نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک وفد ۱۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو بیتول ضلع کے دورے پر پہنچے گا۔ یہ وفد ضلع میں جاری قبائلی معاش کی سرگرمیوں اور شہد جمع کرنے کے نظام کا جائزہ لے گا۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 7:12 PM IST | New Delhi
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک وفد ۱۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو بیتول ضلع کے دورے پر پہنچے گا۔ یہ وفد ضلع میں جاری قبائلی معاش کی سرگرمیوں اور شہد جمع کرنے کے نظام کا جائزہ لے گا۔
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک وفد ۱۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو بیتول ضلع کے دورے پر پہنچے گا۔ یہ وفد ضلع میں جاری قبائلی معاش کی سرگرمیوں اور شہد جمع کرنے کے نظام کا جائزہ لے گا۔ اس دورے کا مقصد مقامی سطح پر تیار کردہ شہد کے پروڈکشن اور مارکیٹنگ کے ماڈل کو سمجھنا ہے۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق وفد دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے بیتول پہنچے گا اور ناندا میں واقع ون دھن وکاس مرکز کے ہنی کلیکشن سینٹر کا دورہ کرے گا۔ یہاں وفد کو قبائلی برادریوں کے ذریعے شہد جمع کرنے، اس کی پروسیسنگ اور ابتدائی اسٹوریج کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:ونیش پھوگاٹ کا ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی نوٹس کے باوجود لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
دورے کے دوران وفد شہد جمع کرنے کی روایتی اور جدید تکنیکوں، شہد کی گریڈنگ، معیار کی جانچ اور مقامی سطح پر تیار کردہ ہنی ویلیو چین کا معائنہ کرے گا۔ حکام کے مطابق ناندا مرکز کے ذریعے علاقے کے قبائلی خاندانوں کو شہد جمع کرنے سے روزگار اور اضافی آمدنی کے مواقع مل رہے ہیں۔وفد کی ملاقات علاقائی کارکنوں، سیلف ہیلپ گروپس اور استفادہ کنندگان سے بھی کرائی جائے گی۔ اس دوران مقامی لوگ اپنے تجربات شیئر کریں گے اور بتائیں گے کہ ون دھن وکاس کیندر کی سرگرمیوں نے ان کی زندگیوں کو کس طرح بہتر بنایا ہے۔
ون دھن وکاس کیندر یوجنا کے تحت قبائلی برادریوں کو جنگلاتی پیداوار کے سائنسی طریقے سے حصول، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ سے جوڑا جاتا ہے۔ بیتول ضلع میں یہ ماڈل شہد کے پروڈکشن کے شعبے میں نمایاں نتائج دے رہا ہے اور کئی خاندانوں کی آمدنی بڑھانے میں معاون ثابت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفاورلڈ کپ ۲۰۲۶ء:ایران اپنے قومی پرچم اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا
حکام کے مطابق مشاہداتی دورے اور تبادلہ خیال کے بعد نیوزی لینڈ کا وفد اسی دن بیتول سے بھوپال کے لیے روانہ ہو جائے گا۔ انتظامیہ کو امید ہے کہ اس بین الاقوامی دورے سے ضلع میں جاری قبائلی معاش کی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر پہچان ملے گی۔