• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

چچا چھکن نے کرسی بنائی

Updated: February 10, 2024, 2:08 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

چچا نے بڑھئی کا کام سیکھ لیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا جہان کے کمالات حاصل کر لئے ہیں۔ جب کبھی کام اپنے ذمے لے لیتے ہیں تو گھر بھر میں شورِ قیامت برپا کر دیتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

چچا نے بڑھئی کا کام سیکھ لیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا جہان کے کمالات حاصل کر لئے ہیں۔ جب کبھی کام اپنے ذمے لے لیتے ہیں تو گھر بھر میں شورِ قیامت برپا کر دیتے ہیں۔ کسی کو برا بھلا کہتے ہیں، کسی کو ڈانٹتے ہیں، کسی پر گرج گرج کر برس پڑتے ہیں، غرض گھر تو ایک طرف رہا محلے بھر کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
 پچھلے ہفتے کا ذکر ہے کہ: افضل نے کہا کہ، ’’ابّا! میری پڑھنے کی کرسی کا پایا ٹوٹ گیا ہے۔‘‘
 چچا نے فخر سے جواب دیا، ’’تو کیا ہوا؟ مَیں ابھی منٹ بھر میں درست کئے دیتا ہوں۔‘‘
 اتفاق سے چچا اس وقت اپنی نئی پتلون پہن رہے تھے، بولے، ’’بیٹا! ذرا میرا پاجامہ دے جاؤ۔ میری پتلون خراب نہ ہو۔‘‘ افضل بہت دیر تک ڈھونڈنے کے بعد آیا اور کہنے لگا، ’’ابّا وہ تو ملتا نہیں۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ بھبک کے بولے، ’’ارے کیا یہاں سے غارت ہوگیا۔ زمین نکل گئی، آسمان کھا گیا۔‘‘ چچا کو جو چیختے چلاتے سنا تو سب کے سب پاجامہ ڈھونڈنے کے درپے ہوگئے۔ جب بہت دیر ہوگئی تو چچا نے کہا، ’’ارے کمبختو، تہمد ہی دے دو، کام کا ہرج تو نہ کرو۔‘‘ یہ سن کر لوگوں کی جان میں جان آئی۔
 للو نے تہمد دیا تو خدا خدا کرکے آپ نے پتلون اتاری۔ اب معلوم ہوا کہ آپ نے پتلون کے نیچے پاجامہ پہن رکھا تھا۔ پھر بولے، ’’اتنے آدمی پاجامے کو نہ ڈھونڈ سکے اور مَیں نے لمحہ بھر میں ڈھونڈ نکالا۔‘‘
 اللہ اللہ کرکے ٹوٹی ہوئی کرسی آئی۔ بڑھئی کے سامان کا صندوق آیا۔ چچا نے ایک ہاتھ میں کیل پکڑی اور دوسرے میں ہتھوڑی، اتنے میں باہر سے آواز آئی:
 ’’چچا جان....!‘‘
 چچا جان سب کچھ چھوڑ چھاڑ باہر بھاگے۔ معلوم ہوا کہ ایک بچہ اپنے چچا کو آواز دے رہا ہے۔ بہت بھنائے اندر آکر پھر کیل اٹھائی۔ ہتھوڑی کے لئے جو ہاتھ بڑھایا تو معلوم ہوا کہ وہاں سے غائب ہوگئی ہے۔ لو صاحب اب ہتھوڑی کی ڈھنڈیا پڑی۔ چچا لگے پھر چیخنے چلانے۔ بہت دیر کے بعد پتہ چلا کہ آپ غلطی سے ہتھوڑی پر بیٹھ گئے تھے۔ پھر آپ نے ہتھوڑی اٹھائی اور اس زور سے ماری کہ کیل پر پڑنے کی جگہ وہ دوسرے پائے پر پڑی۔ باوا آدم کے زمانے کی کرسی، پھر اس پر ایسی سخت چوٹ کہ استاد کا ڈنڈا بھی اس زور سے نہ پڑتا ہوگا کھٹ سے پایا الگ جا پڑا۔ بڑی مشکلوں سے رات تک کرسی درست ہوئی مگر دونوں پائے ایسے گویا ڈورے سے لٹکائے ہیں۔ چچا نے غرور سے کرسی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’لکڑی ذرا سخت تھی ورنہ ایسی درست ہوتی کہ کیا کہوں!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK