ہندوستان کی کم عمر ریسنگ ڈرائیور عتیقہ میر نے یورپ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔ وہ ’ چیمپئنز آف دی فیوچر اکیڈمی‘ ( COTFA) کارٹنگ سیریز کے یورپی مرحلے میں پوڈیم حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی بن گئیں۔
EPAPER
Updated: March 03, 2026, 9:04 PM IST
ہندوستان کی کم عمر ریسنگ ڈرائیور عتیقہ میر نے یورپ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔ وہ ’ چیمپئنز آف دی فیوچر اکیڈمی‘ ( COTFA) کارٹنگ سیریز کے یورپی مرحلے میں پوڈیم حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی بن گئیں۔
ریسنگ کی ابھرتی ہوئی اسٹار عتیقہ میر نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ COTFA کارٹنگ سیریز کے یورپی مرحلے میں پوڈیم حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی ڈرائیور بن گئی ہیں۔ ۱۱؍سالہ عتیقہ نے چیمپئنز آف دی فیوچر اکیڈمی (COTFA) سیریز کے افتتاحی راؤنڈ کے فائنل میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ منی کیٹیگری سے جونیئر کیٹیگری میں منتقلی کے بعد یہ عتیقہکی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان بمقابلہ انگلینڈ سیمی فائنل: سنیل گاوسکر نے بڑے معرکے کی پیش گوئی کر دی
عتیقہ پہلی ہندوستانی ڈرائیور ہیں جنہیں ایف ون اکیڈمی کی حمایت حاصل ہے، جو ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ پورے ویک اینڈ کے دوران وہ شاندار فارم میں رہیں اور فائنل میں تیز ترین لیپ بھی ریکارڈ کیا۔ وہ پول پوزیشن حاصل کرنے کی مضبوط امیدوار تھیں، لیکن اپنی فلائنگ لیپ کے آخری موڑ پر ایک سست ڈرائیور کے باعث ان کا وقت متاثر ہوا اور وہ نویں نمبر سے ریس شروع کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ آگے بڑھنے کے عزم کے ساتھ عتیقہ نے ریس ون میں تیسری اور ریس ٹو میں دوسری پوزیشن حاصل کی جس کے نتیجے میں وہ فائنل ریس میں تیسرے نمبر سے آغاز کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ۱۵؍ لیپس پر مشتمل فائنل ریس تیز رفتار لوکاس گوریرو سرکٹ پر طاقت اور برداشت کا سخت امتحان تھی۔ عتیقہ نے آغاز میں دوسری پوزیشن سنبھالی اور لیڈنگ گروپ کے ساتھ طویل مقابلہ کیا۔
آخری لیپ پر انہوں نے آخری موڑ کی مشہور چیکین پر دوسرے نمبر کے ڈرائیور کو باہر کی جانب سے اوورٹیک کرنے کی جرات مندانہ کوشش کی۔ انہوں نے اس چیلنج کو کامیابی سے مکمل کیا اور ٹریک پر دوسری پوزیشن حاصل کی جو یورپی مرحلے میں کسی ہندوستانی ڈرائیور کی ریکارڈ کامیابی تھی۔ تاہم، ریس کے بعد لگنے والی پینلٹی کے باعث انہیں پوڈیم پر تیسری پوزیشن پر آنا پڑا۔ ویک اینڈ کے دوسرے دن بھی کوالیفائنگ کے دوران ایک سست ڈرائیور نے ان کی فلائنگ لیپ متاثر کی۔ ان کا نظریاتی وقت پول پوزیشن کیلئے کافی تھا، لیکن انہیں ساتویں نمبر سے آغاز کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: قطر کا تمام میچز معطل کرنے کا اعلان ، میسی اور لامین یامل کا ٹکراؤ مؤخر
ریس ون میں انہیں ٹریک سے باہر دھکیل دیا گیا، مگر وہ سنبھل کر نویں نمبر پر فنش کرنے میں کامیاب رہیں۔ ریس ٹو میں انہوں نے شاندار فتح حاصل کی لیکن ایک اور ڈرائیور سے تصادم پر بعد از ریس پینلٹی کے باعث ان سے یہ کامیابی چھن گئی۔ بدقسمتی کے باوجود عتیقہ نے پورے ویک اینڈ میں متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ عتیقہ نے کہا:’’یہ ایک شاندار ریس تھی۔ آگے کی رفتار بہت سخت تھی اور میں آخری موڑ تک مقابلہ کرتی رہی۔ میں تیسرے نمبر پر اکتفا نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لئے آخری موڑ پر رسک لیا۔ جیسا کہ عظیم آئرٹن سینا نے کہا تھا، اگر آپ موجود خلا سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو آپ ریسنگ ڈرائیور نہیں رہتے۔ یہ خطرناک تھا لیکن کامیاب رہا۔ پوڈیم پر ہندوستان کا پرچم لہرانا میرے اور ملک کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ ‘‘ عتیقہ کے والد آصف میر، جو ہندوستان کے پہلے قومی کارٹنگ چمپئن رہ چکے ہیں، نے بھی کامیاب ویک اینڈ پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا:’’اس سیریز میں OKNJ ریس میں ان کا ڈیبیو غیر معمولی رہا۔ انہیں اس سرکٹ پر، جس پر انہوں نے پہلے کبھی جونیئر کارٹ نہیں چلائی تھی، خود کو ہم آہنگ کرنے کیلئے صرف چند سیشن ملے۔ ان کی رفتار بہت اچھی تھی، لیکن بعد از ریس پینلٹی کے باعث ٹاپ پوزیشن سے محروم رہیں۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں، جب تک وہ ایسے اوورٹیک کرتی رہیں۔ ‘‘