اس ملاقات میں طلبہ سے اے آئی، سوشل میڈیا اور نوجوانوں کے ڈجیٹل رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی، اس پُرشکوہ تقریب میں طلبہ کو تعلیمی انقلاب کی جانب سے چند منفرد اور یادگار تحفوں سے نوازا گیا۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 8:01 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
اس ملاقات میں طلبہ سے اے آئی، سوشل میڈیا اور نوجوانوں کے ڈجیٹل رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی، اس پُرشکوہ تقریب میں طلبہ کو تعلیمی انقلاب کی جانب سے چند منفرد اور یادگار تحفوں سے نوازا گیا۔
اوپر کی تصویر میں: کھڑے ہوئے (دائیں سے): انصاری ندیمہ سعید الرحمٰن، شیخ فرحت محمد مشتاق، سید صندل رضوی احسان سعید، سید صدف رضوی احسان سعید، انصاری طیبہ اسرار احمد، شیخ فاطمہ محمد مشتاق، زارا نسیم اختر انصاری، صائمہ شیخ (رکنِ انقلاب)، شہباز خان (رکنِ انقلاب) ، شاہد لطیف (مدیرِ انقلاب اور تعلیمی انقلاب)، شیخ اُسید گلاب، شیخ مشتاق بدرالحق، وامق خالد شیخ، شیخ عبدالملک عبدالخالد، شیخ عاطف عدنان صادق، افضل عثمانی (رکنِ انقلاب )۔ بیٹھے ہوئے (دائیں سے): انصاری عروسہ نسیم اختر، مومن انسب ارمان نوید اختر، شیخ التمش محمد شمیم، عبدالکریم قاسم علی (رکنِ انقلاب)۔
گفتگو کا آغاز
۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی صبح دفترِ انقلاب کیلئے خاص تھی۔ موقع تھا تعلیمی انقلاب کی ۹؍ ویں سالگرہ کے جشن کا۔ تقریب میں تعلیمی انقلاب سے کم و بیش ۸؍ سال سے وابستہ رہنے والے طلبہ، جو اَب اس اخبار کے کالم نگار بھی ہیں، کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس ملاقات کا مقصد صرف جشن ہی نہیں بلکہ کالم نگاروں کی خدمات کا اعتراف، اور سوشل میڈیا اور اے آئی کے دور میں جین زی کے رجحانات سمجھنے کی کوشش بھی تھا۔
اس غیر رسمی گفتگو کا آغاز رکن انقلاب شہباز خان نے سوال سے کیا کہ نوجوانوں (جین زی)، کی گفتگومیں کون سے ایسے موضوعات ہیں جنہیں پیش رو ۲؍ نسلیں غلط خیال کرتی ہیں ؟ جس کا فوری جواب آیا، ذہنی صحت (Mental Health)۔ اس تعلق سے صدف رضوی نے کہا کہ ’’ڈجیٹل دور میں سہولیات کے ساتھ پیچیدگیاں بھی ہیں۔ آج نوجوانوں کے سامنے ایسے مسائل ہیں جو ۱۰؍ سال پہلے نہیں تھے۔ اور ایک پوری نسل ان مسائل کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ ذہنی سکون اور صحت، پر ہمیشہ سے بات ہونی چاہئے تھی۔ ماہرین نفسیات اسے ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہیں جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ‘‘
عبدالملک نے یہ نکتہ بیان کیا کہ ’’ہمارا ماننا ہے کہ صبح جلد بیدار ہونے کا معنی کامیابی نہیں۔ آج ہمارے پاس بے شمار ٹولز اور آلات ہیں جن کے ذریعے کام جلدی ممکن ہے۔ ہم Night Owl تو نہیں لیکن تخلیقی طریقوں سے کام جلدی کرنے کے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ‘‘
(۱) نوجوانوں ( جین زی)، کی گفتگومیں کون سے ایسے موضوعات ہیں جنہیں پیش رو ۲؍ نسلیں غلط خیال کرتی ہیں؟
(۱) فون کا استعمال صرف تعلیمی کاموں کیلئے کرنا جبکہ نئی نسل کو پڑھائی کے ساتھ تفریح بھی درکار ہے لیکن دونوں میں توازن ضروری ہے۔
(۲) بلا خوف اپنی بات کہنے پر ہمیں بدتمیز کہا جاتا ہے لیکن ہم باخبر ہیں۔ ہم سنجیدہ ہیں مگر طنز و مزاح کے ذریعے اپنی بات کہتے ہیں۔
(۳) جین زی کی روایتی کریئر آپشنز پر توجہ اور ان میں دلچسپی کم ہے جبکہ سابقہ نسل روایتی کریئر آپشنز کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔
(۴) جین زی مالی خود مختاری چاہتی ہے اسلئے پیسے کمانے کے مختلف طریقے آزماتی ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کا انتظار نہیں کرتی۔
(۵) ہم جلدی فیصلہ کرتے ہیں۔ کسی بھی کام میں جلدی سے ناکامی ہوسکتی ہے مگر اس بات کا پچھتاوا نہیں رہے کہ ہم محض سوچ کر رہ گئے۔
(۶) بدلتے وقت کے ساتھ درس و تدریس کا نظام بدلنا چاہئے۔ یہ تناسب ۶۰؍ فیصد (آن لائن) اور ۴۰؍ فیصد (آف لائن) ہو۔
(۲) چند دلچسپ فقرے: شرکاء متفق یا غیر متفق!
کیا نوجوان زیادہ باخبر ہیں، یا ان کے سامنے محض معلومات کا سمندر ہے؟
’’معاملات سے باخبر ہیں لیکن معلومات حد سے زیادہ ہے اسلئے کسی ایک چیز پر ٹھہر کر اس پر غور کرنے یا اس کے زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہیں ملتا۔ ‘‘
کیا سوشل میڈیا نے ہمیں زیادہ مربوط کردیا ہے یا الگ تھلگ؟
’’سوشل میڈیا نے زیادہ مربوط کیا ہے۔ معلومات کا بہاؤ تیز ہے۔ لیکن اگر فون کا انٹرنیٹ آف اور سم سروسیز بند کردی جائیں تو آف لائن دنیا میں ہم تیزی سے الگ تھلگ ہورہے ہیں۔ ‘‘
کیا اے آئی ( مصنوعی ذہانت) تعلیمی نظام کو بدل رہا ہے؟
’’اے آئی تعلیمی نظام کو بدل رہا ہے۔ اساتذہ بھی اے آئی کا سہارا لے رہے ہیں۔ تعلیمی نظام کے اندر اور باہر سبھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘
کیا کالج کی ڈگری کی اہمیت اب بھی باقی ہے؟
’’اب ڈگریوں کی اہمیت نہیں رہ گئی۔ انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد پر کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر ملک میں تعلیم کا موجودہ نظام بہتر نہیں کیا گیا تو آئندہ چند برسوں میں روایتی ڈگریاں بالکل بے کار ہوجائیں گی۔ ‘‘
کیا نوجوانوں کے پاس انتخاب زیادہ، لیکن ان کے متعلق وضاحت کم ہے؟
’’یہ ۱۰۰؍ فیصد درست ہے۔ انتخاب یا Choices اتنی زیادہ ہیں کہ بیشتر موقعوں پر ہم کنفیوژڈ رہ جاتے ہیں۔ بعض دفعہ چیزوں کو Narrow down کرکے سمجھنا پڑتا ہے۔‘‘
(۳) سوال تعلیمی انقلاب کے، جواب جین زی کے
طلبہ کی گفتگو میں حال ہی میں کون سی خبر موضوع بحث رہی؟
ڈیٹا سینٹرز سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگاہی ہوئی۔ اور یہی نہیں بلکہ ہم طلبہ اور ہمارے جاننے والے اس بات پر عمل کر رہے ہیں کہ اے آئی کا کم سے کم استعمال کریں۔
ڈوم اسکرولنگ کے دوران کون سی چیز بریک لگادیتی ہے؟
کریئر سے متعلق کوئی بات یا ریلز، اسکرولنگ روک دیتی ہے۔
کس قسم کے پوسٹس پر طلبہ کمنٹ کرتے ہیں ؟
جب کوئی پوسٹ اسٹڈی مٹیریل کے متعلق ہوتی ہے تو کمنٹ کرتے ہیں تاکہ مواد حاصل کرسکیں۔ علاوہ ازیں، ریج بیٹ جیسی چیزیں جب برداشت سے باہر ہوجائیں تو مجبوراًکمنٹ کرنا پڑتا ہے۔
طلبہ کو کس قسم کا مزاح پسند ہے؟
اسٹیکرز کے ذریعے گفتگو کا سلیقہ یا Lingo کے ذریعے بات چیت۔ ہم To the point باتیں کرنے کے عادی ہیں۔
(۴) ’’اکاؤنٹ بنائیے‘‘ نامی دلچسپ سرگرمی
اس غیر رسمی ملاقات کے آخری حصے میں شرکاء کو۷۔ ۷؍ کے دو گروپ میں تقسیم کیا گیا، اور انہیں کہا گیا کہ وہ ایسا اکاؤنٹ بنائیں جو موجودہ نسل کو انگیج کرسکتا ہو۔ ہر گروپ کو ۲۰؍ منٹ دیا گیا۔
پہلے گروپ نے مشمولات کے طور پر سماجی موضوعات کا انتخاب کیا کہ وہ کسی سماجی مسئلہ سے جڑے اہلکاروں کو عوام کی عدالت میں کھڑا کریں گے اور کسی حالیہ مسئلہ یا تنازع کے متعلق ان سے سوال پوچھ کر یوٹیوب شورٹس اور انسٹاگرام ریلز پر ریلیز کریں گے۔
دوسرے گروپ نے لائف اسٹائل کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنے آپ کو پی آر اکاؤنٹ کے طور پر متعارف کروایا جس کا کام جوڑوں (Couples) کو کلودِنگ برانڈ سے جوڑنا ہے۔ اس طرح وہ مخصوص کپلز کو اپنے اکاؤنٹ پر فیچر ہونے کا موقع دیں گے جبکہ کلودِنگ برانڈ کو اپنے ملبوسات کی تشہیر کرنے اور فیچر ہونے کا موقع ملے گا۔ اس گروپ نے اپنے اکاؤنٹ کو سیاحت اور طرزِ زندگی کے دیگر شعبوں تک وسعت دینے کے بھی ارادے کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: سلطان شمس الدین التمش کا مہمان بننے پر مجھے فخر محسوس ہورہا تھا
جین زی سے ’اَن فلٹرڈ‘ملاقات، ۹؍ اہم نکات
(۱) ذہنی صحت سب سے اہم۔ نوجوانوں نے گفتگو کے آغاز ہی میں ذہنی صحت کو ایسا موضوع قرار دیا جسے سابقہ نسل اکثر نظر انداز کرتی ہے۔
(۲) ڈجیٹل دور نے سہولتوں کے ساتھ نئے مسائل بھی پیدا کئے۔ آج کی نسل کو ایسے مسائل کا سامنا ہے جو ایک دہائی قبل موجود نہیں تھے، اس لئے ذہنی سکون اور ذہنی صحت پر مسلسل گفتگو ضروری ہے۔
(۳) نوجوان اپنی بات بے خوف ہوکر کہنا چاہتے ہیں۔ شرکاء نے کہا کہ ان کی صاف گوئی کو بعض اوقات ’’بدتمیزی‘‘ سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کے نزدیک اپنی رائے کا اظہار باخبر ہونے کی علامت ہے۔
(۴) طنز و مزاح نوجوانوں کیلئے اظہار کا اہم ذریعہ ہے۔ نوجوان سنجیدہ مسائل کو بھی مزاح کے ذریعے بیان کرنے اور ان کے حل پر گفتگو کو مؤثر سمجھتے ہیں۔
(۵) ناکامی سے زیادہ کچھ نہ کرنے کا افسوس۔ شرکاء کے مطابق جلد فیصلہ کرنے میں ناکامی کا امکان ضرور ہے، لیکن صرف سوچتے رہ جانا اور کوشش نہ کرنا بھی قابلِ افسوس ہے۔
(۶) آن لائن اور آف لائن تعلیم میں توازن۔ جین زی نے ۶۰؍ فیصد آن لائن اور ۴۰؍ فیصد آف لائن تعلیم کے تناسب کو موجودہ دور کیلئے زیادہ موزوں قرار دیا۔
(۷) صبح جلد اٹھنا کامیابی کی واحد علامت نہیں۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مختلف آلات کی مدد سے کام کرنے کے طریقے بدل چکے ہیں ؛ کامیابی کا تعلق صرف صبح جلد اٹھنے سے نہیں۔
(۸) کریئر کے روایتی راستے اب واحد راستہ نہیں۔ جین زی گیمنگ، پوڈ کاسٹنگ اور دیگر نئے شعبوں کو بھی کریئر کے امکانات کے طور پر دیکھتی ہے۔
(۹) مالی خودمختاری۔ نئی نسل تعلیم مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہتی بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آمدنی کے مختلف ذرائع تلاش کرنا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا پر طلبہ کون سی چیزیں پسند کرتے ہیں؟
میمز، خبریں، فیشن، اسکن کیئر، بیوٹی ٹپس، ہیلتھ ٹپس، اسپورٹس ایڈٹ، طنز ومزاح کے ذریعے خبروں کو بیان کرنا، اپنے کریئر سے متعلق معلومات، پُرلطف اے آئی ویڈیوز، اے آئی شارٹ ڈراما، اور ہیک ٹرکس وغیرہ۔
یہ بھی پڑھئے: کاغذ کا ٹکڑا ہوا میں آہستہ گرتا ہے مگر پتھر تیزی سے، کیوں؟
اُردو زبان کے برانڈ ایمبسیڈر
ملاقات کے اختتام پر مدیرِ انقلاب اور تعلیمی انقلاب شاہد لطیف نے شرکاء سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’آپ سبھی اردو زبان کے برانڈ ایمبیسیڈر ہیں اور آپ کو اس زبان کی خوبصورتی کو دوسروں تک پہنچانے کا کام کرنا چاہئے۔ مستقبل میں آپ اہم عہدوں اور پروفیشن پر فائز ہوں تاکہ معاشرہ جان سکے کہ اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والا کبھی پیچھے نہیں رہتا۔ ‘‘
کم و بیش ۲؍ گھنٹے پر مشتمل اس گفتگو کے آخر میں شرکاء کو تعلیمی انقلاب کے منفرد تحفوں سے نوازا گیا۔ اس موقع پر اراکینِ انقلاب، عبدالکریم قاسم علی، صائمہ شیخ، افضل عثمانی اور ذوالقرنین انصاری بھی موجود تھے۔