Updated: May 13, 2026, 8:06 PM IST
| Los Angeles
کرسٹوفر نولن نے اپنی آنے والی فلم The Odyssey میں Travis Scott کی کاسٹنگ پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریپ دراصل قدیم زبانی شاعری کی جدید شکل ہے۔ نولن کے مطابق، ہومر کی مشہور یونانی رزمیہ ’’اوڈیسی‘‘ صدیوں تک زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوتی رہی، اسی لیے انہوں نے ٹریوس اسکاٹ کو بطور بارڈ یا داستان گو منتخب کیا۔
کرسٹوفر نولن۔ تسویر: آئی این این
کرسٹوفر نولن نے بالآخر اپنی آنے والی مہاکاوی فلم The Odyssey میں Travis Scott کی کاسٹنگ پر ہونے والے تنازع پر خاموشی توڑ دی ہے۔ ہدایت کار نے وضاحت کی کہ ریپر کو فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ محض ’’ٹرینڈ‘‘ یا ’’شاک ویلیو‘‘ کے لیے نہیں بلکہ قدیم یونانی زبانی داستان گوئی کی روایت سے گہرے فکری تعلق کی بنیاد پر کیا گیا۔ ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نولن نے کہا کہ ’’میں اس خیال کی طرف اشارہ کرنا چاہتا تھا کہ یہ کہانی زبانی شاعری کے طور پر نسلوں تک منتقل ہوئی، اور ریپ اسی روایت کا جدید مساوی ہے۔‘‘ نولن کے یہ تبصرے اُس شدید ردعمل کے بعد سامنے آئے ہیں جو فلم کے ابتدائی ٹیزر ریلیز ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا۔ ٹیزر میں ٹریوس اسکاٹ کو ایک بارڈ نما کردار میں دکھایا گیا تھا جو ڈرامائی انداز میں ٹروجن جنگ اور اوڈیسیئس کے سفر کا بیان کرتا نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ ۲۴؍ جون سے ڈزنی پلس پر اسٹریمنگ کیلئے تیار
کلپ میں اسکاٹ کی آواز سنائی دیتی ہے:’’ایک جنگ… ایک آدمی… ایک چال…‘‘ یہ مختصر منظر آن لائن بحث کا مرکز بن گیا۔ کچھ ناقدین نے کاسٹنگ کو ’’زبردستی جدیدیت‘‘ قرار دیا جبکہ دوسروں نے اسے قدیم شاعری اور جدید ریپ کلچر کے درمیان ایک تخلیقی ربط کہا۔ کئی صارفین نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہومر کی رزمیہ شاعری خود بھی موسیقی، ردھم اور زبانی پرفارمنس پر مبنی تھی، جسے ریپ سے جوڑنا غیر منطقی نہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹریوس فلم میں ایک ’’بارڈ‘‘ یا داستان گو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یونانی ثقافت میں بارڈ ایسے شاعر اور گلوکار ہوتے تھے جو رزمیہ داستانیں عوام تک پہنچاتے تھے۔ بعض قیاس آرائیاں یہ بھی ہیں کہ وہ ہومر کے مشہور کردار ’’ڈیموڈوکس‘‘ کی عکاسی کر سکتے ہیں، اگرچہ اس کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے : شارب ہاشمی کی اہلیہ نسرین کا منہ کا کینسر چھٹی بار واپس آگیا
خیال رہے کہ یہ کرسٹوفر نولن اور ٹریوس اسکاٹ کا پہلا اشتراک نہیں ہے۔ اس سے قبل اسکاٹ نے نولن کی فلم ’’ٹیننٹ‘‘ کیلئے ’’دی پلان‘‘ نامی گانا تیار کیا تھا۔ نولن نے اُس وقت بھی اسکاٹ کی تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کی تھی، اور مبینہ طور پر دونوں کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات اسی دوران مضبوط ہوئے۔ واضح رہے کہ ’’دی اوڈیسی‘‘ کو نولن کے کریئر کا اب تک کا سب سے بڑا اور مہنگا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً ۲۵۰؍ ملین ڈالر کے بجٹ سے بننے والی اس میٹ ڈیمن مرکزی کردار اوڈیسیئس ادا کر رہے ہیں، جبکہ اینی ہیتھوے پینی لوپ کے کردار میں دکھائی دیں گی۔ ٹام ہالینڈ مبینہ طور پر اوڈیسیئس کے بیٹے ٹیلیماکس کا کردار نبھا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ رابرٹ پیٹنسن، زینڈایا، لوپیتا نیونگ، شارلیز تھیورن اور ٹریوس اسکاٹ بھی فلم کا حصہ ہیں۔ یہ فلم قدیم یونانی شاعر ہومر کی مشہور رزمیہ داستان اوڈیسی پر مبنی ہے، جس میں ٹروجن جنگ کے بعد اوڈیسیئس کی خطرناک گھر واپسی کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ داستان میں سائیکلوپس، سائرنز اور کیلیپسو جیسی افسانوی مخلوقات شامل ہیں، جنہیں نولن نے مبینہ طور پر زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
فلم پہلے ہی کئی دیگر آن لائن مباحث کا موضوع بن چکی ہے، جن میں تاریخی درستگی، ملبوسات کے ڈیزائن اور جدید اندازِ پیشکش شامل ہیں۔ بعض ناقدین نے اس منصوبے کا موازنہ ہندوستانی فلم ’’آدی پروش‘‘ سے بھی کیا، جسے جدید تشریح کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم نولن نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ہر ’’خالص پسند‘‘ تشریح کو خوش کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا سنیمائی تجربہ تخلیق کرنا ہے جو ہومر کی روح کو محفوظ رکھتے ہوئے نئی نسل کو بھی متاثر کرے۔