Inquilab Logo Happiest Places to Work

عرب لیگ کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کے اسرائیلی قانون کی تحقیق کا مطالبہ

Updated: April 03, 2026, 10:13 PM IST | Cairo

عرب لیگ نے فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے اسرائیلی قانون کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اس کے علاوہ اسے جنگی جرم قرار دیتے ہوئے، اس قانون کو اپنانے والے اسرائیلی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

The plight of Palestinian prisoners in Israeli jails. Photo: X
اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی حالت زار۔ تصویر: ایکس

عرب لیگ نے جمعرات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی اجازت دینے والے اسرائیلی قانون کی منظوری پر فوری مجرمانہ تحقیقات شروع کرے۔یہ مطالبہ قاہرہ میں واقع عرب لیگ کے اس قانون پر ہنگامی اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ ایک قرارداد میں سامنے آیا، جو اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی کنیسیٹ (کنسٹ) نے منظور کیا تھا۔قرارداد کے مطابق، لیگ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے فلسطینی عوام کے خلاف ’’جنگی جرم‘‘ اور ’’ظلم و استعمار (اپارتھائیڈ)‘‘ کے نظام کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس قانون کو اپنانے کے ذمہ دار اسرائیلی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلائے۔

یہ بھی پڑھئے: خلیجی ممالک پر راتوں رات ڈرون حملے، توانائی انفراسٹرکچر نشانے پر

مزید برآں عرب لیگ نے بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ عالمی دائرہ اختیار کے قوانین کے تحت قومی عدالتوں میں اسرائیلی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں۔ساتھ ہی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی موجودہ بین الاقوامی حقیقت معلوم کرنے والی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکام کی طرف سے فلسطینی قیدیوں پر عائد تشدد، بھوک اور غیر انسانی حالات کی تحقیقات کرے اور اسرائیلی جیلوں تک رسائی حاصل کرے۔لیگ نے مزید بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کوششیں تیز کرے تاکہ تمام حراستی مراکز اور جیلوں تک فوری اور بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم مشترکہ عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے تحت قائم کردہ قانونی نگراں اکائی کو فعال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ قانون کے نفاذ کو دستاویزی شکل دی جا سکے اور بین الاقوامی عدالتوں کے لیے مقدمات تیار کیے جا سکیں، جبکہ فلسطینی اور بین الاقوامی حقوق گروپوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قیدیوں کے حالات پر وقتاً فوقتاً دستاویزی رپورٹیں پیش کریں۔لیگ نے عرب پارلیمنٹ، عرب بین پارلیمانی یونین اور عرب قومی پارلیمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انٹر-پارلیمانی یونین اور دیگر پارلیمانی اداروں میں اسرائیلی کنیسیٹ کی رکنیت معطل کرنے اور اس کے ارکان کے خلاف تعزیری اقدامات عائد کرنے کے لیے کام کریں۔

یہ بھی پڑھئے: چین نے ٹرمپ کا موقف مسترد کر دیا، ایران جنگ پر عالمی بیانات میں شدت

واضح رہے کہ اسرائیلی کنیسیٹ نے پیر کو متنازع قانون کو منظوری دی۔ یہ قانون عدالتوں کو ان فلسطینیوں کے لیے بغیر کسی استغاثہ کی درخواست اور بغیر متفقہ عدالتی فیصلے کے سزائے موت دینے کی  اجازت دیتا ہے جو اسرائیلیوں کو قتل کرنے کے مرتکب پائے جائیں ۔ بعد ازاں یہ قانون فوجی عدالتوں پر بھی نافذ ہوتا ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK