Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرایس ایس کا کردار سوالوں کی زد پر، جبکہ تنظیم اپنی شبیہہ بہتر بنانے میں مصروف

Updated: May 13, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

آر ایس ایس تنظیم کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ تنظیم نے عالمی پیمانے پر اپنی شبیہہ بہتر بنانے کیلئے ایک مہم کا آغاز کیا ہے، اس کے اعلیٰ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان اجلاس کا مقصد تنظیم کے بارے میں ان کے بقول ’’غلط فہمیوں‘‘کا ازالہ کرنا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو درپیش نفرت، تشدد اور امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے ماحول میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کردار پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر جب اس تنظیم نے مغربی ممالک میں اپنی تصویر بہتر کرنے کے لیے ایک نئی بین الاقوامی مہم شروع کی ہے۔دراصل آر ایس ایس، حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست تنظیم ہے، نے امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت مختلف ممالک میں اجلاس منعقد کرنے شروع کر دیے ہیں۔ آر ایس ایس کے اعلیٰ لیڈروںکا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں کا مقصد تنظیم کے بارے میں ان کے بقول ’’غلط فہمیوں‘‘ کا ازالہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں، مسلم تنظیمیں اور مذہبی آزادی پر نظر رکھنے والے ادارے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک پر بارہا تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لاکھوں طلبہ کے ساتھ دھوکہ، نیٹ امتحان منسوخ، چوطرفہ غم و غصہ

منگل کو جاری ایک بیان میں آر ایس ایس عہدیداروں نے کہا کہ تنظیم کے نمائندے باقاعدگی سے بیرون ملک سفر کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آر ایس ایس کوئی نیم فوجی گروپ نہیں اور نہ ہی وہ اقلیتوں کے خلاف حملوں کی حمایت کرتا ہے۔برسوں سے آر ایس ایس اور اس کی وابستہ متعدد تنظیمیں کارکنوں، ماہرین تعلیم اور اقلیتی گروہوں کی تنقید کا نشانہ بنی رہی ہیں، جو ان پر ہندو اکثریتی سیاست کو فروغ دینے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہپیدا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ہندوستان میں متعدد مسلم گروپوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملک کا ماحول تیزی سے بدلا ہے، جہاں نفرت انگیز تقاریر، بھیڑ کے تشدد، بلڈوزر کارروائیاں اور مسلمانوں کے خلاف آن لائن مہم عام ہو گئی ہیں۔جبکہ آر ایس ایس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی اتحاد اور ثقافتی اقدار کے لیے کام کر رہا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ تر سنگھ پریوار سے منسلک لیڈران کی تقاریر اکثر اقلیتوں کے خلاف بد اعتمادی اور دشمنی کو مزید گہرا کرتی ہیں۔آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابلے نے حال ہی میں دہلی میں تنظیم کے نئے تعمیر کردہ ہیڈکوارٹر میں غیر ملکی صحافیوں سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کو بیرون ملک غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا کہ تنظیم کے بارے میں جھوٹے بیانیے پھیلائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم بیرون ملک لوگوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے ان غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آر ایس ایس کے وفود مختلف ممالک میں ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ یہ مہم صرف چند ماہ بعد شروع ہوئی ہے جب امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی ایک رپورٹ میں آر ایس ایس کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا تھا۔کمیشن نے الزام عائد کیا تھا کہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہگروپوں نے دہائیوں سے اقلیتی برادریوں، خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کا ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ امریکی ادارہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے حالات کی نگرانی کرتا ہے اور امریکی انتظامیہ اور کانگریس کو مشورہ دیتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازع میں مسلم فریق نے اے ایس آئی کی تحقیقات کو چیلنج کیا

آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم قرار دیتا ہے جو ہندو اتحاد اور ہندوستانی تہذیب کے لیے کام کر تی ہے۔۱۹۲۵ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم ملک کے سب سے زیادہ بااثر نظریاتی نیٹ ورکس میں سے ایک بن چکی ہے، جس کی درجنوں وابستہ شاخیں تعلیم، سیاست، مزدوری اور مذہبی امور میں سرگرم ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ابتدائی سالوں میں آر ایس ایس سے منسلک رہے اور اب بھی اس کے نظریاتی پس منظر سے وابستہ ہیں۔
بعد ازاں آر ایس ایس ماضی کے تاریخی واقعات کی وجہ سے بھی ایک متنازعہ تنظیم رہی ہے۔۱۹۴۸ء میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد، ہندوستانی حکومت نے اس تنظیم پر پابندی لگا دی تھی۔ گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا ماضی میں آر ایس ایس سے تعلق رہا تھا، حالانکہ تنظیم طویل عرصے سے اس قتل میں ادارہ جاتی ملوث ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔متعدد مسلم اسکالرز کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ بیرون ملک عوامی تعلقات نہیں بلکہ ہندوستان کے اندر عام مسلمانوں کو درپیش حالات ہیں۔مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے ایک قومی لیڈر نےکہا، ’’ہندوستانی مسلمانوں کو بیرون ملک امیج بلڈنگ کیمہم  کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں اندرون ملک  تحفظ، مساوی حقوق، انصاف اور وقار کی ضرورت ہے۔‘‘مبصرین کا خیال ہے کہ آر ایس ایس کی بین الاقوامی مہم کو حقوق کی تنظیموں اور ماہرین تعلیم کی جانب سے مسلسل سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا، جنہوں نے پچھلے کئی سالوں میں ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔جیسے جیسے تنظیم اپنی عالمی رسائی بڑھا رہی ہے، ہندوستان میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کی حالت زار پر بحث بین الاقوامی منظر نامے پر آنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK