Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران تنازع: ہالی ووڈ اداکاروں کا ردعمل، جنگ پر تنقید

Updated: April 03, 2026, 10:10 PM IST | Los Angeles

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد ہالی ووڈ کی متعدد شخصیات نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ مارک رفالو، بین اسٹیلر اور دیگر فنکاروں نے جنگی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے امن کی اپیل کی۔ کئی اداکاروں نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اس تنازع کو غیر ضروری قرار دیا۔

Hollywood actror Mark Ruffalo. Photo: X
ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو ۔ تصویر: ایکس

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع پر ہالی ووڈ اداکاروں کا ردعمل تیزی سے سامنے آیا ہے، جہاں متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے جنگی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے روکنے کا مطالبہ کیا۔

مارک رفالو
اداکار مارک رفالو نے اپنے بیان میں اشارہ دیا کہ سیاسی قیادت کے پاس کشیدگی کم کرنے کے مواقع موجود تھے، مگر انہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ ان کے الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ جنگ کوئی ناگزیر راستہ نہیں بلکہ ایک انتخاب ہوتا ہے۔ رفالو کے بیان میں یہ واضح پیغام تھا کہ اگر سفارتی راستے موجود ہوں تو عسکری اقدام کو ترجیح دینا قابلِ سوال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی تجارت دباؤ میں، ہرمز پر کشمکش، جنگ بیک وقت کئی محاذوں پر پھیل گئی

جیک وہائٹ
موسیقار جیک وہائٹ نے امریکی قیادت پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کیا آپ کو یہ دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی ہے اس (ٹرمپ) نے ہمیں جنگ میں جھونک دیا ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا اور اسے جنگی فیصلوں پر براہِ راست تنقید سمجھا گیا۔

جیک کوسیک
اداکار جیک کوسیک نے اس تنازع کو سیاسی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’’ٹرمپ نے کتے بلی کی جنگ شروع کردی ہے۔‘‘  ان کے بیان کا مفہوم تھا کہ کسی بڑی خبر یا بحران کے ذریعے عوام کی توجہ کسی اور مسئلے سے ہٹائی جائے۔ کوسیک کا اشارہ اس طرف تھا کہ جنگ کو داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیری کون
اداکارہ کیری کون نے طنزیہ انداز میں امریکی پالیسی کو ’’محکمہ جنگ‘‘ قرار دیا، جس سے ان کی ناراضی واضح ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک حکومتی ادارے دفاعی کردار کے بجائے جارحانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ یہ بیان پالیسی کے مزاج پر براہِ راست تنقید ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا ایک وسیع جنگ کے کنارے پر کھڑی ہے: یو این سربراہ انتونیوغطریس کا انتباہ

روزی اوڈونل
اسی طرح کامیڈین روزی او ڈونل نے بھی سوشل میڈیا پر جنگی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سیاسی قیادت کے تضادات کی نشاندہی کی۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جنگی فیصلے اکثر عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت کیے جاتے ہیں، جس سے عوامی سطح پر عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

بین اسٹیلر
اداکار اور فلم ساز بین اسٹیلر نے امریکی حکومت کی جانب سے جاری ایک ویڈیو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’جنگ کوئی فلم نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی فلم کے مناظر کو سرکاری پروپیگنڈا میں استعمال نہ کیا جائے۔ اس جملے کی وضاحت یہ ہے کہ جنگ کو کسی فلمی یا تفریحی انداز میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسٹیلر کا اعتراض اس بات پر تھا کہ سرکاری سطح پر جنگی مناظر کو ایسے دکھایا جا رہا ہے جیسے وہ ایک فلمی منظر ہوں، جبکہ حقیقت میں اس کے انسانی نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔

اسٹیفن کنگ
مصنف اسٹیفن کنگ نے آئینی نقطۂ نظر سے جنگی اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اختیار کانگریس کے پاس ہونا چاہیے اور مزید کشیدگی سے گریز کیا جائے۔ ان کے بیان کا مفہوم یہ تھا کہ جنگ کا فیصلہ ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی عمل ہونا چاہیے، اور اس میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کیتھی گریفن
کامیڈین کیتھی گریفن نے بھی اس کارروائی کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے اس کے وسیع اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے بیان کی وضاحت یہ ہے کہ وہ اس کارروائی کو اس کے ممکنہ نتائج کے مقابلے میں زیادہ سخت سمجھتی ہیں، اور اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کرتی ہیں۔

سوزن سیرنڈن
اداکارہ سوزن سیرنڈن (جو ماضی میں بھی جنگ مخالف بیانات دیتی رہی ہیں) نے ایک پرانی تقریر میں کہا تھا کہ جنگیں عام لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور اسی تناظر میں ان کے سابقہ بیانات دوبارہ گردش میں آئے۔ ان کے بیان کا مفہوم ہے کہ سیاسی فیصلوں کا اصل بوجھ عوام اٹھاتے ہیں، نہ کہ فیصلہ کرنے والے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کو فوجی کارروائی سے کھولنا غیر حقیقت پسندانہ ہے: ایمانوئل میکرون

جعفر پناہی
اسی دوران عالمی سطح پر بھی فنکاروں اور تخلیق کاروں نے ردعمل دیا۔ ایرانی فلم ساز جعفر پناہی نے کہا کہ ’’یہ خبر سن کر خوشی اور غم دونوں ہوئے‘‘ جس سے خطے کی پیچیدہ صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس بیان کی وضاحت یہ ہے کہ ایک طرف وہ اپنے ملک کی مزاحمت کو دیکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف انسانی نقصان پر افسوس کرتے ہیں۔

سارہ خاکی اور محمد رضا عینی
مزید برآں، آسکر سے منسلک فلم ساز سارہ خاکی اور محمد رضا عینی نے کہا کہ ’’ہمیں اپنے لوگوں پر فخر ہے مگر ہم غمزدہ بھی ہیں۔‘‘ اس بیان کا مفہوم یہ ہے کہ قومی یکجہتی کے باوجود جنگ کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہالی ووڈ کی تقریبات میں بھی اس تنازع کا اثر دیکھا گیا، جہاں پروڈیوسرز گلڈ اور اداکاروں کی تنظیم کے نمائندوں نے کھلے عام کہا کہ وہ ’’امن کی دعا‘‘ کرتے ہیں اور متاثرہ افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ ان تمام بیانات میں ایک مشترک پہلو یہ رہا کہ زیادہ تر فنکاروں نے جنگ کے بجائے سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان ردعمل نے نہ صرف توجہ حاصل کی بلکہ عالمی مباحثے کو بھی متاثر کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK