Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ ختم کروائیں: جرمنی کا چین سے ایران پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

Updated: April 03, 2026, 10:13 PM IST | Tehran

جنگ کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران میں تباہ ہونے کی وہائٹ ہاؤس نے تصدیق کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کھول سکتا ہے اور ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کر کے معاشی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسرائیل نے سیکوریٹی کابینہ کا اہم اجلاس ملتوی کر دیا۔ جرمنی نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات ممکن ہو سکیں۔

Mossad office destroyed in Iranian attack. Photo: X
ایرانی حملے میں تباہ موساد کا دفتر۔ تصویر: ایکس

(۱) ٹرمپ کو بریفنگ، ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ ہونے کی تصدیق
امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ تباہ ہونے کے واقعے پر صدر ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ کو اس واقعے پر بریف کیا گیا ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے حادثے کے مقام سے تصاویر اور ویڈیوز جاری کیں جن میں طیارے کے ملبے اور ایجیکشن سیٹ کے حصے دکھائے گئے۔ ابتدائی جائزے کے مطابق طیارہ ایف ۱۵؍ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے فوری طور پر واقعے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ پینٹاگون کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے کے عملے کی تلاش کیلئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور فوجی وسائل تعینات کیے گئے ہیں۔ امریکی کانگریس کے رکن حکیم جیفریز نے کہا کہ ’’ہم عملے کی سلامتی کیلئے دعاگو ہیں۔‘‘ دیگر رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جاری جنگ کے دوران امریکی فضائی نقصان کا ایک اہم واقعہ ہے جبکہ بعض ذرائع نے کہا کہ یہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلا ایسا واقعہ ہے جب امریکی طیارہ ایرانی حدود میں تباہ ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز سے پہلا یورپی جہاز گزرا، کشیدگی کے باوجود راستہ جزوی طور پر کھل گیا

(۲) ٹرمپ کا دعویٰ، ہرمز کھول کر ایرانی تیل سے ’’بڑی کمائی‘‘ ممکن
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے بعد ایرانی تیل سے مالی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم ہرمز کھول سکتے ہیں، تیل لے سکتے ہیں اور بڑی کمائی کر سکتے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کیلئے ایک اہم اور حساس راستہ بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے پاس اسٹریٹیجک صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس راستے کو کنٹرول کر سکے اور توانائی وسائل سے فائدہ اٹھا سکے۔
یہ بیان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا کنٹرول عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ مختلف ممالک اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

(۳) اسرائیل نے سیکوریٹی کابینہ اجلاس سنیچر تک مؤخر کر دیا
اسرائیل نے سیکوریٹی کابینہ کا اہم اجلاس ملتوی کر کے ہفتہ تک مؤخر کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس ایران جنگ اور خطے کی سیکوریٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اجلاس کو مؤخر کرنے کا فیصلہ داخلی مشاورت اور دیگر عوامل کے باعث کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ’’کابینہ اجلاس کو ہفتہ تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔‘‘
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں ایران کے خلاف جاری کارروائیوں، دفاعی حکمت عملی اور ممکنہ اگلے اقدامات پر غور کیا جانا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم ذرائع کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث فیصلوں میں تاخیر کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قیادت مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا دعویٰ، امریکی ایف ۳۵؍ مار گرایا، سائبر حملوں کی جنگ بھی تیز

(۴) جرمنی کا چین سے مطالبہ، ایران کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے
جرمنی نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ جاری جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا راستہ ہموار ہو سکے۔ جرمن حکام کے مطابق چین کا ایران پر اثر و رسوخ اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جرمن حکام نے کہا کہ ’’چین ایران کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے میں کردار ادا کرے۔‘‘
رپورٹس کے مطابق جرمنی نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے اور عالمی طاقتوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق یورپی ممالک کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں اور مختلف چینلز کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات کے باعث بیجنگ اس معاملے میں اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK