Updated: May 10, 2026, 6:06 PM IST
| New Delhi
خواتین کی تنظیموں نے ہندوستان میں انتخابی جمہوریت کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کیا، ملک بھر سے ۲۵۰؍سے زائد خواتین کارکنوں، تنظیموں اور شہریوں نے سنیچرکو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اس خطرناک اور منظم طریقے سے ہونے والے خاتمے پر تشویش ظاہر کی ہے جسے وہ ہندوستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے دیکھ رہی ہیں۔
خواتین کی تنظیموں نے ہندوستان میں انتخابی جمہوریت کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کیا، ملک بھر سے ۲۵۰؍سے زائد خواتین کارکنوں، تنظیموں اور شہریوں نے سنیچرکو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اس خطرناک اور منظم طریقے سے ہونے والے خاتمے پر تشویش ظاہر کی ہے جسے وہ ہندوستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے حوالے سے دیکھ رہی ہیں۔واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور کئی ریاستوں میں انتخابات کی طرز عمل کے تعلق سے سیاسی بحث اور تنقید جاری ہے۔ بعد ازاںاس گروپ نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے بنائے گئے اداروں پر الزام لگایا کہ وہ رائے دہندگان کی علاحدگی، سیاسی شرکت کوڈرانے اور آئینی حقوق کو کمزور کرنے میں معاون بن رہے ہیں، خاص طور پر خواتین اور اقلیتی برادریوں کے لیے۔
یہ بھی پڑھئے: سماجوادی پارٹی کا ۲۰۲۷ء کے یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران گنتی مراکز کی لائیو اسٹریمنگ کا مطالبہ
دستخط کنندگان نے سب سے بڑی تشویش ووٹر لسٹ میں نظرثانی کی قواعدکو لے کر اٹھائی ۔ مغربی بنگال کے۲۰۲۶ء کے انتخابی عمل کا حوالہ دیتے ہوئے اس گروپ نے دعویٰ کیا کہ خصوصی نظرثانی مہم کے دوران۹۱؍ لاکھ سے زیادہ ناموں جو کہ تقریباً۱۲؍ فیصد ووٹرز ہیں کو فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ دستخط کنندگان کے مطابق، متاثرہ افراد میں سے بہت سے طویل عرصے سے ووٹر تھے اور ان کے پاس درست شناختی دستاویزات موجود تھیں، لیکن ان کے تحریر شدہ شکایات کا کوئی حل نہیں نکلا۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس سے قبل بہار اور تمل ناڈو میں بھی اسی طرح کے خدشات درج کیے گئے تھے، اور ان پیش رفت کو الگ تھلگ انتظامی مشق کے بجائے ایک وسیع تر نمونے کا حصہ قرار دیا گیا۔اس گروپ نے انتخابات کے دوران مرکزی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔بیان کے مطابق، بعض علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد نے ووٹرز کے کچھ طبقوں، خاص طور پر پسماندہ برادریوں میں خوف پیدا کردیا۔ اس نے بی جے پی کارکنوں پر انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد اور آتش زنی کے واقعات میں ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے ناکافی ردعمل پر تنقید کی۔
یہ بھی پڑھئے: لکھیم پور کھیری کیس میں گواہوں کی پیشی نہ ہونے پریوگی سرکار کی سرزنش
مزید برآں دستخط کنندگان نے عدلیہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو جمہوری اداروں اور انتخابی حقوق سے متعلق خدشات پر فوری طور پر ردعمل دینے کی ضرورت ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’عدالتی آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ عدلیہ میں فوری کارروائی ہو جب جمہوریت خود خطرے میں ہو۔‘‘بعد ازاں بیان میں کہا گیا کہ جمہوری دباؤ کے دور میں خواتین کو اکثر سیاسی دھمکیوں، علاحدگی اور تشدد کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔تاہم آئینی اقدار سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے دستخط کنندگان نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کا اندازہ نہ صرف ووٹروں کے ٹرن آؤٹ سے بلکہ پورے انتخابی عمل کی شمولیت، شفافیت اور ساکھ سے بھی لگایا جانا چاہیے۔