Updated: March 03, 2026, 10:05 PM IST
| New Delhi
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کو آگاہ کیا ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کسی سابقہ ڈھانچے پر تعمیر کی گئی تھی یا خالی زمین پر۔ کمیشن نے اے ایس آئی کے جواب کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔
سنبھل جامع مسجد۔ تصویر: ایکس
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کو آگاہ کیا ہے کہ اس کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کسی سابقہ ڈھانچے پر تعمیر کی گئی تھی یا خالی زمین پر۔اے ایس آئی کا یہ بیان ستیہ پرکاش یادو کی جانب سے دائر آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں سامنے آیا۔ درخواست گزار نے سنبھل جامع مسجد کی اصل تاریخ، زمین کی ملکیت اور اس بات سے متعلق معلومات طلب کی تھیں کہ آیا مسجد کسی قدیم ڈھانچے یا کھنڈرات پر تعمیر کی گئی تھی۔ اے ایس آئی نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ ’’اس دفتر میں ایسی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیرالا: کاسرگوڈ مندر میں افطار پارٹی؛ امام کی مسلمانوں سے ہندو عقیدت مندوں کیلئےمساجد کھولنے کی اپیل
ایجنسی کے مطابق اس کے پاس نہ تو زمین کی ملکیت سے متعلق دستاویزات ہیں اور نہ ہی ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کریں کہ مسجد کی تعمیر کے وقت وہاں پہلے سے کوئی ڈھانچہ موجود تھا۔ اے ایس آئی نے دستیاب تاریخی مواد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’’جامع مسجد سنبھل ۱۵۲۶ء میں تعمیر کی گئی تھی۔‘‘ ایجنسی نے یہ بھی تصدیق کی کہ ۱۹۲۰ء میں جب اس مقام کو تحفظ میں لیا گیا، تب سے اسے اسی نام سے محفوظ یادگار کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ موجودہ حیثیت کے بارے میں اے ایس آئی نے واضح کیا:’’اس وقت یہ مسجد کے طور پر موجود ہے۔‘‘
محکمے نے یہ بھی کہا کہ اس کے پاس اس حوالے سے کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ آیا سائٹ پر بعد میں کوئی تعمیراتی اضافہ کیا گیا تھا یا ماضی میں کسی تنازعے کی سرکاری دستاویزات موجود ہیں۔ اپیل کنندہ نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اہم معلومات کو غلط طریقے سے مسترد کیا گیا ہے۔ تاہم اے ایس آئی نے مؤقف اپنایا کہ اس نے تمام دستیاب ریکارڈ فراہم کر دیے ہیں اور قانون اسے ایسی معلومات تیار کرنے کا پابند نہیں کرتا جو اس کے پاس موجود نہ ہوں۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت سرکاری ادارے صرف وہی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہوں۔ عوامی اتھاریٹی کو غیر موجود معلومات تیار کرنے کی ہدایت نہیں کی جا سکتی۔‘‘ یوں کمیشن نے اپیل مسترد کرتے ہوئے اے ایس آئی کے جواب کو برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا: امام کا پونگل میں ہم آہنگی کا پیغام، کہا ’’یہی ہے حقیقی کیرالا اسٹوری‘‘
واضح رہےکہ سنبھل جامع مسجد حالیہ برسوں میں قانونی تنازعے کا موضوع بنی رہی ہے، جب ایک عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ مسجد ایک قدیم ہندو مندر کے مقام پر تعمیر کی گئی تھی۔ ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو عدالت کے حکم پر اے ایس آئی سروے کے خلاف سنبھل میں مظاہرے ہوئے، جو پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ ان واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ یہ تنازع تاریخی اور مذہبی حساسیت کے باعث قومی سطح پر زیر بحث رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، آر ٹی آئی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سرکاری ادارے صرف موجودہ ریکارڈ فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اگر کوئی دستاویز یا تاریخی ریکارڈ سرکاری فائلوں میں موجود نہ ہو تو اسے تیار کرنا یا قیاس آرائی پر مبنی معلومات دینا قانونی طور پر لازم نہیں۔ سی آئی سی کے فیصلے کے بعد اس معاملے میں فی الحال مزید کارروائی کی گنجائش نہیں رہی۔