بیت المقدس اور اس کے احاطے میں مسجد اقصیٰ کا وجود مسلمانوں کے عقیدے سے متعلق ہے، اس کا مسلمانوں کی تاریخ سے نا قابل فراموش اور گہرا تعلق ہے، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے اس تاریخی تعلق کو کسی بھی صورت اسلامی تاریخ سے نکالنا ممکن نہیں کیونکہ یہ امت کی پہچان ہے، یہ امت مسلمہ کی اساسی علامت اور اس کا مقدس مقام ہے جس سے عقیدہ وابستہ ہے۔
ہر مسلمان کا دل ایک بہت اہم مسئلہ سے دوچار ہے اور وہ ہے مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ؛ بیت المقدس قبلہ اول، حرمین شریفین کے بعد تیسری اعلیٰ ترین مسجد اور سید ثقلین ﷺ کی جائے اسرا ہے۔یہ عصر حاضر کا ایسا اہم ترین مسئلہ ہے کہ مسلم معاشرہ کے ہر فرد کے ذہن میں ہر وقت اجاگر رہتا ہے؛ چاہے وہ مسلم معاشرہ بذات خود کسی بھی بحران کا شکار ہو یا ان کے اپنے حالات جس قدر بھی خراب ہوں مسئلہ فلسطین کبھی بھی ذہنوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ بیت المقدس اور اس کے احاطے میں مسجد اقصیٰ کا وجود مسلمانوں کے عقیدے سے متعلق ہے، اس کا مسلمانوں کی تاریخ سے گہرا، ناقابل فراموش اور مضبوط تعلق ہے، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے اس تاریخی تعلق کو کسی بھی صورت اسلامی تاریخ سے نکالنا ممکن نہیں کیونکہ یہ امت کی پہچان ہے، یہ امت اسلامیہ کی اساسی علامت اور امت اسلامیہ کے ہاں مقدس مقام ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آخری عشرہ میں آرام کم عبادت زیادہ کیجئے!
بیت المقدس کو یہ مقام حاصل کیوں نہ ہو! اللہ کی کتاب صبح شام ہمیں یاد کرواتی ہیں اور قرآن کی زبان میں یادکرواتی ہے کہ:
’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجد ِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ (الاسراء:۱)
مسجد اقصیٰ ان تین مساجد میں سے ایک ہے جن کی جانب قرب الٰہی کی جستجو میں رخت سفر باندھا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس بارے میں اللہ کے رسولؐ سے صحیح احادیث ثابت ہیں۔
سر زمین بیت المقدس محشر [جمع ہونے] اور منشر [دوبارہ زندہ ہونے] کی جگہ ہے؛ چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: ”میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتلائیں“ تو آپؐ نے فرمایا: ”جمع ہونے اور زندہ ہونے کی جگہ ہے۔“ (اس روایت کو ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)
بیت المقدس کا اسلام میں بلند مقام ہے، بیت المقدس کی اعلیٰ ترین امتیازی صفات بھی ہیں؛ چنانچہ ابو ذر ؓ کہتے ہیں کہ:” ہم اللہ کے رسولؐ کے پاس آپس میں بات کر رہے تھے کہ کون سی مسجد افضل ہے؟ رسولؐ اللہ کی مسجد یا مسجد بیت المقدس؟“ تو اللہ کے پیارے رسولؐ نے فرمایا: ’’بیت المقدس نماز کے لئے بہترین جگہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ گھوڑے کی رسی کے برابر بیت المقدس سے اتنی قریب جگہ جہاں سے بیت المقدس نظر آئے وہ بندے کے لئے دنیا و ما فیہا سے بہتر ہو۔“( حاکم ، امام ذہبی)
اس حدیث پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے ہاں مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی شان کتنی عظیم تھی۔
یہ بھی پڑھئے: یہ آیات سنیں: اللہ جسے چاہتا ہے بیٹی یا بیٹا دیتا ہے یا بانجھ رکھتا ہے
بیت المقدس کی اسلام میں اتنی فضیلت کیوں نہ ہو! یہ تو اللہ کے رسولؐ کی جائے اسراء ہے، یہاں سے ہی آپؐ کو آسمانوں کی جانب لے جایا گیا۔ سیدنا انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ”میرے پاس براق کو لایا گیا، وہ سفید رنگ کا گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا جانور ہے، وہ اپنا قدم حد نگاہ پر رکھتا ہے، تو میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس پہنچ گیا۔ “ آپؐ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے براق کو کڑے سے باندھ دیا جہاں انبیائے کرام [اپنی سواریاں] باندھتے ہیں۔“آپؐ نے یہ بھی بتلایا کہ: ”پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور وہاں پر دو رکعات ادا کیں، پھر اس کے بعد جبریل علیہ السلام میرے پاس شراب کا برتن اور ایک دودھ کا برتن لائے ؛ تو میں نے دودھ کا انتخاب کیا، تو جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے، اس کے بعد جبریل ہمیں آسمان کی جانب لے گئے۔“(مسلم)
بیت المقدس کے عظیم فضائل میں عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کی روایت بھی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ”جس وقت سلیمان ؑبیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالی سے تین دعائیں مانگیں:(۱) قوت فیصلہ جو اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے عین مطابق ہو۔ (۲)ایسی بادشاہی جو ان کے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ اور (۳) اس مسجد میں نماز کی نیت سے آنے والا کوئی بھی ہو وہ جب یہاں سے واپس نکلے تو اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہے۔ پہلی دو دعائیں تو ان کی قبول ہو گئی تھیں اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی قبول ہو گئی ہو گی۔“( ابن ماجہ علامہ البانی )
بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اسلام میں بہت فضیلت اور امتیازی خوبیاں ہیں، انہی خوبیوں نے بہت سے مسلم علمائے کرام کو مجبور کیا کہ صدیوں سے بیت المقدس کی فضیلت ،شان اور حقوق کے متعلق مستقل تالیفات لکھتے چلے آئیں، چنانچہ اہل علم کی بہت بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی اہمیت اور فضیلت پر کتابیں لکھیں ۔ بہاؤ الدین ابن عساکر کی الجامع المستقصى في فضائل المسجد الأقصىٰ، امین الدین ابن ہبۃ اللہ شافعی کی كتاب الأنس في فضائل القدس، برہان الدین فزاری کیباعث النفوس إلى زيارة القدس المحروس، شہاب الدین احمد بن محمد مقدسی کی مثير الغرام إلى زيارة القدس والشام،حسین حسینی کی الروض المغرس في فضائل البيت المقدس، ابن جوزی کی فضائل القدس اور علامہ سیوطی کی کتاب: اتحاف الأخصاء بفضل المسجد الأقصى وغیرہ ہر دور میں مشہور اور مقبول رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برداشت اور تحمل کے نقوشِ نبویؐسے اپنے قول و فعل کو سنوارئیے!
دنیا کے تمام مسلمان چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک اور خطے سے ہو ، وہ کسی بھی جگہ کے رہائشی ہوں، کسی بھی ایسے اقدام کو تسلیم نہیں کرتے جو مسئلہ قدس اور مسجد اقصیٰ پر منفی اثرات مرتب کرے؛ کیونکہ یہ اسلامی مقدسات ہیں،کسی صورت میں ان کی بے حرمتی کی گنجائش نہیں۔ بلکہ بیت المقدس کے متعلق منفی اقدامات مسلمانوں کو اپنے مسلّمہ حقوق مزید پر زور طریقے سے مانگنے پر ابھارتے ہیں۔ ان کے مطالبے اپنے حقوق لینے، ظالم کو روکنے اور مظلوم کی مدد کے مقررہ اصولوں کے عین مطابق ہیں، ان کے یہ مطالبے سابقہ تمام آسمانی شریعتوں اور عالمی دستور میں بھی موجود ہیں۔ آج پوری دنیا اس قسم کے کسی بھی اقدام کو ان تمام عالمی قرار دادوں کی خلاف ورزی شمار کرتی ہے جس میں واضح ہے کہ بیت المقدس اسلامی دار الحکومت ہے نیز یہ اسلام اور مسلمانوں کے مقدس مقامات میں سے ایک ہے جس کی وہ دل و جان سے قدر کرتے ہیں۔
مسلم اقوام!امت مسلمہ کے مسائل دھواں دھار تقریروں اور زرق برق نعروں کے ذریعے حل نہیں ہوں گے، مذمت، اظہارِ تشویش، احتجاج اور مظاہروں سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا؛ کیونکہ مسلمانوں نے یہ تمام کام پہلے کتنی بار کرلئے ہیں، ماضی میں تسلسل کے ساتھ ان پر عمل رہا ہے، اس کے باوجود یہ ایسا رد عمل ہوتا ہے جو ظلم نہیں روک پاتا، ان سے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوتا، ایسے اقدامات سے مسلح کاروائیوں اور جارحیت میں کمی نہیں آتی، اس لئے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی جانب حقیقی رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف اخلاص اور گڑگڑا کر رجوع لازمی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے حقوق کو تحفظ دینے کیلئے بھر پور کوشش اور محنت بھی ہو۔ امت مسلمہ کی مدد اور فتح دل و جان کے ساتھ دین ِ الٰہی کی مدد سے ہو گی۔
جس دن بھی امت دین الٰہی پر عمل پیرا ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور شریعت کی پابند بن جائے گی، اپنے تمام تر عملی اقدامات حقیقی دین سے حاصل کرے گی تب مؤثر علاج اور مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’اے ایمان والو! اگر تم اﷲ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط رکھے گا۔‘‘ (سورہ محمد:۷)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ تمام تر صحابہ کرامؓ نے مسجد اقصیٰ کو تب آزاد کروایا تھا جب انہوں نے غلبۂ اسلام کے لئے دل و جان سے عملی اقدامات کئے تھے۔ اے برادرانِ ملت! جس دن دلوں پر قرآن و سنت کا راج ہو گا، زندگی کے تمام شعبے عملی طور پر اس کی گواہی دیں گے تب مسلمان کبھی بھی کمزور اور ذلیل نہیں ہوں گے، انہیں کسی قسم کی پستی اور تنزلی کا سامنا نہیں ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالی نے سچا وعدہ بتلا دیا ہے کہ:
’’اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۳۹)
مسلمانوں پر اب وقت آگیا ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کی بنیاد پر باہمی بھائی چارہ قائم کریں، دینی اور دیگر مفادات کے پیش نظر باہمی اختلافات ختم کریں، آپس کے جھگڑوں کا باعث بننے والے اسباب کو جڑ سے نکال پھینکیں۔ باہمی عداوت سے نکل کر اخوت کی جانب، دلی کدورت سے صاف دلی کی جانب، منہ موڑنے کی بجائے دل جوڑنے کی جانب آئیں، ایک دوسرے کی کوتاہیوں سے صرف نظر کریں اور باہمی اتحاد و اتفاق کی راہ ہموار کریں۔ گروہ بندی اور تعصب اتار پھینکیں اور سلف صالحین والی اسلامی اخوت اور ایمانی محبت کی روح کو اپنائیں۔ فرمانِ باری تعالی ہے: ’’اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ (متفرق اور کمزور ہو کر) بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا (یعنی قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (سورہ الانفال:۴۶)۔ یہ آیات ہم بار بار پڑھتے ہیں مگر عمل؟
یہ بھی پڑھئے: لیلۃ القدر انسانی شعور، خود احتسابی اور باطنی بیداری کا عظیم موقع ہے
تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے چاہے وہ کسی بھی منصب پر فائز ہیں کہ اقصی، بیت المقدس، اور فلسطین جیسے بنیادی مسئلے کی حمایت میں صرف اسلام کی بنیاد پر کھڑے ہو جائیں، مؤثر حکمت عملی اپنائیں، پُراثر انداز میں متحد ہوں، ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھیں کہ جن کی بدولت ثمرات سامنے آئیں اور اہداف پورے ہو سکیں، جیسا کہ فرمایا گیا:
’’تم اقدامات کرو؛ تمہاری پیش قدمی کو اللہ، اللہ کا رسول اور مومنین عنقریب ملاحظہ کر لیں گے۔‘‘ (سورہ التوبہ:۱۰۵)