• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

دِمتری مینڈیلیوف کو’بابائے جدید دوری جدول‘ کہا جاتا ہے

Updated: February 09, 2024, 4:28 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

انہوں نے فزکس اور کیمسٹری سے ملحق دیگرمضامین میں بھی اپنا تعاون پیش کیا۔دمتری، روسی کیمیکل سوسائٹی کے بنیاد گزاروں میں سے تھے۔

Dmitri Mendeleev. Photo: INN
دِمتری مینڈیلیوف۔ تصویر : آئی این این

دمتری مینڈیلیوف (Dmitri Mendeleev) ایک روسی موجد اور ماہر کیمیاداں تھے۔کیمسٹری میں ان کی شراکت آج تک بے مثال اور لازوال سمجھی جاتی ہے۔ دمتری نے’جدید دوری جدول‘ (modern periodic table) دریافت کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں ’فادر آف ماڈرن پریوڈک ٹیبل‘ کہا جاتا ہے۔
دمتری مینڈیلیوف کی پیدائش ۸؍ فروری (بعض روایت کے مطابق ۲۷؍ جنوری) ۱۸۳۴ء کوسائبیریا، روس میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ایون پاولوک مینڈیلیوف فنون لطیفہ، سیاست اور فلسفہ کے استاد کے طور پر تمبوف اور سراتوف کے جمنازیم میں کام کیا تھا جبکہ دمتری کی والدہ ماریا کورنیلیوا تاجروں کے ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ دمتری مینڈیلیوف اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ابھی وہ محض ۱۳؍ سال کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور گھر کی کفالت کی ذمہ داری ان کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ ان کی والدہ نے قریبی قصبے میں اپنے خاندان کی ملکیت میں شیشے کی ایک چھوٹی فیکٹری چلانے کا فیصلہ کیا مگر بد قسمتی سے یہ فیکٹری دسمبر ۱۸۴۸ء میں جل کر خاکستر ہوگئی۔ ۱۸۴۹ء میں دمتری کی والدہ اپنے خاندان کے ساتھ سائبیریا سے ماسکو اور پھر سینٹ پیٹرزبرگ منتقل ہوگئیں۔ یہاں دمتری مینڈیلیوف نے پیڈاگو جیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا اور ۱۸۵۵ء میں یہاں سے گریجویشن مکمل کیا اور ۱۸۵۶ءمیں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اورآرگینک کیمسٹری میں تحقیق کرنا شروع کی۔
 ۱۸۵۹ء تا۱۸۶۱ءدمتری مینڈیلیوف نے اور اسپیکٹرو اسکوپ پر کام کیا۔ بعد ازاں ۱۸۶۱ء میں انہوں نے آرگینک کیمسٹری کے نام سے ایک درسی کتاب شائع کی جس پر انہیں پیٹرز برگ اکیڈمی آف سائنسز کے ڈیمیدوف پرا ئز سے نوازا گیا۔ ۱۸۶۴ء میں انہوں نے ٹیکنالوجیکل انسٹیٹیوٹ میں پروفیسر شپ حاصل کی۔ وہ ۱۸۶۷ء میں جنرل کیمسٹری کے پروفیسر بنے اور ۱۸۹۰ء تک وہاں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔
۱۸۶۷ءمیں پروفیسر بننے کے بعد دمتری مینڈیلیوف نے کیمسٹری کے اصول لکھے جو اپنے وقت کی حتمی نصابی کتاب بن گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے اپنی سب سے اہم دریافت کی۔ انہوں نے عناصر کو ان کی کیمیائی خصوصیات کے مطابق درجہ بندی کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اضافی عناصر کو شامل کرکے، مینڈیلیوف نے دوری جدول کا اپنا توسیعی ورژن تیار کیا اور ۶؍مارچ ۱۸۶۹ء کو روسی کیمیکل سوسائٹی کے سامنے پیش کیا۔ ابتدا میں کیمیا دانوں نے اس میں کچھ خاص دلچسپی نہیں دکھائی مگر بعد میں کئی اہم عناصر کی دریافت کے بعد دمتری کے دوری جدول کو وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی اس دریافت اور پیریڈک ٹیبل کے ڈیزائن کی وجہ سے کیمسٹری کا رخ ہمیشہ کیلئے بدل گیا۔ ان کی دریافت کیلئے انہیں کوپلے میڈل اور ڈیوی ایوارڈ سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں انہیں کئی ممالک نے بھی اعزازات سے نوازا۔دمتری مینڈیلیوف کا انتقال ۲؍ فروری ۱۹۰۷ء کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK