EPAPER
Updated: September 07, 2023, 7:04 PM IST | Mumbai
آپ سے مخاطب ہیں آرزو لکھنوی کے پوتے مشہور شاعر، نغمہ نگار، ادیب اور ماہنامہ ’’تریاق‘‘ کے مدیر ضمیر کاظمی جن کی اپنی کئی تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں مثلاً مافی الضمیر، آشوبیدہ، دھوپ کا لہجہ اور ادب اطفال میں چاند کا بیٹا اور سیپیاں ۔
زیر نظر تصویر میں ضمیر کاظمی کو دیکھا جاسکتا ہے
کچھ کچھ یاد ہے۔ زیادہ کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اُس وقت میری عمر ۵۔۶؍ سال سے زیادہ نہیں تھی۔ دادا مرحوم (حضرت آرزو لکھنوی) کا اتنا ہی سراپا یاد ہے کہ اُن کا چہرا گول تھا، خشخشی ڈاڑھی تھی، سر پر بال تھے لیکن سفید ہوچکے تھے، ترکی ٹوپی پہنتے تھے اور پستہ قد تھے۔ میرا اصل نام آفتاب عالم ہے۔ مجھے گود میں بٹھا لیتے اور کہتے کہ یہ ’’کالا آفتاب‘‘ ہے۔ والد صاحب کے اور اُن کے اختلافات اپنی جگہ لیکن اُنہیں مجھ سے جو محبت تھی وہ کمال کی تھی۔ اسے آج تک نہیں بھول سکا ہوں ۔ افسوس کہ ہمیں اُن کے ساتھ رہنے اور اُن کی محبتوں اور شفقتوں سے تادیر فیضیاب ہونے کا موقع نہیں ملا۔ وہ ممبئی میں تھے اور ہم ان دنوں تقسیم وطن کے دَور میں ہونے والے فسادات کے بعد کلکتہ میں ۔ والد صاحب نیو تھیٹر سے وابستہ تھے۔ پروڈیوسر ڈائریکٹر بروا کے ساتھ گیت اور مکالمے لکھتے تھے۔ فسادات میں ہمارا گھر جلا دیا گیا۔ ایک بھائی جاں بحق ہوا۔ ہمیں شہر چھوڑنا پڑا۔ ممبئی آئے تو دادا مرحوم کی شہرت اور مقبولیت کا جلوہ دیکھنے کو ملا۔ یہاں اُن کے شاگردوں کی بڑی جمعیت تھی۔ اُن کا مکان تاردیو کی اُس عمارت میں تھا جس میں اُس دور کی مشہور اداکارہ وینا کماری رہتی تھیں ۔ یہ وہی وینا ہیں جن کا اصل نام تاجور سلطانہ تھا اور جنہوں نے ’’پاکیزہ‘‘ میں نواب جان اور ’’تاج محل‘‘ میں ملکہ ٔ عالم نورجہاں کا کردار ادا کیا تھا۔ اسی عمارت کے تیسرے منزلہ پر مشہور اداکار شیخ مختار رہائش پذیر تھے جنہوں نے بہن، روٹی، چنگیز خان اور ہلاکو جیسی کئی کامیاب مشہور فلموں میں کام کیا تھا۔ بعد میں دادا مرحوم نے ایک مکان بھنڈی بازار کی ’’جمشید محل‘‘ نامی عمارت میں لے لیا تھا۔ یہاں سے مغل مسجد اور مکتبہ جامعہ قریب تھا۔ یہیں اُن کی نشستیں ہوا کرتی تھیں بالخصوص مغل مسجد کے قریب جہاں ایک پتنگ والے کی دکان تھی۔ دادا مرحوم کی محفل اکثراسی دکان پر جمتی تھی کیونکہ اُن کے شاگردوں کا حلقہ بے حد وسیع تھا۔ شام کوبہت سے شاگرد جمع ہوجاتے اور یہ روزانہ کا معمول تھا۔
پروفیسر مجاہد حسین حسینی نے ان پر جو تحقیقی مقالہ لکھا تھا، اس میں شاگردوں کے اسمائے گرامی اور اُن کی مجموعی تعداد درج ہے۔ ان میں پرتو لکھنوی (جانشین آرزو)، محمود سروش، آغا جانی کاشمیری جیسی وہ ہستیاں بھی شامل ہیں جن کی، بعد میں اپنی شناخت قائم اور مستحکم ہوئی۔
دادا مرحوم مذہبی آدمی تھے۔ پنج وقتہ نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ‘ سے بڑی محبت اور عقیدت تھی۔ کئی قصائد اور مرثیے لکھے۔ ۱۹۵۱ء میں وہ سیماب (اکبر آبادی) کے ساتھ انڈوپاک مشاعرہ کیلئے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی گئے۔ وہاں اُس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خاں نے، جو اُن کے مداح تھے، اُنہیں لغت مرتب کرنے کی پیشکش کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ مستقلاً یہاں آجائیں ، ہم حکومت کی جانب سے وظیفہ بھی دیں گے اور زمین بھی الاٹ کریں گے۔ دادا مرحوم نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ اُن کی ضد کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے۔ لیکن اُس وقت تک صحت جواب دینے لگی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپریل ۱۹۵۱ء میں وہیں پر اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ اُن کا انتقال کیا ہوا، برصغیر ہندوپاک میں گویا صف ماتم بچھ گئی۔ ریڈیو پاکستان سے باقاعدہ کمنٹری جاری تھی کہ اب جنازہ لایا گیا ہے، جنازہ فلاں جگہ رکھا گیا ہے، وغیرہ۔اس وقت محمود سروش ہمیں ڈھونڈتے ہوئے آئے اور کمنٹری کے بارے میں بتایا۔ یہ وہ دور تھا جب ہم گھاٹ کوپر میں رہتے تھے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، سیماب اور آرزو دونوں کراچی کے ایک ہی قبرستان میں مدفون ہیں ۔ کراچی میں آرزو صاحب اُن کے نام سے ایک کالونی بنائی گئی تھی جو اَب بھی ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہندوستان کے عظیم شاعر آرزو لکھنوی کی پاکستان میں پذیرائی ہوئی لیکن یہاں اُن کے لواحقین ایک مکان کی تلاش میں دربدر رہے، آج بھی اُنہیں قاعدے کا مکان نہیں مل سکا ہے۔
حضر ت آرزو لکھنوی کے دو بیٹے تھے۔ والد صاحب منیر آرزو (لکھنوی) اور تنویر لکھنوی۔ والد صاحب کے بارے میں تو اکثر لوگ جانتے ہیں لیکن یہ بتادوں کہ ہمارے بڑے ابا تنویر لکھنوی بھی بہت اچھے شعر کہتے تھے۔ ممبئی میں امام باڑہ زینبیہ میں سرائے تھی، وہیں رہتے تھے۔ دادی کے تعلق سے میری معلومات اور بھی کم ہے کیونکہ والد صاحب کی کم عمری ہی میں وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرچکی تھیں ۔ البتہ دوسری دادی کو دیکھا ہے۔ وہ بھی شعر کہتی تھیں اور زمزم تخلص کیا کرتی تھیں ۔ دادا مرحوم کی جتنی شہرت تھی اُتنی ہی مقبولیت بھی تھی۔ شاگردوں کا تو اُن سے قلبی لگاؤ تھا۔ دادا مرحوم کا ذکر آتے ہی وہ آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے۔ میں جن سے بھی ملا، وہ ٹوٹ کر ملے اور مجھے گلے لگالیا۔ ایسی محبت اور عقیدت کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔
(مدیر انقلاب شاہدلطیف سے گفتگو پر مبنی)