اسدالدین اویسی نے حکومت کی جانب سے ایران حامی مظاہرین کے خلاف انتباہ کو دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا ہے،انہوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں حکومت ایسی کوئی فوری کارروائی کیوں نہیں کرتی۔
EPAPER
Updated: March 03, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi
اسدالدین اویسی نے حکومت کی جانب سے ایران حامی مظاہرین کے خلاف انتباہ کو دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا ہے،انہوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں حکومت ایسی کوئی فوری کارروائی کیوں نہیں کرتی۔
آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے پیر کو مرکزی حکومت کی اس انتباہ پر ’’دوہرے معیار‘‘ کا الزام لگایا جس میں ریاستوں کو اسرائیل-امریکہ کے ایران پر حملے کے تناظر میں ’’ایران نواز بنیاد پرست مبلغین‘‘ پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اویسی نے سوال اٹھایا کہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں ایسی کوئی فوری کارروائی کیوں نہیں دکھائی گئی۔ اور دلیل دی کہ مرکزی حکومت امن عامہ کے خدشات کو چن چن کر استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے کہا، ایک بابا ہے جس نے بار بار اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اور کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی پر اکسانے والے بیانات دیے ہیں۔ مرکزی حکومت نے خود ایک کانفرنس کو امداد فراہم کی جس میں ہندوستان کے آئین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: علی خامنہ ای کی شہادت پر دہلی، لکھنؤ، جموں کشمیراور حیدرآباد میں شدید احتجاج
اسرائیل کی غزہ نسل کشی کا حوالہ دیتے ہوئے اویسی نے کہا’’۲۰۲۳ء کے بعد سے خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پھر بھی کبھی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ ایسے معاملات میں مرکز کہتا ہے کہ ا من عامہ ریاست کا موضوع ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ان کے یہ تبصرےاس وقت سامنے آئے ہیں جب مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’’وہ ایران نواز بنیاد پرست مبلغین جو اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں پر نظر رکھیں جو ممکنہ طور پر تشدد کو جنم دے سکتے ہیں۔‘‘پی ٹی آئی کے مطابق، وزارت نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ انتہا پسندوں اور عالمی دہشت گرد گروپوں کے سوشل میڈیا ہینڈل کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور عالمی پیش رفت کے ممکنہ ملکی اثرات کو دیکھتے ہوئے چوکسی بڑھائیں۔
بعد ازاں ریاستوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں، قونصلیٹ اور دیگر سفارتی اداروں کی حفاظت کو مضبوط کریں۔مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق، شیعہ ملیشیا گروپوں اور داعش اور القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ممکنہ اہداف میں ہندوستان میں امریکی اور اسرائیلی سفارت خانے اور قونصلیٹ، ان کے عملہ اور وفود، کاروباری ادارے، ریزورٹس اور مغربی شہریوں کے زیر استعمال سیاحتی مقامات شامل ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ یہودی ادارے، ثقافتی مراکز اور عبادتگاہوں ،کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ایرانی سفارت خانے، قونصلیٹ اور ثقافتی مراکز کو بھی اسی طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس نے مزید حکام کو مشورہ دیا کہ وہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب کارروائی کریں۔
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی نے خامنہ ای کی ہلاکت پر حکومت کی خاموشی پرسوال اٹھایا
واضح رہے کہ یہ کارروائی ہندوستان کے کئی حصوں میں شیعہ سوگواروں کے مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جو اسرائیل-امریکہ کی کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت پر غم و غصے کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔شیعہ گروپوں کی جانب سے اتر پردیش، جموں و کشمیر، لداخ، کرناٹک اور دہلی سمیت دیگر جگہوں پر مظاہرے کیے گئے۔بعد ازاں وائرل ویڈیو میں جموں و کشمیر پولیس کو ان خواتین مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا جو اس موت پر سوگ منانے کے لیے جمع ہوئی تھیں۔