اس تلاش کا سب سے مؤثر طریقہ آخری عشرے کا اعتکاف ہے۔ اعتکاف دراصل انسان کے لئے ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں وہ وقتی طور پر دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر اپنے باطن کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 4:31 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai
اس تلاش کا سب سے مؤثر طریقہ آخری عشرے کا اعتکاف ہے۔ اعتکاف دراصل انسان کے لئے ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں وہ وقتی طور پر دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر اپنے باطن کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
رمضان المبارک کی افضلیت تمام مہینوں پر اسی طرح نمایاں ہے جیسے تاریکی میں روشنی کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں انسان کو اپنی زندگی کے رخ پر نظرِ ثانی کا موقع ملتا ہے۔ اسی مہینے میں ایک ایسی رات رکھی گئی ہے جسے شب ِ قدر کہا جاتا ہے، اور اس کی عظمت تمام راتوں پر فائق ہے۔ گویا زمانے کے طویل بہاؤ میں یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں انسانی اعمال کی قدر و قیمت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے اس رات کی تلاش کو عبادت کی زندگی کا ایک اہم مقصد قرار دیا گیا ہے۔
اس تلاش کا سب سے مؤثر طریقہ آخری عشرے کا اعتکاف ہے۔ اعتکاف دراصل انسان کے لئے ایک ایسی تربیت گاہ ہے جہاں وہ وقتی طور پر دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر اپنے باطن کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ عام زندگی میں انسان کی توجہ مختلف ذمہ داریوں اور مشغولیات میں بٹ جاتی ہے، اور دل کی یکسوئی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اعتکاف اس منتشر توجہ کو سمیٹنے کی ایک عملی مشق ہے۔ جب انسان مسجد کی چار دیواری میں خود کو محدود کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے دل کو ایک مرکز پر جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آخری عشرہ میں آرام کم عبادت زیادہ کیجئے!
لیکن اعتکاف کا اصل مقصد صرف مسجد میں قیام نہیں، بلکہ دنیاوی مشاغل سے حقیقی علاحدگی ہے۔ اگر جسم مسجد میں ہو مگر ذہن بازاروں اور معاملات میں بھٹکتا رہے تو اعتکاف کا جوہر باقی نہیں رہتا۔ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے کوئی شخص پانی کے چشمے کے پاس بیٹھا ہو مگر اس کے ہاتھ میں کوئی پیالہ نہ ہو جس سے وہ پانی حاصل کر سکے۔ فائدہ اسی کو ہوتا ہے جو اس موقع کو شعوری طور پر اختیار اور اس سے اپنی روح کو سیراب کرے۔
اسی لئے معتکف کے لئے ضروری ہے کہ وہ دنیا اور اس کی الجھنوں سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرے۔ اس کا مقصد صرف شب ِ قدر کی تلاش اور رضائے الٰہی کا حصول ہونا چاہئے۔ لیکن شب ِ قدر کی تلاش کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان محض راتوں کو جاگتا رہے اور اسی کو عبادت سمجھ لے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جاگنا مقصود نہیں بلکہ دل کا بیدار ہونا مقصود ہے۔ اگر رات بھر آنکھیں کھلی رہیں مگر دل غفلت میں رہے تو یہ جاگنا ایک جسمانی مشقت سے زیادہ نہیں۔ اس کے برعکس اگر انسان تھوڑی دیر بھی خلوص کے ساتھ دعا اور عبادت میں گزار لے تو وہ لمحات اس کی روح کے لئے نئی زندگی کا آغاز بن سکتے ہیں۔
آج کے دور میں دنیاوی مشغولیات سے حقیقی علاحدگی کا سب سے بڑا امتحان موبائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ موبائل بظاہر ایک چھوٹا سا آلہ ہے، مگر اس کے ذریعے پوری دنیا انسان کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ اگر کوئی معتکف مسجد میں بیٹھ کر مسلسل فون کالز، پیغامات یا آن لائن معاملات میں مشغول رہے تو وہ عملاً اسی دنیاوی ہنگامے کو مسجد کے اندر لے آتا ہے جس سے بچنے کے لئے وہ اعتکاف میں بیٹھا تھا۔ یہ صورت حال اس شخص کی مانند ہے جو شور سے بچنے کے لئے تنہائی اختیار کرے لیکن اپنے ساتھ شور پیدا کرنے والا آلہ بھی لے آئے۔ ظاہر ہے ایسی تنہائی حقیقی تنہائی نہیں کہلا سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: یہ آیات سنیں: اللہ جسے چاہتا ہے بیٹی یا بیٹا دیتا ہے یا بانجھ رکھتا ہے
اسی لئے اعتکاف کی روح کا تقاضا یہ ہے کہ انسان موبائل اور اس جیسے دیگر ذرائع سے مکمل فاصلہ اختیار کرے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھ کر تجارت، آن لائن ڈیلنگ یا مسلسل گفتگو میں مصروف رہے تو اس کیلئے بہتر ہے کہ وہ اعتکاف سے علاحدہ ہو جائے، تاکہ مسجد کی حرمت متاثر نہ ہو۔ مسجد وہ مقام ہے جہاں دلوں کو سکون اور زبانوں کو ذکر کی عادت ملنی چاہئے۔ اگر اس مقام کو بھی دنیاوی معاملات کا مرکز بنا دیا گیا تو یہ نہ صرف اعتکاف کے مقصد کو کمزور کرتا ہے بلکہ مسجد کے آداب کے خلاف بھی ہے۔
شبِ قدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے، لیکن اس عظیم موقع سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اپنی توجہ کو یکسو رکھ سکے۔ جو شخص اعتکاف میں بیٹھ کر بھی اپنی توجہ رضائے الٰہی کے بجائے دنیاوی مشغولیات میں تقسیم کر دے، دراصل وہ اس خزانے کے سامنے بیٹھ کر بھی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ یہ بالکل اس مسافر کی طرح ہے جو منزل کے قریب پہنچ کر بھی راستے کی غیر ضروری چیزوں میں الجھ جائے اور اصل مقصد سے غافل ہو جائے۔ اسی لئے اعتکاف صرف ایک رسم یا ظاہری عمل نہیں بلکہ ایک باطنی تربیت ہے۔ اس میں تخلیہ، یعنی خود کو دنیا کے ہنگاموں سے الگ کرنا، اور عبادت میں یکسوئی بنیادی شرط ہے۔ جب انسان چند دن کیلئے دنیاوی تعلقات اور مشاغل سے فاصلہ اختیار کرتا ہے تو اس کے دل پر جمی ہوئی بہت سی گرد خود بخود اترنے لگتی ہے۔ یہ کیفیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل روشنی ان لمحوں میں ہے جب بندہ اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برداشت اور تحمل کے نقوشِ نبویؐسے اپنے قول و فعل کو سنوارئیے!
اگر اعتکاف اس شعور کے ساتھ کیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف چند دن کی عبادت تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب معتکف اعتکاف سے واپس آتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی صفائی، نئی حساسیت اور نئی بیداری پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کی حالت اس بچے کی مانند ہو جاتی ہے جو ابھی دنیا میں آیا ہو اور جس کے دامن پر ماضی کے بوجھ نہ ہوں۔ یہی اعتکاف کی اصل روح ہے: چند دن کی تنہائی کے ذریعے ایک نئی زندگی کی ابتدا۔