• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

ایشین گیمز: کرکٹ میں ہندوستان کو پہلی بار تمغہ ملا

Updated: September 30, 2023, 2:53 PM IST | Abdul Kareem Kasam Ali | Mumbai

ایشیاکپ میں ہندوستان کی مردوں کی ٹیم نے سری لنکا کو شرمناک شکست دے کر خطاب اپنے نام کرلیا تھا اور یہی کارکردگی خواتین کی ٹیم نے پیر کو دُہراتے ہوئے ہانگزو میں جاری ایشین گیمز کے کرکٹ کے فائنل میں سری لنکا کو ۱۹؍ رن سے مات دے کر خطاب اپنے نام کرلیا۔

The women`s cricket team won the Asian gold medal. Photo: INN
خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشین گولڈ میڈل حاصل کیا۔ تصویر:آئی این این

ایشیاکپ میں ہندوستان کی مردوں کی ٹیم نے سری لنکا کو شرمناک شکست دے کر خطاب اپنے نام کرلیا تھا اور یہی کارکردگی خواتین کی ٹیم نے پیر کو دُہراتے ہوئے ہانگزو میں جاری ایشین گیمز کے کرکٹ کے فائنل میں سری لنکا کو ۱۹؍ رن سے مات دے کر خطاب اپنے نام کرلیا۔ ایشین گیمز میں ہندوستان کو کرکٹ کے مقابلے میں پہلی بار طلائی تمغہ ملا ہے۔مرد ٹیم ان گیمز میں تمغہ جیتنےمیں ناکام رہی ہے اس لئے خواتین کی کامیابی کو تاریخی فتح قرار دیا جاسکتاہے۔ 
 ہندوستانی کرکٹ بورڈ ایشین گیمز میں اپنی ٹیموں کو بھیجنے کا قائل نہیں تھا لیکن اس نے پہلے خواتین کی ٹیم کو اجازت دی اور اس کے بعد مردوں کی بی ٹیم کو ہانگزو بھیجنے کیلئے راضی ہوگیا۔ چین سے سیاسی روابط میں تلخی کے ساتھ بی سی سی آئی کو عالمی کپ ۲۰۲۳ء کی بھی تیاری کرنی تھی اس لئے کرکٹ بورڈ نے سینئر ٹیم کے بجائے جونیئر ٹیم کو بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 
 ایشین گیمز میں کرکٹ کو ۲۰۱۰ء میں متعارف کروایاگیا تھا اور ا ب تک ایشیاڈ میں ۳؍ بارکرکٹ کا مقابلہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۰ء کے بعد۲۰۱۴ء کے ایشیائی کھیلوں میں اسے شامل کیا گیا تھا اور اب ۲۰۲۲ء میں بھی اس کی شمولیت ممکن ہوسکی ہے۔ مرد اور خواتین کے ۲؍ ایشیاڈ میں ہندوستان کے حصہ میں کوئی تمغہ نہیں آیا تھا لیکن پیر کو ایشیاڈ میں یہ تاریخی لمحہ تھا جب ہندوستان کی خواتین ٹیم نے اس مقابلے میں طلائی تمغہ جیت لیا۔
 اولمپک کی طرح ہی ایشیاڈ بھی ملٹی اسپورٹس مقابلہ ہے اس لئے اس میں کرکٹ جیسا طویل فارمیٹ والا کھیل شامل کرنا ممکن نہیں تھا لیکن ایشیا میں کرکٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئےاس کے سب سے چھوٹے فارمیٹ یعنی ٹی ۲۰؍ کو شامل کیا گیا تھا۔ اس سے ایشیاڈ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور کرکٹ شائقین کو بھی ان کھیلوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ دیکھنے کا موقع ملا۔ 
 ۲۰۱۰ء میں گوانگزو میں ہونے والے ایشیاڈ کے فائنل میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں پہنچی تھیں اور پاکستان نے ۱۰؍ وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔یہی دونوں ٹیمیں ۲۰۱۴ء کے ایشیاڈ کے فائنل میں بھی پہنچی تھیں اور پاکستان نے ۴؍رن سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے مسلسل دوسری بار طلائی تمغہ جیت لیا تھا۔ اس طرح ایشیاڈ کے کرکٹ مقابلے میں ۲؍ طلائی تمغہ جیتنے کا ریکارڈ پاکستان کے نام ہے۔ 
 مردوں کے ٹورنامنٹ میں ایک بار بنگلہ دیش نے افغانستان کو ۵؍وکٹ سے شکست دے کر ۲۰۱۰ء کے ایشیاڈ میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور ۲۰۱۴ء کےایشیائی کھیلوں میں سری لنکا نے افغانستان کو ۶۸؍ رن سے روند کر طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا۔ اس وقت ہندوستان کی مردوں کی جونیئر ٹیم بھی مضبوط ہے۔ اس لئے اس کے بھی طلائی تمغہ جیتنے کی پوری امید ہے کیونکہ اس وقت ملک میں کرکٹ کی ترقی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ 
 ہندوستان کی خواتین کرکٹ ٹیم نے پہلے کوارٹر فائنل میں ملائیشیا کے خلاف بارش سے متاثرہ میچ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ٹیم انڈیا نے ۱۵؍ اوورمیں ۱۷۳؍رن بنائے اور ڈکورتھ لوئیس ضابطے کے تحت ملائیشیا کو ۱۷۷؍رن کا ہدف ملا لیکن بارش کی وجہ سے میچ بے نتیجہ رہا۔ ایشیاڈ کے سیمی فائنل میں خواتین ٹیم کا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوا اور ٹیم کی گیندبازوں نے حریف ٹیم کو ۵۱؍رن پر آؤٹ کردیا۔ خواتین ٹیم نے معمولی ہدف جلد ہی حاصل کرلیا اور فائنل میں جگہ بنائی۔ یکطرفہ سیمی فائنل میں ہندوستان کے سبھی کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا۔ پیر کو ہونےوالے سیمی فائنل میں سری لنکا نے ہندوستان کو زبردست ٹکر دی اور اسے ۱۱۶؍ رن تک محدو د کردیا۔ سری لنکا نے ہدف کے تعاقب میں اچھی شروعات کی اور وہ اسے حاصل بھی کرلیتی لیکن گیندبازوں کی بدولت یہ ممکن نہیں ہوسکا اور ہندوستانی ٹیم نے ۱۹؍رن سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخی طلائی تمغہ بھی جیت لیا۔ 
 ملٹی اسپورٹس میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا مردوں اور خواتین کے مقابلوں میں پہلا تمغہ ہے۔ اس تاریخی کامیابی کے بعد کھلاڑیوں میں بہت زیادہ جوش تھا اور وہ بہت خوش تھیں ۔ تجربہ کار اسمرتی مندھانا نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ طلائی تمغہ دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔سبھی خواتین کھلاڑی اس جیت پر خوشی سے سرشار نظر آئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK