نئے حوصلے کے ساتھ آغاز کیجئے، ٹھان لیجئے اور کر گزریئے، کامیابی ضرور ملے گی

Updated: January 06, 2022, 8:51 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ہر طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہدف طے کرےاور اسے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے، اس کا فائدہ اُسے ذاتی زندگی میں بھی ہوگا، اور تعلیمی زندگی میں بھی۔ یہ کامیاب زندگی کا مجرب نسخہ ہے۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

نیا سال شروع ہونے سے قبل ایک بات جو مشاہدہ میں آتی ہے وہ ’’نیو ایئر ریزولوشن‘‘ ہے، یعنی انسان عزم کرتا ہے یا ہدف مقرر کرتا ہے کہ یکم جنوری سے وہ اپنی زندگی میں بہتری لانے کیلئے فلاں کام کرے گا اور فلاں کام نہیں کرے گا، اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ سال ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے اہداف پالے۔ 
 انسانی ذہن میں اچھے کام کرنے کے خیالات جنم لیتے رہتے ہیں ۔ یہ خیالات دراصل کسی خاص حالت میں ذہن میں آتے ہیں مگر حالات بدلنے کے بعد یہ ہمارے ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں ۔ بعد میں پھر کبھی ذہن میں وہی کام کرنے کا خیال ابھرتا ہے مگر پھر ہم اپنی لاپروائی کے سبب اسے بھول جاتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا، دوسری یہ ہوتی ہے کہ روز مرّہ کی مصروفیات میں ہم اتنے مشغول ہوتے ہیں کہ اسے بھول جاتے ہیں ۔ تو پھر اپنے اچھے خیالات کو ہم عملی جامہ کس طرح پہنائیں ؟ اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہمارے ذہن میں جب کوئی بہتر خیال آئے تو اسی وقت سے عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دینی چاہئے۔ زیادہ تر افراد کسی اچھے کام کو انجام دینے کیلئے اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں اور اس کیلئے کوئی خاص دن متعین کرتے ہیں ، مثلاً نئے سال کی شروعات کے ساتھ نیا کام کرنے کا عہد (عزم یا ارادہ، جسے انگریزی میں ریزولوشن کہا جاتا ہے) کرنا۔ ریزولوشن کی روایت مغربی ممالک سے شروع ہوئی ۔ ۳۱؍ دسمبر کو لوگ اپنی کسی بری عادت کو ترک کرنے یا کوئی اچھا کام کرنے کا عزم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں اور اپنی زندگی کو بہتر بناسکیں ۔ یہ افراد پورا سال اپنے عزم پر عمل کرتے ہیں ۔نیو ایئر ریزولوشن کی روایت اب ہمارے ملک میں بھی اپنائی جارہی ہے۔ ہماری قوم میں اس روایت کا چلن نہیں ہے اور ہم اسے اہمیت نہیں دیتے۔
 تاہم، ہدف طے کرنے اور اسے حاصل کرنے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ خاص طور پر طلبہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہدف مقرر کریں اور وقت مقررہ پر انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ یکم جنوری ہی سے ہدف طے کریں ۔ ایک اچھا طالب علم بننے اور اپنے تعلیمی سفر کو مزید بہتر بنانے کیلئے آپ کسی بھی دن اپنے اہداف مقرر کرسکتے ہیں ۔ تاہم، ڈیڈ لائن کے مطابق انہیں پانے کی پوری کوشش بھی کریں ۔ تبھی آپ کا عزم پورا ہوگا۔اور آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
چونسٹھ فیصد افراد اہداف نہیں حاصل کرپاتے
 برطانیہ میں۲۰۱۸ء میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ نئے سال کا عزم کرنے والے ۶۴؍ فیصد افراد محض ایک ماہ ہی میں اسے ترک کردیتے ہیں ، یعنی یکم جنوری سے وہ اپنے عزم کا آغاز کرتے ہیں لیکن چند دنوں میں اسے بھول جاتے ہیں اور انکے معمولات زندگی ٹھیک ویسے ہی ہوجاتے ہیں جیسے گزشتہ سال تھے۔ اس تحقیق میں ۱۸؍ سے ۷۷؍ سال کی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا ہے کہ بیشتر افراد صحت کے متعلق اہداف مقرر کرتے ہیں ۔
آٹھ فیصد افراد ہی اہداف حاصل کرتے ہیں 
  برطانیہ اور امریکہ میں ۲۰۱۷ء میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ صرف ۸؍ فیصد افراد ہی نئے سال میں مقرر کئے گئے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ، یعنی وہ پورا سال اپنے اہداف پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
 ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے اہداف اس لئے نہیں حاصل کرپاتے کہ وہ خاص طور پر صحت کے متعلق ہوتے ہیں ۔ اگر انہیں اپنی صحت کے متعلق ہدف مقرر کرنا ہے تو انہیں اس کیلئے واضح ریزولوشن قائم کرنا ہوگا جیسے مجھے ہر صبح ۴۵؍ منٹ چہل قدمی کرنا ہے، رات کے کھانے کے بعد کسی دوست کے ساتھ ۲۰؍ منٹ چہل قدمی کرنا ہے، وغیرہ۔ ہدف واضح ہو تو اسے پانا بھی آسان ہوتا ہے۔
اہداف پر کیسے قائم رہیں 
 بڑا ہدف مقرر کرنے کے بجائے چھوٹے اہداف مقرر کریں ، جیسے مجھے ایک مخصوص مدت میں ریاضی کے بنیادی اصولوں میں مہارت حاصل کرنا ہے، کم سے کم اِن ۵؍ کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے، روزانہ شام میں دوستوں کے ساتھ ایک گھنٹہ کرکٹ یا فٹ بال کھیلنا ہے وغیرہ۔ چھوٹے اہداف ذہنی یکسوئی کیلئے مددگار ثابت ہوتے ہیں ، اور انہیں حاصل کرنا مشکل نہیں معلوم ہوتا۔
 ہر رات، اگلے دن کی ’’ٹوڈولسٹ‘‘ بنائیں ۔ اس میں وہ تمام کام شامل کریں جو آپ دوسرے دن کرنا چاہتے ہیں ۔ اس میں وہ اہداف بھی شامل ہوں گے جنہیں آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ٹوڈو لسٹ پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر کوئی کام چھوٹ جائے تو کوشش کریں کہ اگلے دن اس کی بھرپائی ہوسکے۔ 
اپنے دوستوں ،بھائی بہن یا خاندان کے کسی دیگر فرد کو بھی اہداف مقرر کرنے کیلئے کہیں ۔ اپنی ٹوڈو لسٹ اُن کے ساتھ شیئر کریں اور ان کی ٹوڈولسٹ اپنا پاس رکھیں ۔ ہفتے یا دو ہفتے میں ایک بار اپنے دوست کے ساتھ بیٹھیں اور ایکدوسرے کا محاسبہ کریں کہ کس نے اپنی ٹوڈو لسٹ پر سختی سے عمل کیا ہے۔ اس طرح ایک صحت مند مقابلے کو فروغ ملے گا، جو آپ کی تعلیمی اور ذاتی، دونوں ہی زندگیوں میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں کہ آپ نے جو ہدف مقرر کیا ہے، اسے ضرور حاصل کریں گے۔ 
 مثبت سوچ اور مثبت لوگوں کا ساتھ اہداف حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی منفی سوچ کو ترک کردیں ۔ ہمیشہ مثبت سوچیں ۔ آپ کی زندگی میں چاہے جو بھی ہورہا ہو، اس کے مثبت پہلوؤں پر غور کریں ، اور آگے بڑھتے رہیں ۔اگر آپ مثبت سوچ رکھنے والوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کردیں گے تو آپ کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔
صبر ضروری ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ نے ہدف مقرر کیا ہو کہ میں آئندہ ۶؍ ماہ میں انگریزی زبان پر عبور حاصل کرلوں گا۔ تاہم ، اگر اس مدت میں آپ اس پر عبور حاصل نہ کرپائیں تو مایوس نہ ہوں ، اسے سیکھنا ترک نہ کریں بلکہ سیکھنے کی مدت میں چند مہینوں کی توسیع کردیں ۔ یقیناً اس کا فائدہ ہوگا۔ 
ثابت قدمی کے ساتھ ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اپنے اہداف پر مسلسل نظر رکھیں ، اور ثابت قدمی سے ان کی جانب بڑھتے رہیں ۔
جب آپ اپنا کوئی ہدف پالیں تو اپنے آپ کو شاباشی دیں ، ہو سکیں تو خود کیلئے کوئی تحفہ خریدیں ۔ کوئی ایسی چیز جسے آپ کافی عرصے سے خریدنا چاہتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK