Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ پیپر لیک پر چوطرفہ تنقید، اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بنایا

Updated: May 13, 2026, 7:40 AM IST | New Delhi

راہل گاندھی نےاسے حکومت کی ملی بھگت قرار دیا اور ’ملزم‘ افسران کو نوازنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جتنی بڑی چوری، اتنا بڑا انعام‘‘، دیگر پارٹیوں نے بھی گھیرا

Indian Youth Congress protest against Modi government (Photo: PTI)
مودی حکومت کے خلاف’انڈین یوتھ کانگریس‘ کا مظاہرہ (تصویر: پی ٹی آئی)

ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ۔یو جی۲۰۲۶ء کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے اور اس کے بعد امتحان منسوخ کئے جانے کے حکومتی فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں نے اسے حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اس طرح کے امتحانات شفاف طریقے سے منعقد کرانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے اس معاملے میں حکومت کی ملی بھگت قرار دیا ۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ’’دال میں کچھ کالا ہے، حکومت توجہ نہیں دے رہی اور طلبہ کا مستقبل تباہ کر رہی ہے۔‘‘
 خیال ر ہے کہ۳؍ مئی کو ملک بھر میں۲۲؍ لاکھ سے زائد امیدواروں نے  نیٹ یو جی امتحان دیا تھا، لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا کیونکہ بڑے پیمانے پر یہ الزامات سامنے آئے کہ لیک ہونےوالا مواد اصل سوالیہ پرچے سے کافی حد تک مماثلت رکھتا تھا۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ موجودہ حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) ایک بھی امتحان کو بدعنوانی سے پاک انداز میں منعقد کرانے  میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔۲۰۲۴ء کے تنازعات کے بعد۲۰۲۶ء کے امتحان کا بھی اسی طرح منسوخ ہوجانا  حکومتی دعوؤں اور حفاظتی انتظامات کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، طلبہ اور والدین کا غصہ سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا تک ظاہر ہو رہا ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام میں’منظم بدعنوانی‘ کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس لیڈر اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نےاس منسوخی کو ’نوجوانوں کے مستقبل کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک گھوٹالوں نے امتحانی نظام کی گہری ساختی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ ’’ہر بار پیپر لیک مافیا بچ نکلتا ہے جبکہ ایماندار طلبہ سزا بھگتے ہیں۔‘‘  راہل گاندھی نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’میں ملک کے نوجوانوں کے سامنے ایک سنجیدہ بات رکھنا چاہتا ہوں۔ایک کام کریں خود گوگل کریں اور دیکھیں کہ  ۲۰۲۴ء میں نیٹ امتحان کی چوری کے دوران این ٹی اے کا ڈائریکٹر جنرل کون تھا اور آج مودی حکومت نے اسے کہاں رکھا ہے؟‘‘
 انہوں نے اس دوسری پوسٹ اس بات کی وضاحت کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ان سے ملو! یہ ہیں آئی اے ایس سبودھ کمار سنگھ ۔۲۰۲۴ء میں جب نیٹ کا پرچہ لیک ہوا تھا تو سبودھ کمار سنگھ این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے مودی حکومت نے ایک چال چلی اور انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا،لیکن جیسے ہی عوامی غصہ کم ہوا، انہیں اسٹیل کی وزارت میں پوسٹنگ دے دی گئی اور اب وہ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری ہیں۔‘‘ اس سے آگے وہ لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی حکومت میں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے والوں کو انعامات اور اعلیٰ عہدے دیئے جاتے ہیں۔وجہ صاف ہے کہ بی جے پی حکومت خود اس پیپر لیک اسکینڈل میں شریک ہے جس کا خمیازہ ملک کے محنتی طلبہ بھگت رہے ہیں۔ بی جے پی کا فلسفہ واضح ہے: جتنی بڑی چوری، اتنا ہی بڑا انعام۔‘‘
  ادیشہ کے سابق وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک نے نیٹ یو جی کی منسوخی کو طلبہ کے’اعتماد‘ پر گہرا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب امتحانات کی شفافیت متاثر ہوتی ہے تو اسے صرف انتظامی ناکامی نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ ان لاکھوں امیدواروں کے ساتھ دھوکہ ہے جنہوں نے سخت محنت اور قربانی کے ساتھ تیاری کی تھی۔ 
 سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی مرکز پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیپر لیک ہونے سے عوام کا مقابلہ جاتی امتحانات سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دوبارہ امتحان ہونے پر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پیپر پھر لیک نہیں ہوگا۔ آر جے ڈی لیڈرتیجسوی یادو نے حکمراں جماعت پر۲۲؍ لاکھ طلبہ کا مستقبل برباد کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اب لاکھوں امیدواروں کو دوبارہ امتحانی مراکز تک سفر کرنا پڑے گا، جس سے مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ این سی پی رکن پارلیمان سپریا سلے نے کہاکہ ’’یہ انتہائی افسوسناک اور حیران کن ہے کہ آج کے تکنیکی دور میں بھی اتنی لاپروائی برتی جا رہی ہے۔ میں اس طرح کے واقعات کی سخت مذمت کرتی ہوں۔‘‘ سی پی آئی کے راجیہ سبھا رکن پی سندوش کمار نے مرکز اور این ٹی اے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل پیپر لیک، امتحانی گھوٹالوں اور امتحانات کی منسوخی کے واقعات نے موجودہ حکومت میں امتحانی نظام کی مکمل ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ 
 ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت پر  ملک کی معیشت کی اصل حالت کو چھپانے، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلا اور پیپر لیک معاملے  پر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK