اترپردیش کے سردھنا شہرکی رہنے والی ادیبہ ملک نے یوپی بورڈ ہائی اسکول امتحان میں ۹۵ء۶۸؍ فیصد نمبر حاصل کر کے ضلع میرٹھ میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی بہن شفاء نے بھی سائنس اسٹریم میں۸۲؍ فیصد نمبر لے کر دوسرا مقام حاصل کیا ہے ۔ دونوں بہنوں کی اس کامیابی سے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
میرٹھ ضلع میں دسویں بورڈ امتحان کی ٹاپر ادیبہ بشریٰ اپنے والدین کے ساتھ -تصویر:آئی این این
اترپردیش کے سردھنا شہرکی رہنے والی ادیبہ ملک نے یوپی بورڈ ہائی اسکول امتحان میں ۹۵ء۶۸؍ فیصد نمبر حاصل کر کے ضلع میرٹھ میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی بہن شفاء نے بھی سائنس اسٹریم میں۸۲؍ فیصد نمبر لے کر دوسرا مقام حاصل کیا ہے ۔ دونوں بہنوں کی اس کامیابی سے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ادیبہ نے اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے روزانہ تین گھنٹے کی باقاعدہ پڑھائی کے ساتھ سخت محنت اور نظم و ضبط کو اپنا معمول بنایا ۔ اس کے والدین زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں؛ والدہ نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ والد بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔
ادیبہ کے والد نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ’’میں خود زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر سکا، لیکن میری بیٹی پڑھ لکھ کر میرا نام روشن کر رہی ہے۔ بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں، میں اپنی بیٹی کو بھی بیٹے کی طرح تعلیم دلا رہا ہوں۔‘‘
اس شاندار کامیابی پر سینٹ جوزف انٹر کالج میں ادیبہ اور شفاء کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اساتذہ اور طلبہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور مٹھائیاں تقسیم کر کے خوشی منائی۔ گھر پر بھی مبارکباد دینے والوں کا تانتا لگا رہا، جہاں خاندان نے اسے دونوں بہنوں کی محنت کا نتیجہ قرار دیا۔ ادیبہ کا خواب ایک آئی اے ایس افسر بن کر ملک کی خدمت کرنا ہے۔ادیبہ نے بتایا کہ امتحان کے دوران وہ روزانہ تقریباً۱۸؍ گھنٹے تک پڑھائی کرتی تھیں۔ خاص طور پر انہوں نے ریاضی کے مضمون پر زیادہ توجہ دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں ریاضی میں سو فیصد نمبر حاصل ہوئے۔ادیبہ نے بتایا کہ انہوں نے پوری تیاری گھر پر ہی کی اور کسی قسم کی کوچنگ یا ٹیوشن نہیں لی۔