Inquilab Logo Happiest Places to Work

سچن تینڈولکر دیہی بچوں کی ’’جگاڑ کار‘‘ دیکھ کر متاثر، ویڈیو وائرل

Updated: May 13, 2026, 8:10 PM IST | Mumbai

سچن تینڈولکر نے دیہی ہندوستان کے سفر کے دوران گاؤں کے بچوں کی بنائی گئی ایک ہاتھ سے تیار ’’کار‘‘ دیکھ کر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف کی۔ اسکریپ میٹریل، لکڑی اور عارضی پہیوں سے تیار کی گئی اس چھوٹی گاڑی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تینڈولکر نہ صرف بچوں سے ملے بلکہ ان کی اختراع اور ٹیم ورک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصل ٹیلنٹ کامل سہولیات کا محتاج نہیں ہوتا، اسے صرف ایک موقع درکار ہوتا ہے۔

Sachin Tendulkar. Photo: INN
سچن تینڈولکر۔ تسویر: آئی این این

سچن تینڈولکر ایک بار پھر اپنی عاجزی اور عام لوگوں سے جڑاؤ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ اس بار سابق ہندوستانی کپتان نے دیہی ہندوستان کے سفر کے دوران گاؤں کے چند بچوں کی بنائی ہوئی ایک عارضی ’’کار‘‘ دیکھ کر نہ صرف رکنے کا فیصلہ کیا بلکہ ان کی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کی کھل کر تعریف بھی کی۔ یہ لمحہ اُس وقت کیمرے میں قید ہوا جب تینڈولکر دیہی علاقے سے گزر رہے تھے اور انہوں نے سڑک کنارے بچوں کو ایک ہاتھ سے تیار کردہ چھوٹی گاڑی چلاتے دیکھا۔ ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ بچوں نے لکڑی کے فریم، لوہے کے ٹکڑوں اور عارضی پہیوں کی مدد سے ایک کارٹ نما گاڑی تیار کی تھی۔ ایک بچہ اس کے اندر بیٹھا تھا جبکہ دوسرے بچے اسے دھکیل کر یا کھینچ کر آگے بڑھا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے : ایس آر ایچ کے خلاف سنچری بناکر کوپر کونولی نے ریکارڈز اپنے نام کیے

اگرچہ یہ گاڑی انتہائی سادہ اور مقامی وسائل سے بنائی گئی تھی، لیکن اس کے پیچھے موجود تخلیقی سوچ نے سچن کو متاثر کیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی گاڑی سے باہر نکلتے ہیں، بچوں سے بات کرتے ہیں اور قریب جا کر اس منفرد ایجاد کا معائنہ کرتے ہیں۔ بعد ازاں تینڈولکر نے یہ ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان کے بہت سے پوشیدہ کونوں میں سے ایک سے گزرتے ہوئے، ہم ایک ایسی ’کار‘ دیکھنے کے لیے رکے جو کسی شو روم سے نہیں بلکہ خالص تخیل سے پیدا ہوئی تھی۔‘‘ انہوں نے بچوں کے جذبے کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ ’’یہ وہ ٹیلنٹ ہے جو کامل حالات کا انتظار نہیں کرتا… بس موقع ملنا چاہیے!‘‘

یہ ویڈیو چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہوگیا اور ہزاروں صارفین نے بچوں کی ذہانت کے ساتھ ساتھ تینڈولکر کے رویے کو بھی سراہا۔ کئی صارفین نے ان بچوں کو ’’مستقبل کے انجینئرز‘‘ قرار دیا جبکہ دوسروں نے کہا کہ حقیقی اختراع اکثر محدود وسائل میں جنم لیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ’’دیسی جگاڑ‘‘ کی اصطلاح بھی دوبارہ زیرِ بحث آگئی۔ ہندوستان میں ’’جگاڑ‘‘ سے مراد محدود وسائل کے باوجود تخلیقی اور مؤثر حل نکالنا ہے۔ متعدد صارفین نے اس ہاتھ سے بنی گاڑی کو ’’اصلی میڈ اِن انڈیا روح‘‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ بچے شاید بڑے شہروں کی لیبارٹریوں میں نہیں پڑھتے، لیکن ان کے پاس تخیل اور ہنر کی کوئی کمی نہیں۔‘‘ دوسرے صارف نے تبصرہ کیا، ’’ہندوستان کا اصل ٹیلنٹ دیہات میں چھپا ہوا ہے، بس اسے پہچاننے اور سہارا دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

اس واقعے نے دیہی ہندوستان میں موجود خام تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے لیے مواقع کی کمی پر بھی نئی گفتگو چھیڑ دی ہے۔ کئی صارفین اور ماہرین نے زور دیا کہ ایسے بچوں کو تکنیکی تعلیم، رہنمائی اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ ان کی اختراعی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔ سچن نہ صرف کرکٹ کے میدان میں اپنی کامیابیوں کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی اور عام ہندوستانیوں کی کہانیوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھی ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر ان کی اسی عوامی شبیہ کو مضبوط کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK