنے چمکتے ہوئے یونیفارم کے ساتھ سلامی پیش کرتے ہیں تو نہ صرف انہیں بلکہ ہم سب کو فخر محسوس ہوتا ہے۔ سلامی پیش کرنا فوجیوں کی ایک پرانی روایت ہے جس کی صدیوں سے پیروی کی جارہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں آرمی (فوج)، نیوی (بحریہ) اور ایئر فورس (فضائیہ) سے منسلک اہلکار تین مختلف انداز میں سلیوٹ کرتے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ تین مختلف انداز کون سے ہیں ؟ اورایسا کیوں کیا جاتا ہے؟
انڈین آرمی (جس ہاتھ سے سلامی دی جاتی ہے اس کی ہتھیلی پوری کھلی ہوتی ہے اور سامنے والے شخص کی جانب ہوتی ہے): ہندوستانی فوج کے اہلکار ہمیشہ اس ہاتھ (سیدھے ہاتھ) سے سلیوٹ کرتے ہیں جس سے انہیں ہتھیار اٹھانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ سلیوٹ دیتے وقت ان کے ہاتھ کی تمام انگلیاں ملی ہوتی ہیں اور ہاتھ کی درمیانی انگلی، ٹوپی کا سخت حصہ یا دائیں آنکھ کی بھنو چھو رہی ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف اہلکاروں میں اعتماد قائم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سلیوٹ کرنے والے شخص کا کوئی برا ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی اسلحہ چھپا ہوا ہے۔
انڈین نیوی (جس ہاتھ سے سلیوٹ دیا جاتا ہے اس کی ہتھیلی زمین کی جانب ہوتی ہے): ہندوستانی بحریہ میں سلیوٹ کرتے وقت ہتھیلی ۹۰؍ کے زاویے سے زمین کی جانب ہوتی ہے جبکہ درمیانی انگلی ماتھا چھورہی ہوتی ہے یا ٹوپی کا سخت والا حصہ۔ بنیادی طور پر یہ بحریہ کا سلیوٹ کرنے کا صدیوں پرانا رواج رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی بحری فوج اسی انداز میں سلیوٹ کرتی ہیں ۔ اس قسم کے سلیوٹ کی وجہ جہاز پر کام کرتے ہوئے ہاتھوں پر تیل یا چکنائی کے داغ دھبوں کو چھپانا ہوتا ہے تاکہ وہ سلیوٹ پیش کرنے والے افراد کو نظر نہ آئیں ۔
انڈین ایئر فورس (ہتھیلی کھلی ہوتی ہے اور ۴۵؍ ڈگری کے زاویے سے زمین کی سمت ہوتی ہے): مارچ ۲۰۰۶ء میں ہندوستانی فضائیہ نے سلیوٹ کا نیا قانون بنایا تھا جس کے تحت فوجی کو کم سے کم وقت میں تیزی سے اپنا سیدھا ہاتھ ماتھے تک اس طرح اٹھانا ہوتا ہے کہ ہتھیلی ۴۵؍ ڈگری کے زاویے سے زمین کی جانب جھکی رہے۔ اس سے قبل ہندوستانی فضائیہ کے اہلکار، آرمی ہی کی طرز پر سلامی پیش کرتے تھے۔ فضائیہ کے اہلکار چونکہ تیز رفتاری سے کام کرتے ہیں اس لئے سلیوٹ کا یہ انداز ان کیلئے آسان ہے، اور ان کی تیز وطراری کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK