• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نسیم انہونوی کا سفر ان کے صاحبزادے فہیم انہونوی کی زبانی

Updated: November 04, 2023, 2:40 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

نسیم انہونوی کی پیدائش رائے بریلی ضلع کے انہونا قصبہ میں غالباً ۱۹۰۵؍ میں ہوئی تھی۔پانچ سال کی عمر میں وہ اپنے والد حشمت علی کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ان کے والد ایک معمولی ٹیچر تھے۔ چنانچہ ان کا بچپن تنگدستی میں   گزرا۔

Naseem Inhaunawi (right) and Faheem Inhaunawi. Photo: PTI
نسیم انہونوی (دائیں) اور فہیم انہونوی۔ تصویر: پی ٹی آئی

نسیم انہونوی کی پیدائش رائے بریلی ضلع کے انہونا قصبہ میں غالباً ۱۹۰۵؍ میں ہوئی تھی۔پانچ سال کی عمر میں وہ اپنے والد حشمت علی کے ساتھ لکھنؤ آ گئے۔ ان کے والد ایک معمولی ٹیچر تھے۔ چنانچہ ان کا بچپن تنگدستی میں   گزرا۔ اس حالت میں انہوں  نے کسی طرح ۱۲؍ویں (انٹرمیڈیٹ) تک تعلیم حاصل کی۔ عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ تنگ دستی و غربت لوگوں  کو بگاڑ دیتی ہے۔ لیکن کچھ باہوش انسان بُرے حالات کے آگے سِپر نہیں  ڈالتے بلکہ نا مساعد حالات سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اپنی ذاتی کاوشوں سے برے حالات کو اچھے دنوں میں  تبدیل کر دیتے ہیں۔ میرے والد نسیم انہونوی صاحب کا معاملہ بھی اسی طرح کا تھا۔ وہ تنگ دستی و غربت سے گھبرائے نہیں  بلکہ اس کا حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنی محنت اور ہمت سے اپنے برے دنوں  کو بہتر کرنے کی سعی کی اور اپنے اندر چھپی ہوئی ادبی صلاحیت کو جلا بخش کر کے ایک بڑا اشاعتی ادارہ قائم کیا۔ اس کے ذریعہ نہ صرف اپنے ناول شائع کئے بلکہ دوسروں کی تخلیقات کو شائع کر کے ادارے کو منفعت بخش بنایا۔ جہدمسلسل سے جب وہ ترقی کی منازل طے کرنے میں  کامیاب ہوگئے تو خوشحالی کے دنوں میں اکثر آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ انہیں  اس بات کا انتہائی غم تھا کہ ان کی ترقی کے یہ دن ان کے والدین نہ دیکھ سکے۔ وہ انہیں آرام و آسائش مہیا نہ کرا سکے۔ 
نسیم انہونوی اپنی والدہ (میری دادی)سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ وہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کی مدد کرتے، ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ انہیں رسائل و جرائد پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ یہیں سے انہیں ناول لکھنے کی تحریک ملی۔پھر کیا تھا، ان کے ناول اور افسانے اس وقت کے رسائل اور جرائد میں چھپ کر مقبول ہونے لگے۔ اسی درمیان انہیں معلوم ہوا کہ ماہنامہ ’انکشاف‘(جو غالباً ایک آنہ فنڈ تنظیم کی جانب سے شائع ہوتا تھا)کو مدیر کی ضرورت ہے۔ نسیم صاحب ماہنامہ انکشاف کے دفتر پہنچ گئے۔ اس وقت تک انہیں کسی اشاعتی ادارے میں  کام کرنے اور ادارت کا بالکل بھی تجربہ نہیں تھا لیکن رسالے کے ذمہ داروں نے پہلی ملاقات میں  نسیم صاحب کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لیا۔ چنانچہ انہیں کم عمری میں ماہنامہ انکشاف کی ادارت کی ذمہ داری مل گئی۔ نسیم صاحب نے اپنی گوناگوں صلاحیتوں کی بنیادپر رسالے کو قلیل مدت میں بلندی پر پہنچایا۔ رسالےمیں دلچسپ اور معلوماتی مواد کے ساتھ تصاویریں چھپنے سے اس کے قارئین کی تعداد میں  دن بہ دن اضافہ ہونے لگا۔ انہوں نے اس کے کور پیج کو خوبصورت ڈیزائن سے مزین کیا۔ (یہ غالباً ۱۹۲۰ء کا زمانہ تھا)۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انہوں  نے علامہ نیاز فتحپوری کے مشورےپر ماہنامہ ’حریم‘ کی اشاعت شروع کی۔ رسالے کی مقبولیت کے بعد ۱۹۲۸ء میں (لاٹوش روڈ لکھنؤ) پر نسیم بُک ڈپو کی بنیاد ڈالی۔ مذکورہ کتب خانہ سے انہوں نے اپنا پہلا ناول ’طرز زندگی‘ شائع کیا،غالباً یہ نسیم بک ڈپو کی پہلی اشاعت تھی۔ اس کے چند ماہ بعد ماہ نامہ’ سرپنچ‘ کااجراء کیا۔ ’سرپنچ‘نکالنے کا واقعہ بھی دلچسپ ہے ...آپ بھی سنئے...نسیم انہونوی، امین سلونوی، شوکت تھانوی اور دو دیگر افراد امین آباد گھنٹہ گھر کے پار ک میں بیٹھے تھے۔ نسیم انہونوی نے’ حریم‘ کی کامیابی کے بعد ایک اور پرچہ نکالنے کی بات کہی۔ اس پر شوکت تھانوی صاحب نے کہا ہاں ایک اور رسالہ نکلنا تو چاہئے اس لئے کہ’ حریم ‘ کا موضوع ذرا الگ ہے۔ اب بات آئی کہ اس کانام کیا ہوگا... ذرا دیر سوچنے کے بعد امین صاحب گویا ہوئے ... یہاں پانچ لوگ ہیں ... ایسا کرتے ہیں ’ سرپنچ ‘ رکھ دیتے ہیں ... نام پسند آگیا ... اور’ سرپنچ ‘ کی اشاعت شروع ہو گئی۔ 
سرپنچ کا ایک فلم ایڈیشن بھی نکلتا تھا جس میں پردۂ سیمیں کی خبریں، مضامین اور فلموں پر تبصرے شائع ہوتے تھے۔ اس رسالے کو بھی قارئین نے خوب پسند کیا۔ وہ اردو کا پہلا فلمی رسالہ تھا۔ اسی کے ساتھ انہوں  نے بچوں  کیلئے’ کلیاں ‘ نکالیں جس میں  نہ صرف بچوں کیلئے دلچسپ کہانیاں اور اصلاحی اور تعلیمی مضامین شائع ہوتے تھے بلکہ دوسری زبانوں کی مقبول کہانیوں کے تراجم بھی چھپتے تھے۔ بچوں  کی دنیا میں یہ رسالہ بھی اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوا۔ اس کے علاوہ نسیم بُک ڈپو سے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بڑھتا گیا اور وہ اپنے زمانے کا اردو کا ایک بڑا اشاعتی ادارہ بن گیا۔ نسیم صاحب نے یہاں سے ادبی و درسی کتابیں، ناول اور افسانوی مجموعے، شعرو شاعری، تاریخی غرضیکہ ہر قسم کی کتابوں کی اشاعت کی۔ خاص طور سے دوسری زبانوں کے ناولوں کے اردو تراجم بھی کرائے۔
انہوں نے بے شمار نئے لکھنے والوں کو اشاعت کا موقع دیا، ان کے مسودہ پر اصلاح کی۔ رفتہ رفتہ ان میں سے کئی مشہور و مقبول ناول نگار بن گئے۔ ان میں مظہر الحق علوی، مسرور جہاں، عطیہ پروین، یعقوب یاور، عفت موہانی وغیرہ کی نگارشات نسیم بُک ڈبو سے شائع ہوکر مقبول خاص و عام ہوئیں۔نسیم صاحب کولکھنے والے کی صلاحیت کا خوب اندازہ تھا لہٰذا جب احمد آباد کے مظہر الحق علوی نے انگریزی ناول کا ترجمہ انہیں بھیجا تو انہیں مظہر صاحب کی صلاحیت کا اندازہ کرنے میں دیر نہیں لگی۔ علوی صاحب نے ۷۵؍ سے زیادہ ناولوں کے تراجم کئے جو سبھی نسیم بُک ڈپو سے شائع ہوکر مقبول ہوئے۔ خود نسیم صاحب نے ۲۷؍ ناول لکھے۔ 
نسیم صاحب کے اندر انتظامی صلاحیت تو ایسی تھی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال پر بہت خوبصورتی سے قابو پا لیا کرتے تھے۔ وہ اصول کے پکے تھے۔ صبح فجر میں اٹھتے تھے، بعد نماز چہل قدمی کیلئے وہ لاٹوش روڈ ہوتے ہوئے قیصر باغ چوراہا اور کبھی کبھی بارہ دری اور بیگم حضرت محل پارک تک چلے جاتے۔ چہل قدمی سے واپسی کے بعد ناشتے سے فارغ ہو کر صبح ٹھیک ۹ ؍ بجے وہ نسیم بُک ڈپو کے دفتر پہنچ جاتے تھے۔ ہر کام کا وقت مقرر تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ ایک گھنٹہ آرام کرتے اور پھر نسیم بُک ڈپو آنے والی کتابوں کے مسودے اور دیگر کام میں مصروف ہو جاتے۔ 
مغرب کی نماز کے فوراً بعد رات کا کھانا کھا لیتے۔ (میٹھے کے بڑے شوقین تھے، ان کے کھانے میں کچھ میٹھا ضرور ہوتا تھا)۔ کھانے کے بعد تھوڑی دیر چہل قدمی کرتے، پھر حضرت گنج کی سیر کو نکل جاتے۔ حضرت گنج جانے کیلئے انہوں نے ایک رکشہ (سائیکل رکشہ) خرید رکھا تھا۔ مقررہ وقت پر رکشہ بان گھر کے باہر ان کا منتظر ہوتا ... نسیم صاحب رکشہ پر بیٹھ کر حضرت گنج گھومتے، وہ رکشہ سے اُترتے نہیں تھے ... رکشہ پر بیٹھے بیٹھے شام اودھ کا نظارہ کرتے اور گھر واپس آجاتے۔ 
میرے والد صاحب میں رواداری بہت تھی، تمام مصروفیات کے باوجود وہ اپنے احباب کے یہاں تقاریب میں اپنی حاضری ضروری سمجھتے تھے۔ کسی طرح اس میں شرکت کیلئے وقت ضرور نکال لیتے تھے۔ اسی طرح اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کو ضرور جاتے تھے۔ ان کا اپنے ملازمین سے بہت ہی مشفقانہ برتائو تھا۔ ان کے اندر غریب پروری کا بے پناہ جذبہ تھا۔ مصروفیات کے باوجود وہ ہم بھائی بہنوں کی تعلیم و تربیت کا پورا خیال رکھتے تھے۔ وہ ہمارے اساتذہ سے برابر رابطے میں رہتے تھے۔ 
نسیم انہونوی صاحب کی پہلی بیوی کا انتقال شادی کے چند سال بعد ہو گیا تھا۔ ان سے ایک بیٹا تھا یعنی ہمارے بڑے بھائی شمیم انہونوی۔آپ کو بتاتا چلوں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شمیم انہونوی ’’ کلیاں ‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ حلیم کالج کانپور سے وابستہ ہونے تک ’’کلیاں ‘ ‘ کی ادارت کی ذمہ داری بخوبی انجام دیتے رہے۔ دوسری بیوی سے ان کی تین اولادیں ہوئیں جس میں ہماری بڑی بہن نجم السحر، میں (فہیم انہونوی) اور میرے چھوٹے بھائی ندیم انہونوی، جن کا گزشتہ سال انتقال ہو گیا۔ نسیم صاحب اپنی بیٹی (نجم السحر) سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ اس کا اندازہ آپ اس سےلگا سکتے ہیں کہ جب بڑی بہن کی شادی ہو گئی اور وہ ممبئی منتقل ہو گئیں تو والد صاحب ان کی خیریت معلوم کرنے کیلئے روزانہ ایک خط لکھا کرتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ ان کے آخری دم تک قائم رہا۔اسی دوران انہیں دمہ کا پہلا اٹیک ہوا اور پھر وہ اس مرض میں مبتلا ہو گئے۔ 
والد صاحب کو قدرتی مناظر سے خصوصی لگائو تھا۔ وہ مناظر فطرت سے اپنے دل میں  نئی تازگی اور جوش پیدا کرتے تھے۔ چنانچہ نینی تال ان کا محبوب شہر تھا اور وہ جب پہلی بار ۱۹۳۰ء میں نینی تال گئے تو وہاں کی پر سکون فضا کا ان کے دل و دماغ پر ایسا اثر ہوا کہ پھر گرمیوں میں ان کا دو مہینہ وہیں گزرتا۔ وہ وہاں کی خوبصورت وادیوں اور نینی جھیل سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے اپنا ناول ’کہکشاں ‘ اسی جھیل کے کنارےبیٹھ کر لکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں نینی تال کی منظر کشی بہت خوبصورت انداز میں پیش کی گئی ہے۔ والد صاحب مئی جون میں ہم بھائی بہنوں  کو بھی نینی تال کی سیر پر لے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے زیادہ تر ناول نینی تال کی نینی جھیل کے کنارے بیٹھ کر لکھے تھے۔ 
والد صاحب، جو زندگی کے آخری ایام میں دمہ جیسے موذی مرض کا شکار ہو گئے تھے، ۴؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انتقال سے چند روز پہلے تک وہ بک ڈِپو جاتے رہے تھے۔ان کے بعد نسیم بُک ڈپو اور ’حریم ‘ کی ادارت کی ذمہ داری مجھ پر آگئی اور ’حریم‘ کی اشاعت بدستور جاری رہی لیکن ۱۹۹۵ء میں نسیم بُک ڈپو میں آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے برسوں کی محنت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔ ماہنامہ’حریم‘، ’کلیاں ‘ اور سرپنچ کی برسوں پرانی فائلیں بھی نذر آتش ہوگئیں۔ اس کے علاوہ بہت سے نادر مسودے اور کتابیں غرضیکہ بُک ڈپو کا کثیر اثاثہ محفوظ نہ رہ سکا اور پھر حالات کچھ ایسے ہو گئے کہ ۱۹۹۸ء تک ’حریم‘ اور نسیم بُک ڈپو، دونوں کو بند کر دینا پڑا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK