دونوں فریقین نے کنیڈا کی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں کیمپس قائم کرنے کی ترغیب دینے اور مصنوعی ذہانت، حفظانِ صحت ، زراعت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 10:15 PM IST | New Delhi
دونوں فریقین نے کنیڈا کی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں کیمپس قائم کرنے کی ترغیب دینے اور مصنوعی ذہانت، حفظانِ صحت ، زراعت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
ہندوستان اور کنیڈا نے پیر کے دن دو طرفہ تعلقات کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں مضبوط بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ دونوں ممالک نے اس موقع پر یورینیم کی فراہمی کے تاریخی اور طویل المدتی معاہدے پر دستخط کئے اور ۲۰۳۰ء تک باہمی تجارت کو دوگنا کرکے ۵۰ ارب ڈالر (تقریباً ۱ء۴ لاکھ کروڑ روپے) تک پہنچانے کے روڈ میپ کی نقاب کشائی کی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوستان کا دورہ کرنے والے وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان پیر کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ہوئی ملاقات کے بعد یہ اعلانات سامنے آئے۔ دونوں لیڈران نے اس پیش رفت کو ہند-کنیڈا کے باہمی تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار تھے۔
اس نئے فریم ورک کی توجہ کا مرکز شہری جوہری تعاون کا معاہدہ رہا جس کے تحت کنیڈا طویل مدت تک ہندوستان کے ایٹمی بجلی گھروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لئے یورینیم فراہم کرے گا۔ دونوں فریقین نے ’اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز` (ایس ایم آر) اور جدید جوہری ٹیکنالوجی پر تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس موقع پر، دونوں ممالک نے ۲۰۲۶ء کے آخر تک، جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے) کو حتمی شکل دینے کا عہد کیا۔ اس مجوزہ معاہدے کا مقصد تجارتی رکاوٹیں کم کرنا، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بڑھانا اور دونوں معیشتوں میں ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا دوٹوک اعلان: امریکہ سے مذاکرات نہیں، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
بحری سلامتی، فوجی تبادلوں اور دفاعی صنعتوں، خاص طور پر انڈو پیسیفک خطے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے نئے ’ہند-کینیڈا دفاعی مذاکرے‘ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مشترکہ سیکوریٹی خدشات پر باقاعدہ مشاورت کو ایک باضابطہ شکل ملے گی۔
دونوں لیڈران نے اہم معدنیات سے جڑے معاہدوں پر بھی دستخط کئے۔ ان معاہدوں کا مقصد نایاب معدنیات کی سپلائی چین کو مستحکم بنانا ہے۔ نایاب دھاتوں اور بیٹری کے خام مال کے لئے عالمی مقابلے کے درمیان اسٹریٹجک لحاظ سے یہ معاہدہ نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں یہ شراکت داری ہائیڈرو کاربن، قابلِ تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن جیسے شعبوں کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔
تعلیم اور اختراع بھی ہند-کنیڈا معاہدوں کے کلیدی ستون رہے۔ دونوں فریقین نے کنیڈا کی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں کیمپس قائم کرنے کی ترغیب دینے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، حفظانِ صحت ، زراعت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھئے: مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر کانگریس کا شدید حملہ
دونوں ممالک کے درمیان اس پیش رفت کو ایک ”اہم سنگِ میل“ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہند-کنیڈا تعلقات نے نئی توانائی اور باہمی اعتماد حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہندوستان کی ترجیحات میں شامل رہے گا۔ کنیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس ڈیل کو "نئے عزائم اور بصیرت" کے ساتھ ایک قابلِ قدر شراکت داری کی توسیع قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شراکت داری دو پراعتماد ممالک کے عزائم کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔