Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸؍ اگست ۱۹۴۲ء: ’’بھارت چھوڑو تحریک‘‘،اسباب و واقعات

Updated: August 30, 2025, 4:38 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

آج سے ۸۳؍ سال قبل ہمارے مجاہدین آزادی نے Quit India Movement کا آغاز کیا تھا جس نے تحریک آزادیٔ ہند میں اہم کردار ادا کیا اور ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمیں آزادی ملی۔

The Quit India Movement was launched under the leadership of Gandhiji on August 8, 1942. This photo is from that occasion. Photo: INN
۸؍ اگست ۱۹۴۲ء کو گاندھی جی کی قیادت میں بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز ہوا تھا۔یہ تصویر اسی موقع کی ہے۔ تصویر: آئی این این

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد آزادی کیلئے جتنی بھی تحریکیں چلیں، اُن میں’’بھارت چھوڑو تحریک‘‘(Quit India Movement) اہم تحریک تھی۔ بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز’ کرپس مشن‘ (Cripps Mission) کی ناکامی کے بعد ہوا تھا۔ ۱۹۴۲ءمیں برطانوی حکومت نے سر اسٹافورڈ کرپس کو ہندوستان بھیجا تاکہ ہندوستانی لیڈران کو جنگ میں تعاون پر راضی کرے۔ کرپس نے بعد از جنگ آزادی کا وعدہ کیا لیکن فوری خودمختاری نہیں دی۔کانگریس نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ کرپس مشن کی ناکامی ، دوسری جنگ عظیم کے درمیان ہندوستان کو درپیش معاشی مسائل اور سول نافرمانی جیسی پرانی تحریکوںکے بعد ہندوستانیوں میں قومیت کاجذبہ بلند کرنے کے پیش نظر گاندھی جی نے ’’کرو یا مرو‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اس تحریک کی ابتداء کی تھی۔ بمبئی کے میئر یوسف مہر علی (نیچے کی تصویر دیکھئے) نے اس تحریک کا نام ’’کوئٹ انڈیا موومنٹ‘‘ رکھنے کا مشورہ دیا تھا جس کی گاندھی جی نے تائید کی تھی۔ 

 ۱۴؍ جولائی۱۹۴۲ء کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کوئیٹ انڈیا ریزلیوشن پاس کرنے کیلئے وردھا میں جمع ہوئی تھی۔ ۸؍ اگست ۱۹۴۲ء کو بامبے (اب ممبئی) میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ریزولیوشن کی توثیق کی تھی۔ مہاتما گاندھی نے گوالیا ٹینک میدان (اگست کرانتی میدان) میں تقریر کرتے ہوئے ’’کرو یا مرو‘‘ کا نعرہ دیا تھا جس کے بعد یہ تحریک شروع ہوئی۔ ۹؍ اگست ۱۹۴۲ء کو برطانوی حکومت نے اس تحریک کی وجہ سے کانگریس کے اہم لیڈران گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل کو حراست میں لیا تھا۔لیڈروں کی حراست کی خبر ملنے کے بعد عوام نے سڑکوں پر مظاہرے اور ہڑتال کئے تھے۔ بہت سے افراد احمد نگر جیل کے باہر بھی جمع ہوگئے تھے جہاں ان لیڈران کو قید کیا گیا تھا۔ لیڈران کی غیر موجودگی میں عدم تشدد کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھانا ناممکن تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک ملک بھر میں پھیل گئی تھی، لوگ ریلوے لائن پر جمع ہوگئے تھے، پولیس اور ریلوے اسٹیشن جلا دیئے گئے تھے اور ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کی لائنس تباہ کر دی گئی تھیں۔

ہندوستان کی آزادی میں’’بھارت چھوڑو تحریک‘‘ کا کردار


 یہ تحریک ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس تحریک نے برطانوی سامراج کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں اور ملک بھر میں عوام نے بھرپور شرکت کی۔ کانگریس کی پوری قیادت گرفتار کر لی گئی لیکن عوام نے بغیر قیادت کے بھی تحریک جاری رکھی۔ ریلوے لائنیں کاٹی گئیں، سرکاری عمارتیں جلائی گئیں اور ہزاروں افراد نے جیلیں بھریں۔ اس تحریک نے عوامی شعور کو بیدار کیا اور آزادی کی خواہش کو اور زیادہ مضبوط کیا۔ برطانیہ کو اندازہ ہو گیا کہ اب ہندوستان پر حکومت کرنا ممکن نہیں۔ بالآخر یہ تحریک ۱۹۴۷ءمیں آزادی کا پیش خیمہ بنی۔یاد رہے کہ یہ تحریک ممبئی کے گوالیا ٹینک سے شروع ہوئی تھی۔ بائیں جانب گوالیا ٹینک میدان میں اس تحریک کی یادگار کو دیکھا جاسکتا ہے۔

بھارت چھوڑو تحریک کے ممبئی پر معاشی اثرات

 یہ تصویر گوالیا میدان،بامبے(موجودہ ممبئی) کی ہے جہاں بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز ہوا تھا۔اس موقع پر عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

 اس تحریک کے دوران ممبئی میں صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں کیونکہ ہڑتالوں اور مظاہروں کے باعث فیکٹریاں اور کاروباری مراکز بند ہو گئے۔ ریلوے اور بندرگاہ جیسی اہم سہولیات پر حملوں نے شہر کی آمد و رفت اور تجارتی نظام کو بری طرح متاثر کیا۔

بھارت چھوڑو تحریک میں کئی اہم لیڈران نے حصہ لیا تھا۔ زیر تصویر میں مولانا آزاد، گاندھی جی، سروجنی نائیڈو اور خان عبد الغفار خان کو دیکھا جاسکتا ہے۔
انگریز حکومت کیخلاف شہریوں کی بدلتی سوچ
 اس تحریک نے عوام کے دلوں میں انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کا جذبہ پیدا کیا۔ لوگ خوف چھوڑ کر آزادی کیلئے کھل کر سامنے آنے لگے اور حکومت کی مخالفت کرنے لگے۔
بھارت چھوڑو تحریک کے خلاف برطانویوں کا ردعمل
 برطانوی حکومت نے اس تحریک کے جواب میں بڑے پیمانے پر ہندوستانی لیڈران اور عوام کو حراست میں لیا تھا۔سیکڑوں معصوم افراد کی جانیں گئی تھیں۔ کانگریس دنیا بھر سے الگ ہوگئی تھی۔برطانوی حکومت نے عوامی اجلاس کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارچ کیا تھا۔ پولیس نے بدامنی کو ختم کرنے کیلئے جارحانہ طریقۂ کار اپنایا تھا۔ 

۹؍ اگست ۱۹۴۲ءکو نہرو، سردار پٹیل وغیرہ کو احمد نگر قلعے میں قید کیا گیا۔یہ تصویر احمد نگر جیل کے باہر کی ہے جہاں لوگ لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ 

۱۰؍ اگست ۱۹۴۲ء کے ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے اخبار کا یہ تاریخی تراشہ مہاتما گاندھی،مولانا آزاد اور پنڈت نہرو کی گرفتاری کی اطلاع دے رہا ہے۔

 اس تحریک کے قائد مہاتما گاندھی تھے جن کے ساتھ کانگریس کے دیگر لیڈران بھی شامل تھے۔ زیر نظر تصویر میں پنڈت نہرو، گاندھی جی سے مشورہ کرتے ہوئے۔

ملک بھر میں خفیہ سرگرمیوں کا آغاز
 اس تحریک نے ملک بھر میں خفیہ سرگرمیوں کو فروغ دیا تھا ۔ تحریک میں حصہ لینےو الے افراد مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے جنہیںخفیہ طریقے سے ہتھیار، بم ، ڈائنامائٹ اور دیگر چیزیں تقسیم کی جاتی تھیں۔ اس تحریک کی قیادت زیادہ تر کانگریس کے سماجی کارکنان کرتے تھے لیکن گاندھی حامی افراد، فارورڈ بلاک کے ممبران اور کانگریس کے اراکین بھی تحریک کا حصہ تھے۔ارونا آصف علی، اچیوت پٹوردھن، سچیتا کرپلانی، رام منوہر لوہیا، بیجو پٹنائک، چھوٹوبھائی پرینک، آر پی گوئنکا اور جے پرکاش نارائن خفیہ سرگرمیوں کے مشہور لیڈران تھے۔ کانگریس کی لیڈر اشامہتا کانگریس ریڈیو کے ذریعے بامبے (موجودہ ممبئی) کے مختلف مقامات سے خفیہ طور پرخبریں دیتی تھیں۔
عارضی طور پر متوازی یا آزاد حکومتوں کا قیام 
 اس تحریک کے بعد ملک بھر میں عارضی طور پر متوازی حکومتیں (آزاد حکومتیں) ستارا، بلیا اور مدھوبنی وغیرہ مقامات پر ابھری تھیں۔ حکومتی املاک پر حملے کئے گئے تھے ۔ سرکاری اہلکاروں، جن میں خاص طور پر منتظمین اور پولیس شامل تھے، نے بھی تحریک کی حمایت کی تھی۔ برطانوی حکومت کے افسران میں وفاداری کی کمی دیکھنے کو ملی تھی۔ اس تحریک میں ملک بھر کے کسانوں، قبایلیوں، حکومتی اہلکاروں، خواتین، طلبہ اور دیگر نے حصہ لیا تھا۔ 
بھارت چھوڑو تحریک میں اردو صحافت کا ردعمل
 اس تحریک کے دوران اردو صحافت کا کردار متنوع اور اہم رہا۔ کچھ اخبارات جیسے ’’مدینہ‘‘ اور’’زمیندار‘‘ نے تحریک کی حمایت کی اور برطانوی سامراج کے خلاف آواز بلند کی جبکہ بعض نے احتیاط یا مسلم لیگ کے مؤقف کے تحت مخالفت کا رویہ اپنایا۔ سخت سرکاری سنسرشپ اور دباؤ کے باوجود کئی اخبارات نے علامتی زبان میں تحریک کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ ترقی پسند شعرا جیسے ساحر لدھیانوی اور کیفی اعظمی نے اپنی نظموں کے ذریعے انقلابی جذبے کو ابھارا۔ حکومت کی جانب سے گرفتاریوں، پابندیوں اور اخبارات کی بندش کے باوجود اردو صحافت نےتحریک کے تئیں شعور بیدار کرنے کا اہم کردار ادا کیا۔ اردو صحافت نے اس تحریک کے پیغام کو محدود ذرائع کے باوجود عوام تک پہنچایا۔ یوں یہ تحریک اردو صحافت کا ایک نازک مگر جراتمندانہ امتحان ثابت ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK